عورت مارچ 2021 بری طرح فلاپ؟کیوں اور کیسے جانیے قلم کتاب پر
عورت مارچ جس کا مقصد عورت کے حقوق کی آواز بلند کرنا تھی مگر چونکہ ان کا ایجنڈا عورت رسوا کرو ہے اس لیے سوسائٹی کے لوگوں نے ان کو پہچان لیا۔2020 ء کے عورت مارچ میں فلم انڈسٹری اور فیشن انڈسٹری کے مشہور لوگ شامل ہوۓ مگر کل والے مارچ میں آپ کو کوئی شناسا چہرہ دکھا ئی نہیں دے گا۔اس کی وجہ یہ کہ اس بیہودہ مارچ کو جسے عورت مارچ کا نام دیا جا رہا ہے۔جب لوگوں نے اور عورتوں نے خود وہاں جا کر دیکھا کہ یہاں تو لچر پن ہے کوئی حقوق کی بات ہی نہیں کر رہا۔تو ان لوگوں نے اس مارچ کو بری طرح سے ریجیکٹ کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے
عورت مارچ کے دو بڑے مذموم مقاصد عورت عورت سے شادی اور مرد مرد سے شادی کر سکتا ہے یہ ان کا حق ہے۔اور دوسرا یہ کہ عورت بچہ پیدا کرے یا نا کرے اس کا حق ہو نا چاہیے۔اس حوالے سے ابارشن کی قانونی اجازت ہونی چاہیے۔یہ بے ہودہ تجاویز اس عورت مارچ کا بڑا ایجنڈا ہیں۔
اس۔سال فلاپ ہونے والا عورت مارچ آئندہ دو تین سالوں میں اپنی موت آپ مر جاۓ گا۔کیونکہ ان کو فنڈنگ کرنے والے آقا یہ جان گۓ ہیں کہ پاکستان میں ان کی دال نہیں گلنے والی۔
پاکستان کی یہ بہت بڑی کامیابی ہے کہ انھوں نے عورت مارچ اور اس کے پیچھے چھپے بیہودہ مذموم مقاصد کو بھانپ لیا اور بے نقاب بھی کیا۔اس حوالے سے جماعت اسلامی اوریا مقبول جان اور خلیل الرحمن قمر جیسے لوگ سلوٹ کے مستحق ہیں جنہوں نے اس کے خلاف بھر پور آواز اٹھائی اور اس کے ساتھ ساتھ بہت سے لوگ جو سوشل میڈیا پہ اس کے خلاف آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔
اہل مغرب یاد رکھیں کہ ان کو کبھی یہاں اپنے لچر پن اور بیہودہ مقاصد میں کامیابی نہیں ہو سکے گی۔انشاء اللہ