شیدا ہمیشہ سے محلے کا ایک عام سا لڑکا سمجھا جاتا تھا—نہ زیادہ پڑھا لکھا، نہ ہی کوئی خاص روزگار، مگر دل کا صاف اور نیت کا نیک۔ محلے والے اکثر اُسے مذاق میں “شیدا ٹھیلا” کہتے، کیونکہ وہ گلی میں سبزی کا ٹھیلا لگاتا تھا۔ مگر آج… آج وہی شیدا ہیرو بن چکا تھا۔
بارات واپس چلی گئی تھی۔ بینڈ کی آوازیں خاموش ہو چکی تھیں، مہمان پریشان اور لڑکی کے باپ کے چہرے پر شرمندگی اور صدمے کے سائے گہرے ہو چکے تھے۔ لوگ چپ چاپ نظریں چرا رہے تھے جب شیدا آگے بڑھا۔
“چاچا جی… اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کی بیٹی کو اپنی بیوی بنانے کے لیے تیار ہوں۔”
چند لمحے سب سناٹے میں رہ گئے۔ پھر جیسے فضا میں ہوا چلی ہو، لوگ چونک اُٹھے۔
“تم؟” لڑکی کے باپ نے سوالیہ انداز میں دیکھا۔
شیدا نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا، “جی چاچا جی، میں امیر نہیں ہوں، مگر آپ کی بیٹی کو عزت دوں گا، سر کا تاج بنا کر رکھوں گا۔”
لڑکی کے باپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ جانتا تھا کہ آج اگر کچھ نہ کیا تو ساری عمر کی عزت مٹی ہو جائے گی۔ اس نے قاری صاحب کو بلایا، دو گواہوں کے ساتھ فوراً نکاح پڑھا دیا۔
نکاح مکمل ہوا، اور شیدا دلہن کو لے کر اپنے چھوٹے سے کرائے کے گھر آ گیا۔
گھر میں صرف ایک پنکھا، دو چارپائیاں، اور ایک پرانا الماری تھی، مگر شیدے کا دل جیسے خزانے سے بھرا ہوا تھا۔
جب رات آئی، اور دلہن کمرے میں بیٹھی تھی، شیدا دھیرے سے اندر داخل ہوا۔ کچھ پل دل کی دھڑکن سنی، پھر ہاتھ بڑھا کر گھونگھٹ اُٹھایا۔
اور وہ… وہ تو!
وہ تو حسن کا مجسمہ تھی۔
نہایت سادہ، باوقار، اور آنکھوں میں ایک عجیب سی گہرائی۔ مگر وہ گہرائی صرف خوبصورتی کی نہیں، بلکہ دکھ، صبر، اور خودداری کی تھی۔
شیدا گھبرا گیا، اُس نے نظریں جھکا لیں۔
“مجھے معاف کرنا، بی بی جی… میں تو ایک عام سا بندہ ہوں۔ نہ جہیز، نہ شادی کا خواب، نہ کوئی خاص زندگی دے سکتا ہوں۔ بس ایک وعدہ دے سکتا ہوں — عزت کا، وفا کا، اور پیار کا۔”
لڑکی خاموش رہی۔ پھر آہستہ سے بولی:
“کسی کی بیٹی صرف ٹریکٹر یا جہیز کی قیمت پر نہیں، انسانیت کی بنیاد پر عزت پاتی ہے۔ تم نے وہ عزت دی ہے جو کوئی شہزادہ بھی نہ دے سکتا۔ میں تمہاری زندگی میں آئی ہوں، تمہارے لیے، تمہارے ساتھ جینے کے لیے۔”
کچھ مہینے گزرے۔
شیدے کا ٹھیلا اب محلے کا سب سے کامیاب سبزی اسٹال بن چکا تھا۔ اس کی بیوی نے حساب کتاب، صفائی اور گاہکوں سے خوش اخلاقی کا انداز اپنایا۔ لوگ اب شیدے کو “شیدا بھائی” کہنے لگے تھے۔
پھر ایک دن وہی دولہا، جس نے ٹریکٹر مانگا تھا، بازار میں شیدے کو سبزی بیچتے دیکھ کر حیران ہوا۔ شیدے نے اُسے مسکرا کر کہا:
“تم نے ٹریکٹر مانگا تھا، مجھے محبت مل گئی۔”
پیغام:
جہیز کے نام پر رشتے نہیں بنتے، بگڑتے ہیں۔
اصل رشتہ وہ ہوتا ہے جو دل سے، عزت سے، اور نیت کی سچائی سے جُڑا ہو۔ شیدے جیسے لوگ سادہ ہوتے ہیں، مگر ان کے دل بادشاہوں سے بڑے ہوتے ہیں۔
غیر متوقع نصیب