272

سیدھا راستہ

تحریر شئیر کریں

سیدھا راستہ،،

تحریر :آمنہ راجپوت ،
ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک گاؤں میں ایک لڑکا رہتا تھا، اس کے گاؤں والے اس سے بہت تنگ تھے، وہ سب سے لڑائی جھگڑے کرتا اور بتمیزی کرتا تھا، ماں باپ کا بھی کہنا نہیں مانتا تھا اور پڑھائی میں بھی دلچسپی نہیں لیتا تھا، یہ سب اس کی عادتوں میں شامل تھا، ماں باپ اس کو سمجھاتے بیٹا پڑھنے پر توجہ دو بری عادتوں کو چھوڑ دو اور اچھے کام کرو ، وہ کسی کی بات نہ مانتا تھا ایک دن وہ کلاس میں بیٹھا کھیل رہا تھا

اس کے استاد نے دیکھ لیا، عامر پڑھائی نہیں کر رہا تھا تو عامر کو آواز دی وہ کھڑا ہو جائے، لیکن عامر نے انکار کردیا اور کہا میں نے کوئی ٹھیکہ اٹھایا ہوا ہے میں آپ کا نوکر نہیں ہوں، آپ کو تو گورنمنٹ سے پیسے ملتے ہیں، آپ کو کیا فرق پڑتا ہے اگر ہم پڑھے نہ پڑھے اپنی تنخواہ لے ، عامر نے انتہائی بدتمیزی کرتے ہوئے کہا،

استاد نے اس کو تھپڑ رسید کر دیا، عامر زور زور سے رونے لگا اور کتابیں اٹھا کر گھر چلا گیا اور اپنے والدین کو شکایت کی کہ استاد اس کے ساتھ نفرت کرتا ہے، عامر کے والدین سمجھ گئے کہ ان کا بیٹا جھوٹ بول رہا ہے ، انہوں نے اپنے بیٹے کو ڈانٹ دیا

عامر کے والدین اس بات سے بہت تنگ آ چکے تھے ان کے بچے نے پورے گاؤں میں ان کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا تھا، انہوں نے اپنے بچے سے کہا تم نے ہمیں کسی سے بات کرنے کے لیے بھی نہیں چھوڑا، تم جیسی اولاد سے بہتر تھا ہم بے اولاد ہوتے، عامر نے ایک کان سے سننا اور دوسرے کان سے نکال دیا اس کو کسی کی کوئی پروا نہ تھی، اس کی امی کو ہمیشہ یہ پریشانی رہتی تھی کہ میرا بیٹا کسی مشکل میں نہ پھنس جائے، ماں تو ماں ہوتی ہے بے شک ان کی اولاد جیسی بھی ہو ان کو پیاری ہوتی ہے،

ایک دن عامر نے سوچا کیوں نہ جنگل میں جا کے تھوڑا موج مستی کی جائے، راستے میں چلتے ہوئے اس نے کی جانوروں کو پتھر مارے اور کسی کے پھل توڑ کے کھائے، تو وہ جنگل میں پہنچ گیا تو ہر طرف ہو کا عالم تھا، کوئی بندہ وہاں پر نظر نہیں آرہا تھا، اس نے تھوڑا دل میں ڈر محسوس کیا لیکن پھر بھی چل پڑا، چلتے چلتے کافی ٹائم گزر گیا, اور اب تو اندھیرا چھا رہا تھا رات ہو رہی تھی، کے اچانک ہر چیز درخت زمین جھاڑیاں سب کچھ اوپر نیچے ہو رہی تھی، ایسا لگ رہا تھا جیسے زلزلہ آ گیا ، آیا زلزلہ ہی تھا، عامر کو تھوڑا ڈر محسوس ہوا کیونکہ وہ اکیلا تھا

اس کے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا، وہ بچاؤ بچاؤ کرنے لگا لیکن کوئی بھی مدد کو نہ آیا کیونکہ اس پاس کوئی بندہ تھا ہی نہیں، پہاڑ سے پتھر گر رہے تھے، وہ صرف اپنے بچاؤ کی کوشش کر رہا تھا درخت یہ سب اس کو لگ رہا تھا کہ سب اس کے اوپر آ رہے ، ایسے میں ایک پتھر اس کے پاؤں پر لگا اور پتھر اتنا شدید تھا کہ وہ اٹھ نہ سکا اور اس کی آوازیں اور چیخیں نکل گئی، اسے اپنے والدین کی یاد آئی، یہ بھی یاد آیا کہ ان کے ساتھ کتنی بدتمیزیاں کی ادھر جب عامراپنے گھر نہ آیا رات سے تو اس کی امی نے پورے گاؤں میں اس کو ڈھونڈنا شروع کر دیا، اس کے والدین اس کی وجہ سے بہت پریشان تھے، ان کو ایسا لگ رہا تھا کہ یہ ان کے غصہ کی وجہ سے کہیں نکل گیا،

اس کے والدین کو اس بات کا بھی ڈر تھا کہ زلزلے میں کئی گر نہ گیا ہو کہیں اس کو کچھ نقصان نہ ہوا ہو، ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ جنگل تک جا پہنچے جہاں پر عامر نظر آیا، وہ بے ہوش عامر کو اٹھا کر لے گئے، عامر کی والدہ نفل پڑھ رہی تھی جب عامر کو ہوش آیا تو اس کے پاؤں پر پٹی بندھی ہوئی تھی، تو احساس شرمندگی سے آنکھیں نیچے کر کے معافی مانگ لی اور کہا امی ابو میں اپنے روئیے کی معافی مانگتا ہوں میں نے آپ لوگوں سے بہت بدتمیزی کی مجھے معاف کر دیں،والدین تو کبھی بھی بچےکے لئے دل میں برا نہیں رکھتے انھوں نے اپنے بچے کو معاف کر دیا، اور گلے لگا لیا عامر نے اپنے کیے کی سزا پا لی اور وہ اچھا ہوگیا، سیدھے راستے میں چل پڑا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “سیدھا راستہ”

تبصرے بند ہیں