گھر کے کمرے میں ایک ہی آواز گونج رہی تھی۔ ہر طرف کی دلی چپ، کوئی بات کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔ کوئی نہ کسی سے بات کرتا، نہ کوئی کسی کو تسلی دیتا۔ گھر میں ایک ایسا سکوت چھایا تھا جیسے ہر فرد اپنے آپ میں گم ہو، ایک دوسرے سے دوری بنائے ہوئے، ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوں۔
لیکن اس سکوت کے بیچ، ایک چھوٹی سی آواز سنائی دی، ایک بچی کی جو کبھی نہیں ہارتے ہوئے، امید کا چراغ جلاتی ہے۔ اس کا نام مریم تھا۔ چھوٹی سی، نرم سی، مگر دل میں کچھ بڑی باتیں سموئے ہوئے، جو اس کے لہجے میں پوشیدہ تھیں۔
مریم کو ہمیشہ سے اپنے والدین کے درمیان چپ، بدگمانی اور لڑائیاں دیکھ کر افسوس ہوتا تھا۔ ایک دن، جب وہ اپنے اسکول سے واپس آئی، اس نے اپنی استاد سے سنا کہ “السلام علیکم” ایک بہت بڑی برکت ہے، اور یہ کہ اس کے ذریعے ہم نہ صرف اللہ کی رحمتیں حاصل کر سکتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے دلوں میں محبت اور سکون کا پیغام بھی پہنچا سکتے ہیں۔
اس دن سے مریم نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے گھر کے ماحول میں تبدیلی لانے کے لیے ہر دن سب سے پہلے سب کو سلام کرے گی۔ اس نے یہ بات اپنے دل میں بٹھا لی کہ اگر وہ سلام کرنے کی عادت ڈالے گی تو گھر میں سکون آئے گا۔ اس نے سب سے پہلے اپنے والدین کو سلام کیا، پھر بھائیوں اور بہنوں کو۔ ایک دن، اس نے اپنے بھائی احمد سے کہا، “بھائی، آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہمیں کس طرح اللہ کے نام کا ورد کرنا چاہیے؟ ‘السلام علیکم’ کہنے سے ہمیں اس کے رحمتیں ملتی ہیں اور ہمارے دلوں میں محبت بڑھتی ہے۔”
شروع میں احمد نے مذاق اُڑایا اور کہا، “مریم، تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ سلام سے کچھ نہیں ہوتا۔” مگر مریم نے ہمت نہیں ہاری اور روزانہ اللہ کے نام کا پیغام دیتی رہی۔
ایک دن، احمد نے خود ہی مریم سے کہا، “کیوں نہ ہم سب ایک دوسرے کو سلام کریں؟” مریم کی آنکھوں میں چمک تھی اور اس کے چہرے پر ایک نرم مسکراہٹ۔ اس کے بعد احمد نے اس تبدیلی کو اپنے والدین تک پہنچایا۔
جب والدین نے اپنی بیٹی اور بیٹے کے درمیان یہ تبدیلی دیکھی، تو انہوں نے بھی اس پر عمل کیا۔ اور اس کے بعد کچھ ہی دنوں میں اس گھر کے ماحول میں ایک نئی تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ ہر فرد نے ایک دوسرے کو سلام کیا، اور اس چھوٹی سی تبدیلی نے گھر کی فضا میں سکون اور محبت کے پھول کھلا دیے۔
“السلام علیکم” ایک چھوٹا سا کلمہ ہے، مگر اس کے ذریعے اللہ کی رحمت اور سکون کا دروازہ کھلتا ہے۔ اس گھر میں، جہاں کبھی لڑائیاں ہوتی تھیں، اب ہر طرف محبت اور سکون کا ماحول تھا۔
مریم کی چھوٹی سی کوشش نے گھر میں ایک نئی زندگی کی روشنی ڈالی، اور اس کے دل میں یہی یقین پیدا ہوا کہ ہر دل میں محبت کا دروازہ کھولنا صرف “السلام علیکم” کے لفظ سے ممکن ہے۔ اللہ کا نام ہے “السلام”، یعنی وہ جو ہمیں سلامتی دے، اور مریم نے اس کا پہلا پھول اپنے گھر میں کھلایا۔
گھر والوں نے محسوس کیا کہ ایک چھوٹے سے لفظ نے نہ صرف ان کے دلوں کو جیت لیا، بلکہ اس کے ذریعے اللہ کی رحمتیں بھی ان کے گھروں میں آنا شروع ہو گئیں۔
اب، جب بھی وہ گھر کے کمرے میں قدم رکھتے، ان کے درمیان کوئی بات نہ ہوتی مگر ایک “السلام علیکم” کی گونج ہوتی، اور وہ جانتے تھے کہ یہ سلام صرف ایک لفظ نہیں، بلکہ ایک ایسا پیغام ہے جو دلوں کو جوڑتا ہے، محبت بھری فضا میں سکون لاتا ہے۔
اللہ کی برکتوں کے لیے، سلام کی طاقت کو کبھی نظرانداز نہ کریں۔