509

شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات

تحریر شئیر کریں

شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات

ام محمد سلمان


یہ ایک ایسے خاندان کی کہانی ہے جسے شادی کے اخراجات نے برباد کر کے رکھ دیا۔ اکمل صاحب ایک سرکاری ادارے میں معمولی حیثیت کے ملازم تھے۔ تنخواہ بس اتنی تھی کہ گھر کا گزر بسر ہو جائے۔ گھر والدین کے زمانے کا تھا جس میں یہ تینوں بھائی رہائش پذیر تھے۔ دو مرلے کے پلاٹ پہ اوپر نیچے تین منزلیں تعمیر کی گئی تھیں۔ والدین کا انتقال ہو گیا. تینوں بھائی شادی شدہ اور بال بچوں والے تھے۔ سب نے ایک ایک منزل لے رکھی تھی اور جیسے تیسے اپنی زندگی کی گاڑی گھسیٹ رہے تھے۔
اکمل صاحب ان سب بھائیوں میں بڑے تھے۔ بیٹی جوان ہوئی تو اس کی شادی کی فکر نے ستایا۔ ایک مناسب جگہ رشتہ طے ہو گیا اور سال بعد شادی ہونی قرار پائی۔
جیسے جیسے شادی کے دن قریب آ رہے تھے ویسے ویسے والدین کی پریشانی بڑھتی جا رہی تھی۔ ادھر ادھر بہت ہاتھ پاؤں مارے کہ کہیں سے قرض مل جائے تو بیٹی کے ہاتھ پیلے کر دیں۔ مگر ایک غریب سرکاری ملازم کو لاکھوں کا قرض کون دے…؟ ہماری بے جا فضول خرچیوں اور رسم و رواج نے شادی کو مشکل بھی کتنا بنا دیا ہے۔
جب کچھ سمجھ نہ آیا تو اپنے دفتر سے قرض لینے کا سوچا… آٹھ لاکھ روپے قرض منظور ہو گیا لیکن وہ بھی سود پر اور ہر مہینے آدھی تنخواہ اس قرض کی مد میں کٹنے لگی۔

بچی کے معمولی زیور، کپڑے، جہیز اور مختلف رسموں پر ہی چار پانچ لاکھ روپے خرچ ہو گئے۔ باقی تین چار لاکھ شادی ہال اور کھانے کے انتظامات میں کام آ گئے۔ یہ ایک نچلے درجے کی عام سی شادی کے اخراجات ہیں۔ ایک باپ اپنے چھے بچوں میں سے صرف ایک بیٹی کی شادی پر اتنا مقروض ہو گیا کہ گھر میں کھانے کے بھی لالے پڑنے لگے۔ جس تنخواہ میں پہلے ہی گزارا مشکل تھا اب اس میں سے بھی نصف قرض کی مد میں کٹنے لگی۔ باقی بچوں کی تعلیم، کھانا پینا، گھر کے اخراجات.. سب کہاں سے اور کیسے پورے ہوں؟
چھوٹے بیٹے کو کام پر لگایا، باپ نے بھی پارٹ ٹائم لگانا شروع کر دیا۔ اور سب مل کر اس بوجھ کو اپنے سر سے اتارنے کی جدوجہد کرنے لگے۔ دال روٹی اور سستی سبزیوں پر گزارا ہونے لگا۔ کپڑے بنانے کا تو خیال بھی نہیں آتا کسی کو۔ بیاہی بیٹی جب میکے آئے تو داماد کی خاطر مدارت کے لیے ضرور کچھ اچھا موجود ہونا چاہیے۔ چھوٹے بہن بھائی بھی باجی کو دیکھ کر خوش ہو جاتے تھے کہ اب وہ آئی ہے تو کھانا اچھا ملے گا ورنہ روزانہ وہی دال سبزی کھا کھا کے بچے بھی اکتائے رہتے۔

بزرگوں میں ایک مقولہ مشہور ہے کہ” کنواری کھائے روٹی اور بیاہی کھائے بوٹی.“
یعنی بیٹی جب تک والدین کے گھر ہوتی ہے تو اسی دال دلیے پر گزارا کرتی ہے مگر جب شادی شدہ ہو کر میکے آئے تو داماد کی وجہ سے خوب خاطر مدارت کرنی پڑتی ہیں۔
اور پھر اخراجات کا یہ سلسلہ کبھی بند نہیں ہوتا. ہماری فرسودہ روایات کا ایک جم غفیر ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ کبھی عیدی کے نام پر تحائف بھجوائے جا رہے ہیں کبھی دیگر تہواروں کے نام پر… پھر بیٹی کے ہاں اولاد کی خوش خبری ہو تو وہ بھی ماں باپ بھگتیں… جی ہاں! اس خوشی کے موقع کو بھی غریب اور متوسط طبقہ بجائے خوشی منانے کے بھگتتا ہی ہے۔ اور پھر بیٹی داماد کے ساتھ ساتھ اس ننھے مہمان کے لیے بھی تحفے تحائف لیے جائیں۔ ابھی اس جنجال سے نکلنے نہ پائے تھے کہ دوسری بیٹی کی شادی کا موقع آ گیا… اب تو دوسرا بھائی بھی کمانے لائق ہو گیا، چلو بھئی پھر سے اور قرض پکڑو، نہیں مل رہا تو کمیٹیاں ڈالو… اب پھر شادی کے نام نہاد خرچے اور پھر قرضوں میں جکڑے ہوئے باپ بھائی….
مہینا کتنی جلدی پورا ہو جاتا ہے، کمیٹی والی خالہ پہلی ہوتے ہی کیسے سر پہ آ کھڑی ہوتی ہیں۔ ابھی بجلی اور گیس کے بل، دوائیں، گھریلو اخراجات، بچوں کی تعلیم کا خرچ… اور نہ جانے کون کون سے خرچے…
غریب سکون کے دو لقموں کو ترس جاتا ہے۔
یہی حال لڑکوں کی شادیوں میں ہوتا ہے۔ کمانے لگ جائیں تو جوانی کے تقاضے بھی ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ شادی کی خواہش سر اٹھانے لگتی ہے۔ مگر والدین کہتے ہیں بیٹا ابھی تو چار چھے تولے زیور بنوانا ہے، پھر بارات اور ولیمے کے لیے دلہن کے بھاری جوڑے بنوانے ہیں۔ پھر ہال اور کھانے کا خرچ ہے. پہلے آٹھ دس لاکھ تو جمع کرو پھر کچھ سوچتے ہیں شادی کے بارے میں…. آخر ہماری بھی معاشرے میں کوئی عزت ہے۔ نوجوان کے کومل جذبے مچل کر رہ جاتے ہیں۔ کمائی کی نہ ختم ہونے والی دوڑ شروع ہو جاتی ہے، پیٹ کاٹ کاٹ کے کمیٹیاں ڈالی جاتی ہیں سالوں تک پیسہ پائی پائی کر کے جوڑا جاتا ہے اور پھر شادی کے چار دنوں میں سب پیسہ پانی کی طرح بہا دیا جاتا ہے۔

خود سالوں تک چٹنی روٹی کھا کے برادری اور رشتے داروں کو اپنی حیثیت سے بڑھ کے مہنگے ہال میں پر تکلف کھانا کھلایا جاتا ہے. سب دوست احباب اور رشتے دار قیمتی ملبوسات بنواتے ہیں، خاص طور پر خواتین اور بچیاں پارلر سے تیار ہو کر آتی ہیں۔ کچھ دیر کے لیے اپنے آپ کو ہر لڑکی شہزادی سمجھتی ہے اور خوب اترا اترا کر ہال کا چکر لگاتی ہے۔ خاندان کی خواتین بھی اکٹھی ہو کر ایک دوسرے پر اپنے زیور کپڑے اور میک اپ کا رعب ڈالتی ہیں.. یہ اور بات کہ سوائے چند ایک بے وقوف خواتین کے کوئی ان کے رعب میں نہیں آتا… ہر کسی کو اپنی پڑی ہوتی ہے! ہر عورت یہی سمجھتی ہے آج وہی ملکہ حسن ہے… اور پھر کچھ دیر بعد جب تقریب ختم ہوتی ہے، سب اپنے اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں تو صبح اٹھتے ہی یہ سارے شہزادے شہزادیاں اور ملکائیں اپنے اپنے گھروں میں منہ ہاتھ دھو کے چائے میں پاپے ڈبو کے کھا رہے ہوتے ہیں… یہی پیسہ اگر بچایا ہوتا نا تو آج بیٹھ کے مزےدار انڈے پراٹھے کا ناشتا کر رہے ہوتے اور نہ سہی تو کم از کم پاپے اور ڈبل روٹی ہی دودھ میں بھگو کر کھا رہے ہوتے…!
کل رات جو اطلس و دیبا کے لباس زیب تن کر رکھے تھے، اب بدن ہر وہی پرانے بد رنگ لباس ہیں۔ یہ ہزاروں روپے جو شادی کے دو تین فنکشن کے جوڑے بنانے پر خرچ کیے اس میں سے کچھ پیسے خرچ کر کے دو تین جوڑے متوسط درجے کے گھر میں پہننے کے لیے اور شوہر کی آنکھوں کو تراوٹ بخشنے کے لیے بنوا لیے ہوتے تو کتنا اچھا ہوتا…! مگر یہ ہماری عقل کا فتور ہے سارا جو ہمیں ایک دن کی عیاشی کے لیے برسوں کا مقروض کر دیتی ہے ۔

آخر ہم لوگ ایسے کیوں ہیں؟
ان رسم و رواج کے پیچھے اندھا دھند کیوں بھاگ رہے ہیں!
ہماری بچیاں شادی کے نام پہ بے تحاشا شاپنگ کر کے کیوں اپنے باپ اور بھائی پر اضافی بوجھ ڈالتی ہیں؟ جہیز کا زیادہ تر سامان وہ ہوتا ہے جو سالوں استعمال نہیں ہوتا، کئی کئی طرح کے تو صرف برتنوں کے سیٹ ہی دیے جاتے ہیں جن میں سے کچھ ہی استعمال ہوتے ہیں باقی الماریوں میں پڑے رہتے ہیں۔
آخر کیوں اتنے قیمتی برتن خریدے جاتے ہیں جنھیں استعمال کرنے کا موقع بھی نہیں ملتا۔ ہمارے عام متوسط گھرانوں میں کھانے کی بڑی بڑی ڈائننگ ٹیبل نہیں لگی ہوتیں جہاں قرینے سے یہ برتن سجائے جائیں.. ارے بھئی ہمارے یہاں تو زمین پر غالیچہ بچھا کے دستر خوان لگایا جاتا ہے، یہاں نوکر چاکر نہیں صرف ایک خاتون خانہ ہے جس نے یہ برتن سمیٹ کر دھو کر خشک کر کے پھر الماری میں بھی رکھنے ہیں حفاظت سے۔
آخر ہم لوگ کیوں اپنی زندگی کو اتنا مشکل بنا لیتے ہیں؟؟

آؤ جنت میں گھر بنائیں

اور شادی کے ملبوسات کے تو کیا ہی کہنے.. جو صرف دعوتوں میں پہنے جاتے ہیں اور پھر الماریوں میں پڑے رہتے ہیں۔ کیوں کہ دلہن بیگم کو یہ چبھتے بہت ہیں اور پھر کچھ ہی عرصے میں جب والدہ ماجدہ کے عہدے پر فائز ہوتی ہیں تو بیشتر لباس حدود اربع پر پورے ہی نہیں آتے.. بارات اور ولیمے کے جوڑے منہ چڑا رہے ہوتے ہیں، دلہن سالوں تک ان جوڑوں کو شادی کی یادگار کے طور پر سنبھال کر رکھتی ہے۔

اور ہمارے دلہا حضرات.. ان بے چاروں کو شادی پر لیے گئے قرضے ادا کرنے سے ہی فرصت نہیں ہوتی کہ دو گھڑی دلہن کے ساتھ بیٹھتے، باہر جاتے، گھومتے پھرتے، کھاتے پیتے… عیش کرتے، خوش ہوتے، ہنستے کھلکھلاتے…
مگر نہیں شادی کے خرچوں کے بھاری بوجھ تلے دلہے کی خوشیاں دب کر رہ جاتی ہیں۔ خوشیوں کی بجائے منوں بوجھ کندھوں پر دھرا محسوس ہوتا ہے۔
آخر ہم ان مسائل کا حل کیوں نہیں سوچتے؟؟شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات

شادی دو دلوں کا بندھن اور دو خاندانوں کا ملاپ ہے۔ سادگی سے شادی کرنی چاہیے جیسے ہمارے دین میں سکھایا گیا۔ عمر بھر کی پونجی، سالوں کی بچت، گھر اور جائیدادیں فروخت کر کے شادی پر بے جا اخراجات کر کے ہماری کون سی حس کی تسکین ہوتی ہے؟؟شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات

لوگ کھانے کھا کے سیلفیاں بنا کے چلے جاتے ہیں۔ کوئی یاد بھی نہیں کرتا کہ کسی اکمل صاحب نے سودی قرض لے کر، کسی ادریس بھائی نے اپنی جائیداد بیچ کر، کسی شکورن خالہ نے برسوں کمیٹی ڈال کر اور کسی نوجوان نے اپنی جوانی رول کر یہ پیسہ پائی پائی کر کے جوڑا تھا جسے یوں ایک دن میں اڑا دیا گیا۔ صرف اور صرف نام و نمود کے لیے! نمائش کے لیے! اپنی نام نہاد حیثیت جتانے کے لیے اپنے خاندان کا نام اونچا کرنے (کی خوش فہمی) کے لیے۔
اور حاصل کچھ بھی نہیں ہوتا سوائے خسارے کے۔

آئیے شادی کی تقاریب کو آسان بناتے ہیں. اپنے آپ سے عہد کیجیے، خود اپنی اور بچوں کی شادی سادگی سے کریں گے۔ بے جا اخراجات سے گریز کریں گے۔ بارات کا کھانا کسی رسم کے طور پر کھلانا کسی صورت جائز نہیں، ولیمے کے لیے مہنگے مہنگے ہال بک کرنا اور درجنوں کھانے پکوانا کوئی ضروری نہیں! ولیمہ ایک دیگ یا حسب ضرورت کھانا پکا کے گھر کے افراد اور چند قریبی رشتے داروں اور دوست احباب کو کھانا کھلا کے بھی کیا جا سکتا ہے۔
اور یہ تجاویز صرف خیالی پلاؤ نہیں بلکہ ہمارے اسی معاشرے میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو آج بھی شرعی حدود کے اندر نہایت کم خرچ میں اپنے بچوں کی شادیاں کرتے ہیں۔ اپنے اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔ نمود و نمائش اور نفس و شیطان کے دھوکے میں آ کر اپنی دنیا و آخرت خراب نہیں کرتے۔

اپنے بچوں کے لیے کمائیے، ان پر خرچ بھی کیجیے مگر معاشرے کے ڈر سے فضول رسم و رواج پر اپنی محنت اور خون پسینے کی کمائی مت لٹائیے…!!

شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں