217

شبِ برات ایک حقیقت ایک کہانی

تحریر شئیر کریں

رات کے آخری پہر، چاندنی صحن میں اُتر رہی تھی۔ آمنہ بی بی اپنے پوتے احمد کو سینے سے لگائے بیٹھی تھیں۔ باہر گلی میں لوگ شور مچا رہے تھے، کہیں آتش بازی ہو رہی تھی، کہیں شیرینی بانٹی جا رہی تھی، اور کہیں دعائیں مانگی جا رہی تھیں۔ احمد کی ننھی آنکھوں میں حیرت تھی۔

“دادی، آج کیا رات ہے؟ لوگ اتنا ہنگامہ کیوں کر رہے ہیں؟” احمد نے معصومیت سے پوچھا۔

آمنہ بی بی مسکرائیں، “بیٹا، آج شبِ برات ہے، لوگ اسے بڑی خاص رات سمجھتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ اسے غلط طریقے سے مناتے ہیں۔”

“کیا واقعی؟” احمد کا تجسس بڑھ گیا۔

آمنہ بی بی نے پرانی یادوں میں جھانکتے ہوئے کہا، “میں بھی تمہاری عمر میں یہی سب کرتی تھی۔ ایک بار، جب میں چھوٹی تھی، تو مجھے لگا کہ اس رات ہر چیز کا فیصلہ ہوتا ہے، قبر کے عذاب سے بچنے کے لیے خاص عبادات کرنی پڑتی ہیں۔ لیکن جب میں بڑی ہوئی اور قرآن سمجھنا شروع کیا، تو مجھے احساس ہوا کہ یہ سب کچھ غلط فہمیتھی۔”

احمد نے مزید پوچھا، “تو پھر اس رات کا اصل مطلب کیا ہے؟”

یہ بھی پڑھیئے

شعبان المعظم کے فضیلت بھرے دن

ویلنٹائن کیوں مناتے ہیں؟

آمنہ بی بی نے نرم لہجے میں کہا، “بیٹا، قرآن میں شبِ برات کے بارے میں کچھ خاص ذکر نہیں ہے۔ جو فضیلتیں لوگ اس رات سے جوڑتے ہیں، وہ درحقیقت لیلۃ القدر کی فضیلتیں ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں لیلۃ القدر کا ذکر کیا ہے کہ یہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے، لیکن شبِ برات کے بارے میں کوئی تصدیق شدہ حدیث نہیں ہے جو اسے اتنی ہی بابرکت رات قرار دے۔”

احمد نے غور سے سنا، پھر بولا، “تو کیا ہم اس رات عبادت نہ کریں؟”

“عبادت تو ہر رات کرنی چاہیے، لیکن کسی خاص رات کو وہ فضیلت دینا جو قرآن و حدیث میں نہیں، یہ غلط ہے۔ ہمیں نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق **لیلۃ القدر کو تلاش کرنا چاہیے، جو رمضان کی آخری دس راتوں میں آتی ہے، نہ کہ ایسی راتوں کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے جن کی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔”

احمد نے سر ہلایا، “تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ کچھ لوگ شبِ برات کو حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں؟”

“بالکل، اور کچھ لوگ تو بدعات میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں، جیسے آتش بازی، مخصوص پکوان، قبرستان جانا اور یہ سوچنا کہ اس رات سب کے مقدر لکھے جاتے ہیں۔ حالانکہ **یہ سب لیلۃ القدر کی خصوصیات ہیں، شبِ برات کی نہیں۔

احمد کے چہرے پر سمجھداری جھلکنے لگی۔ “پھر دادی، میں کیا کروں؟”

آمنہ بی بی نے پیار سے کہا، “بیٹا، ہر رات اللہ کی عبادت کرو، ہر دن اچھے کام کرو، اور قرآن کو سمجھ کر پڑھو۔ لیلۃ القدر کو تلاش کرو اور کسی بھی چیز کو اپنی سوچ پر حاوی نہ ہونے دو، جو دین میں موجود ہی نہ ہو۔”

احمد نے مسکراتے ہوئے کہا، “سمجھ گیا، دادی! اب میں کسی کو غلط فہمی میں نہیں رہنے دوں گا!”

رات کے آخری پہر میں، چاندنی جیسے ان کے دلوں میں بھی ایک نئی روشنی بھر گئی تھی—روشنی **حق کی، سچ کی، اور قرآن کی تعلیمات کی۔

شبِ برات ایک حقیقت ایک کہانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں