ثناء سفید سوٹ کو بڑے غور سے دیکھ رہی تھی۔جو اس کی بیوگی پہ اسے پہنا دیا گیا تھا۔سفید رنگ تو بڑا متبرک ہوتا ہے۔پر یہ رنگ اس لمحے اسے کسی ناگ سے مشابہہ دکھ رہا تھا۔جس نے اس کی زندگی کے سارے رنگ نگل لیے تھے۔کیا بیوہ ہونا اتنا بڑا جرم ہے کہ رنگ بھی چھوڑ دیے جائیں۔رنگ تو ایک طرف اسے گھر کے چھوٹے بڑے کو ئی آسیب سمجھتے تھے اگر غلطی سے بھی آمنا سامنا ہو جاتا تو سے منہ پھیر کے گزر جاتے
۔۔جب تک اماں زندہ رہیں اسے گھرمیں چلنے پھرنے کا حق حاصل تھا ۔جب سے وہ دنیا سے گئ ہر چیز اس کے لیے ممنوع ٹھہری تھی۔
ایک کمرہ اس کی کل پناہ گاہ تھا جہاں تین وقت کا کھانا رکھ دیا جاتا۔اس کا دل چاہتا تو کھا لیتی۔نہیں تو پڑا رہتا ۔وہ بہت سوچتی کہ کیا رسم رواج اتنے اہم ہوتے کہ ان کے آگے خون کے رشتے بھی ہیچ ہو جاتے؟۔شادی کے تین ماہ بعد بیوہ ہونے والی اس سیاہ بخت کو کون سمجھاتا یہ ریت رواج ہر چیز سے بڑھ کر ہوتے۔
دس سال بیت گۓ تھے ثناء کو سیاہ بختی کس چولا پہنے ایک کونے میں بین کرتے۔مگر اس کی بیوگی ختم ہونے میں نا آ رہی تھی۔اسے اچھی طرح یاد ہے سکول میں ٹیچر نے بتایا تھا بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن ہوتی ہے۔اس کے چار ماہ دس دن اتنے طویل کیسے ہوگۓ تھے۔کیا شاہ زین کو میں نے مارا تھا جو اس کے مرنے کی سزا بھگت رہی ہوں۔اس کا دماغ پکتا رہتا ۔حسرتیں اب طوفان بننے لگی تھی۔غم غصے اور انتقام میں بدلنے لگا تھا۔یہ سارے منفی جذبے اب کچھ کرنے کے در پہ تھے۔
ثناء کا دل اس وقت کسی مٹھی میں آ جاتا جب جب بھائی اور بھابھیوں کے کمروں سے قہقوں کی آوازیں گونجتیں۔اس لمحے اس کا دل چاہتا وہ اپنے چار بھائیوں اور انکی بیویوں پہ تیل چھڑک کر آ گ لگا دے۔
ثناء پر اب ہسٹریائی کیفیت طاری ہونے لگی تھی۔مگر پرواہ کس کو تھی۔پرواہ تھی تو اس بات کی کہیں کسی خوشی کے منظر پر اس سیاہ نصیب کی نظر نا پڑ جاۓ۔کہیں کوئی حسد بھری نظر اس گھر کے مکینوں کی خوشیوں کو نا کھا جاۓ۔
یہ بھی پڑھیے
دماغ کو پرسکون کیسے کر سکتے ہیں؟
اس کے نصیب کو گرہن لگے گیارھواں سال تھا جب وہ کمرے میں آتی ٹی وی کی آواز پہ کان لگاۓ اپنے دماغ کو مصروف رکھنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔۔۔آج کل اس کے دماغ میں ہر وقت انتقامی خیالات آتے رہتے۔جن سے پیچھا چھڑانے کے لیے وہ لاونج میں چلتے ٹی وی پر دماغ اٹکانے کی کوشش کرتی تھی۔یہ ٹی وی اس گھر میں واحد اثاثہ تھا جسے وہ دیکھ تو نہیں مگر سن سکتی تھی۔
غالبا کو ئی ٹاک شو تھا۔موضوع گفتگو عورت مارچ تھا۔عورت کے حق میں بولنے والی وہ کوئی بڑی دبنگ عورت تھی۔جو اسے بڑی مہربان سی لگی اور بالمقابل کو ئی عالم دین اسلام کی روشنی میں عورت کی عظمت گنوا رہا تھا جس کا حقیقت میں کوئی وجود نا تھا۔ثناء کو وہ عالم دین بھی اپنے گھر والوں کی طرح کوئی جن بھوت دکھ رہا تھا جس کا سیاہ چہرہ ہو اور اس پر لمبے لمبے دانت ہوں جو منہ کھولے اسے اپنی طرف بڑھتے دکھائی دیے ہوں۔۔کمرے میں بیٹھی اس سیاہ نصیب نے خوف سے جھرجھری لی اوراتنی سردی میں بھی وہ پسینے میں بھیگ چکی تھی۔اس کے سانسوں کی رفتار بڑھ رہی تھی۔لگتا تھا دل اچھل کر باہر آ جاۓ گا۔اچانک ایک کوندا سا لپکا تھا۔سیاہ اندھیری رات میں روشنی کا در کھلنے کا سندیسہ
ساہ بختی کے اس چولے کو اتار پھینکنے کا ایک روزن کھلا تھا۔کوئی امید دکھائی دی تھی۔”عورت مارچ “
اب وہ تیزی سے دن گن ریی تھی آٹھ مارچ آنےکے۔جب وہ عورت مارچ میں شامل ہوکر اس گھر اور اس کے مکینوں کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دے گی۔اب وہ کمرے میں ادھر ادھر چل کر اپنے دماغ میں تانے بانے بن رہی تھی۔دور کھڑا شیطان ہنس رہا تھا۔بنت حوا کے بھول پن پر جو اپنوں کے ہاتھوں یوں مسل دیے جانے پر اپنے حواس کھو بیٹھی تھی اور اب انتقام کی پٹی باندھ کر سیاہ بختی کی ازلی چادر اوڑھنے والی تھی۔