سیدنا ابوبکرؓ کا مطلقہ ماؤں پر احسان جسے آج بھی قانون دان فالو کرتے ہیں ۔
بچے کے لیے ماں کا وجود کتنا لازم و ملزوم ہے۔بارہا دیکھا اور محسوس کیا۔اکیلی ماں تن تنہا بچوں کو پال لیتی ہے۔جبکہ اس کے مقابلے میں باپ کی مثال کم ملتی ہے۔باپ اکثر دوسری شادی کر کے مصروف ہو جاتے ہیں اور بچوں کو سوتیلی ماں کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا جاتا ہے۔معصوم سے دل رکھنے والے یہ بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو نفسیاتی مسائل کو ساتھ لے کر بڑے ہوتے ہیں۔ان میں سے بڑی تعداد جرائم اور نشے کی لت میں پڑ کر زندگی سے دور ہو جاتی ہے۔
ماں کی گود وہ انمول چیز ہے جس کی تمنا نبیوں نے کی ہے۔یہ وہ گود ہے جو بچے کو زمانے کے سردو گرم سے بچاتی ہے۔چاہے خود بے اسرا اور بے سہارا ہو مگر بچوں کے لیے تناور چھاؤں دینے والا درخت بن جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سیدنا ابوبکر ؓ پہ کتاب کا مطالعہ کرتے ہوۓ ایک واقعے نے چونکا دیا تھا۔واقعہ کچھ یوں تھا کہ حضرت عمر ؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔اس کی گود میں بچہ تھا۔بچہ جب دودھ پینے کی عمر گزار چکا تو حضرت عمر ؓ نے لینا چاہا۔۔۔جس پر اس بچے کی ماں اس وقت کے خلیفہ حضرت ابوبکر ؓ کے پاس پہنچیں۔کیا مبارک وقت تھا جب ایسے حکمراان تھے جو دسترس میں بھی تھے اور باانصاف بھی۔۔۔۔ماں نے سارا واقعہ سیدنا ابوبکر ؓ کے گوش گزار کیا۔سیدنا ابوبکر ؓ کمال حکمت سے فیصلہ کیا جو آج بھی قانون دانوں کے لیے سند رکھتا ہے۔اور جدید قانون میں ا سی کو فالو کیا جاتا ہے۔
آپ ؓ نے فرمایا بچہ ماں کے پاس رہے گا۔جب جوان ہوجاۓ گا تو خود اپنی مرضی سے جہاں رہنا چاہے۔روایت ہے “اس بچے کے لیے ماں کی محبت و شفقت ،اس کی گود اور بستر تمہاری نسبت بہتر ہے۔حتی کہ بچہ جوان ہو جاۓ۔اور اپنا فیصلہ خود کر لے کہ وہ کس کے پاس رہنا چاہتا ہے۔”
دوسری روایت کے الفاظ کچھ اس طرح سے ہیں
“ماں زیادہ مشفق و مہربان ،زیادہ رحم و دل ،زیادہ محبت کرنے والی اور زیادہ نرم مزاج ہےاور جب تک دوسری شادی نہ کرے تب تک وہ بچے کی زیادہ حق دار ہے۔”المصنف عبدالرزاق( 54/7’حدیث 12600)
اس واقعے سے بے ساختہ نبی کریم ﷺ کا فرما ن یاد آیا جو ابوبکر ؓ کے بارے میں ہے “ارحم امتی بامتی ابوبکر”میری امت میں سے امت کے ساتھ سب سے زیادہ رحیم شفیق شخصیت ابوبکرؓ ہیں۔
(الجامع الصغیر 8/2)
یہ ہے سیدنا ابوبکرؓ کا مطلقہ ماؤں پر احسان جسے تاقیامت یاد رکھا اور سراہا جاۓ گا۔