260

سکون کہاں ہے؟

تحریر شئیر کریں

جانیے ذہنی سکون کے راز

دنیا کے ہنگاموں، ٹریفک کے شور، دل کی الجھنوں اور ذہن کی تھکن میں انسان سکون کہاں ڈھونڈے؟
انسان جدید دور میں سکون کے لیے ہزاروں طریقے آزما چکا ہے — مہنگے تھراپسٹ، میڈیٹیشن ایپس، تفریحی سفر — لیکن پھر بھی دل خالی رہتا ہے۔
ایسے میں قرآن اور سنت ہمیں بتاتے ہیں کہ اللہ نے حقیقی سکون تین چیزوں میں رکھا ہے:

—

1. نماز — روحانی سکون کا ذریعہ

نماز صرف فرض عبادت نہیں، بلکہ دل کی دوا ہے۔
سجدے کی زمین پر پیشانی رکھ کر انسان زمین سے جڑتا ہے، اور آسمان سے جُڑ جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔”
(سنن نسائی)

جب دنیا تھکا دے، لوگ چھوڑ دیں، دل ٹوٹ جائے — تب ایک سجدہ کافی ہوتا ہے۔
تحقیق بھی بتاتی ہے کہ باقاعدہ نماز پڑھنے والے افراد میں ڈپریشن، انزائٹی اور بےچینی کم ہوتی ہے۔

—

2. عورت — دل کا سکون

قرآن کہتا ہے:
“اور اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان سے سکون پاؤ۔”
(سورہ روم: 21)

اسلام نے عورت کو صرف صنف نازک نہیں کہا، بلکہ سکون کا سرچشمہ قرار دیا۔
ماں ہو، بیوی ہو یا بیٹی — ایک نیک عورت گھر کو جنت بنا سکتی ہے۔
ایسی عورت جو اپنے رب سے جُڑی ہو، اپنے شوہر کی مددگار، بچوں کی معلمہ اور خاندان کی بنیاد ہو — وہ سراپا رحمت ہے۔

—

3. رات — خاموشی میں سکون

دن کی دوڑ دھوپ کے بعد رات اللہ کی طرف رجوع کا وقت ہے۔
قرآن کہتا ہے:
“اور ہم نے رات کو لباس (سکون و آرام) بنایا۔”
(سورہ النبأ)

رات کا سکون صرف نیند کے لیے نہیں، بلکہ تہجد، دعا، توبہ اور تفکر کے لیے ہے۔
یہی وہ وقت ہے جب رب کی رحمت پکارتی ہے:
“ہے کوئی مانگنے والا؟ میں دوں؟ ہے کوئی مغفرت چاہنے والا؟ میں معاف کروں؟”

رات کی تنہائی میں مانگی گئی دعائیں، دن کی مصروفیت سے زیادہ اثر رکھتی ہیں۔

—

4. موجودہ دور میں تینوں شعبے زوال پذیر ہیں

یہ حقیقت ہے کہ جن تین چیزوں میں اللہ نے سکون رکھا — آج ہم نے انہی کو کھو دیا ہے:

نماز گئی: موبائل، مصروفیت اور غفلت نے نماز کا وقت چھین لیا۔

عورت گھر سے نکلی: مجبوری، فیشن یا آزادی کے نام پر عورت گھر کی سکون بھری فضا سے دور ہو گئی۔

رات نیٹ سرفنگ میں گزرنے لگی: وہ راتیں جو اللہ سے قربت کے لیے تھیں، اب اسکرینز کی نذر ہو چکی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آج دل بےچین، رشتے کمزور، اور ذہن الجھے ہوئے ہیں۔ سکون صرف اُسی وقت واپس آئے گا جب ہم اللہ کی دی ہوئی ان تین نعمتوں کو پھر سے زندگی کا حصہ بنائیں گے۔

آج کا انسان سکون کے لیے بھٹک رہا ہے۔
حالانکہ اللہ نے فرمایا:
“دلوں کا سکون صرف اللہ کے ذکر میں ہے۔”
(سورہ رعد: 28)

نماز، عورت اور رات — یہ تینوں صرف ظاہری اشیاء نہیں بلکہ اندرونی سکون کے تین دروازے ہیں۔
جب ہم ان دروازوں کو کھولیں گے، تب ہی ہمیں حقیقی اطمینان ملے گا۔

سکون کہاں ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں