565

عائشہ ٹاک ٹاکر  اصل حقائق کیا ہیں؟

تحریر شئیر کریں

عائشہ ٹاک ٹاکر  اصل حقائق کیا ہیں؟

ہم اس ملک کے باشندے ہیں  کہ جہاں کوئی ایک  عورت کو چھیڑتا ہے تو دس اس بندے کی دھلائی کرنے والے ہوتے ہیں،مینار پاکستان پہ اس دن اتنے رش میں کوئی روکنے والا کیوں نہیں تھا؟تھوڑا نہیں بہت توجہ طلب نکتہ ہے جو اس سارے معاملے کو مشکوک بناتا ہے۔عائشہ ٹک ٹاکر کیس یقنا ایک ایسا واقعہ ہے جس کے حوالے سے متعلقہ اداروں کو تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔میں نے اس واقعے پہ جتنا غور کیا ہے   لگتا واقعات کو نئے زاویئے سے دیکھنے کی ضرورت ہے مینار پاکستان ہو چودہ اگست  کا دن ہو اور پاکستان کی تمام بیٹیوں  کو پیغام دیا گیا  کہ وہ پاکستان بننے کے بعد بھی اتنی ہی غیر محفوظ ہیں جتنا کہ پہلے تھیں۔اور عالمی میڈیا پہ پاکستان کے اہم ترین دن کے موقع پر بدنام کیا گیا  وہ بھی ایک ایسی لڑکی  جو ٹک ٹاکر ہو فیم شہرت اور لائیکس کی دیوانی  بھی،یقین نہیں آتا تو انڈین پیچز پہ جا کر دیکھیں وہ کیا بک رہے کہ پاکستان اس دن کے لئے بنایا گیا تھا۔

چلیں ایک اور رخ سے دیکھتے ہیں لڑکی کا  ڈرامائی انداز میں مینار پاکستان میں داخل ہونا اور وہاں پہلے سے موجود کیمرہ مین جو اس کی ڈیڑھ گھنٹہ ویڈیو بناتا رہا۔توجہ طلب ہے نکتہ ہے

لڑکی کا ٹک ٹاک پہ پہلے سے پلان بنانا اور اس کے بوائے فرینڈ کا فالوورز بڑھانے کا وعدہ کرنا،لڑکی کا مشہور ہونے کے بعد کیس واپس لینا،یہ سب کیا ہے؟

عائشہ ٹک ٹاکر کیس اصل حقائق کیا ہیں؟

حیا والی عورت ایسے واقعے کے بعد گھر سے باہر نکلنا بھی گوارا نہیں کرتی  ،ہراسیمگی اورخوف اتنا ہوتا ہے جیسا کہ گوجرانوالہ موٹر کیس پہ زیادتی والی واقع سے ہوا،مگر یہاں  معاملہ الٹ ہے ،عائشہ ٹک تاکر اگلے ہی دن ماتمی لباس میں  چینلز  پہ دکھائی دے رہی ہے۔

بالفرض مان لیا کہ اس عورت کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور چار سو افراد اس پر ٹوٹ پڑے،مگر فلائنگ کسنگ کر کے اس مجمع کو اشتعال کس نے دلایا،پہل یہاں پہ بھی عائشہ ٹک ٹاکر کی طرف سے ہوئی اور ایک دن پہلے سب کو دعوت کس نے دی،وہ کیوں بھول گئ کہ آنے والے اس کے باپ یا بھائی نہیں ہوں گے،نامحرم مرد سے ایک ہی رشتہ ہوتا ہے اور وہی انھوں نے نبھایا

امام مہد ی کا ظہور

،قرآن چودہ سو سال پہلے بتا دیا تھا کہ جب باہر نکلو تو اپنے اوپر اوڑھنیاں اوڑھ لو  تاکہ ستائی نا جاو،ہم یہ تو دیکھتے ہیں کہ اسلام مردوں پہ کیا قدغن لگاتا ہے مگر یہ نہیں دیکھتے وہ اس کے ساتھ ساتھ عورت کو بھی پابند کرتا ہے کہ وہ بغیر  محرم کے نا نکلے،خوشبو لگا کر نا نکلے،بے پردہ نا نکلے  ،میری ناقص رائے کے مطابق اگر عورت ان احکامات کی پابندی کرتی ہے تو معاملات آدھے سے زیادہ اس کے کنٹرول میں آ جاتے ہیں

جہاں تک ریاست کی بات ہے امن و امان کسی بھی شہری کا پہلا حق ہے،اس کی پاسداری کرنا،متعلقہ محکموں پہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ  ملک و قوم کی حفاظت کریں،وہ اسو قت ایک اہم دن کے موقع پر کہاں تھے؟اگر وہ وہاں ہوتے تو کیا یہ سب ہوتا؟

ایک اور چیز جو اس سارے معاملے میں دکھ نہیں رہی مگر موجود ہے،زینب کیس کے بعد ان کیسز کی لائن لگ گئ،موٹروے زیادتی کیس کے بعد بھی بہت سے کیسز ایسے ہوئے،اور اب یہ عائشہ ٹک تاکر کیس نے نئے زاویے سے خود کو لے آیا ہے،آئٹم سانگ  اور ڈارک ویب کا فلسفہ کیا ہمارے معاشرے میں  بھی عام کیا جانے لگا ہے،بہت تلخ حقیقت ہے،کیا ہر واقعہ پھیلانے کے لئے ہوتا ہے،کیا واقعات کی تشہیر سے حق مل جاتے ہیں،قرآن کہتا ہے برائی کو پھیلاو نہیں اسے چھپاؤ،کتنی حکمتیں پوشیدہ اس بات مین۔

سوشل میڈیا پہ جذبات کو ابھارنے والی خبریں فورا جگہیں بناتی ہیں،جب تک اصل معاملہ سامنے آتا ہے تب تک لوگ بھڑاس نکال کر کسی اور واقع کی طرف متوجہ  ہو چکے ہوتے ہیں،پھر صحیح اور غلط کی پہچان ایک الگ مسئلہ ہے۔لہذا فہم و فراست ،حکمت و دانشمندی،تحقیق یہ سب  شعبے سوشل میڈیا کی وجہ سے بہت متاثر ہوئے ہیں اور ان کی غیر موجودگی میں سچائی تک پہنچنا ناممکن  ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس  سارے معاملے میں نقصان کس کو پہنچاَ؟پاکستان اور مینار پاکستان کو،آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں نے عورت کا نام عورت کا نام کیوں نہیں لیا؟تواس عورت کو فالورز چاہیے تھے وہ مل گئے،جھوٹی شہرت چاہیے تھی وہ بھی مل گئ،ہو سکتا اس سارے ڈرامے کی قیمت بھی ملی ہو،ففتھ جنریشن وار اسی کو کہتے ہیں۔آج ہماری بڑی دعاؤں میں ایک دعا یہ بھی ہونی چاہیئے۔

الھم ارنا لاحق حقا وارزقناتباعہ وارنا لباطل باطل وارزقنا اجتنابہ

اے اللہ ہمیں حق کو حق دکھا اور اس کی پیروی کی توفیق دے،اور باطل  کو باطل دکھا اور اس سے اجتناب کی توفیق دے۔آمین

عائشہ ٹک ٹاکر کیس اصل حقائق کیا ہیں؟یقینا اصل بات اللہ ہی جانتا ہے،اس پہ مزید تحقیقات ہونی چاہیے۔

س

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں