301

فلسطینوں کے لیے آواز اُٹھاؤ”

تحریر شئیر کریں

فلسطینوں کے لیے آواز اُٹھاؤ”
حرا جعفر

” میں مسکرا کیسے سکتا ہوں جبکہ میرا قبلہ اول کافروں کے قبضے میں ہے؛ میں کھا پی کیسے سکتا ہوں جبکہ میری مسجد الاقصیٰ کافروں کے قبضے میں ہے”.
(صلاح الدین ایوبی)

اپنی زندگی کو ری سیٹ کریں

یہ بھی پڑھیے

ایک اور جنگ کا آغاز ہوچکا ہے ، طبلِ جنگ بج چکا ہے ؛ سوال یہ ہے:- کیا اب بھی فقط مظلوم عوام پیسے گی ؟؟ کیا اب بھی فقط عورتوں، بچوں پر ظلم ڈھائے جائیں گے؟؟کیا اب بھی فقط انسانی حقوق پر لمبے لمبے لیکچر دیے جائیں گے؟؟ طاقتور فقط تماشائی بنے تماشہ دیکھیں گے؟؟؟ کیا اب بھی فقط” اسلام امن و سلامتی کا درس دیتا ہے” سنے کو ملے گا؟؟ باتوں، دعاؤں کے علاوہ ؛ شوشل میڈیا پر تصویریں تقسیم کرنے کے علاؤہ کچھ نہیں کیا جائے گا؟؟

سوال یہ ہے یہ جنگ شروع کیسے ہوئی؟؟؟ کیا اس کا کوئی حل ہے؟؟ اس وقت فلسطین کے کیا حالات ہیں؟؟
” فلسطین کی جنگجو تحریک حماس نے اسرائیل پر حملے میں پہل کی”۔ اس حملے کی کیا وجوہات تھیں؟؟ حملہ درست تھا یا نہیں؟؟ حملہ بروقت کیا گیا یا نہیں؟؟ وجوہات کیا تھیں کچھ معلوم نہیں ؛ معلوم ہے تو فقط اتنا کہ جوابی حملے ، بمباری ، گولیوں کی برسات کی جارہی ہے۔ جس کے نتیجے میں فلسطین کے بچے ، بوڑھے، عورتیں،جوان سب غیر محفوظ ہیں ۔
حماس کی غلطی تھی یا نہیں؟؟ اُن کی کیا حکمت عملی تھی ؟؟ کچھ معلوم نہیں ۔ معلوم ہے تو فقط اتنا کہ مظلوم فلسطینی پیس رہے ہیں۔ کہیں پانی کی بندش تو کہیں خوراک کی۔ کہیں عزت محفوظ نہیں تو کہیں جانیں محفوظ نہیں۔

کہا جارہا ہے فلسطینی قید ہیں ؛ لیکن سوال یہ ہے فلسطینی آزاد کب تھے؟؟ غربت ، بھوک، افلاس اور بے روزگاری کی چکی میں پیسنے والے مظلوم فلسطینیوں کو کیا معلوم آزادی کس چڑیا کا نام ہے۔
ہمارے سننے میں آیا ہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگ کا آغاز کچھ روز قبل شروع ہوا ؛ لیکن سوال یہ ہے یہ جنگ ختم کس روز ہوئی تھی؟؟
75 سال قبل اس جنگ کا آغاز ہوا ؛ اور آج تک یہ جنگ ہنوز جاری و ساری ہے۔ آج تک مسلہ کشمیر کی طرح مسلہ فلسطین بھی حل نہ ہوسکا۔ لیکن سوال یہ ہے:- کیا یہ جنگ اتنی سنجیدہ نوعیت کی ہے جو آج تک اس کا مسلہ حل نہیں ہوگا؟؟؟ نہیں یہ جنگ سنجیدہ نہیں ہے بلکہ کوئی اس مسلے کو حل نہیں کررہا ؛ کوئی اس مسلے کی طرف وجہ نہیں دے رہا؛ کوئی اس مسلے کو حل کرنے کی تگ و دود نہیں کررہا۔ سب تماشائی ہیں؛ سب فقط باتیں بنانا جانتے ہیں ؛ سب باتوں کی حد تک فلسطین کے ساتھ ہیں؛ کوئی عملی کارکردگی نہیں۔

اقبال نے کیا خوب فرمایا:
ہے خاک فلسطین پہ یہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہلِ عرب کا

کیا فائدہ مسلمانوں کی اتنی بڑی جماعت کا ؛ جب اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد نہیں کرسکتے۔ کیا فائدہ پاکستان جیسے عظیم ملک کی ایٹمی پاور کا ؛ جب مشکل میں اپنے دینی بھائیوں کی مدد نہیں کرسکتے۔ کیا یہ ایٹم بمب فقط دیکھنے کے لیے ہیں یا پھر دکھانے کے لیے؟؟ کیوں کہ آج جب ہمارے دینی بھائیوں؛ ہمارے “القدس’ کو اس کی ضرورت ہے تب ہم آگے سے جواب دے رہے ہیں ” انسانی حقوق کا خیال رکھیں؛ اسلام امن سلامتی کا درس دیتا ہے” ۔ کیا اسلام صرف امن سلامتی کا درس دیتا ہے؟؟؟ ہرگز نہیں! اسلام جہاد کا بھی درس دیتا ہے۔ نکلو مسلمانوں اپنے مسلمان بھائیوں کی خاطر باہر نکلو ؛ تمہارے اندر اتنی طاقت ہے کہ تم اپنے حکمرانوں سے کچھ بھی منوا سکتے ہو۔ کیا تم 9 مئی والے واقعے کو بھول گے؟؟ تب مسلمان اکٹھے ہوئے تھے ؛ منٹوں میں حالات بدل گئے تھے۔ تو کیا آج تم نہیں نکل سکتے؟؟؟

احمد ندیم قاسمی نے کیا خوب کہا ہے:
ایک بار اور بھی بطحا سے فلسطین میں آ
راستہ دیکھتی ہے مسجدِ اقصیٰ، تیرا

کیوں فلسطین کے حقوق کے لیے دبی دبی آواز نکل رہی ہے؟؟؟ کیوں ہم ہاتھ پہ ہاتھ دھرے صرف دعا کے لیے کہہ رہے ہیں ؛ سنو اللہ کی مدد آکر رہتی ہے ۔ وہ اپنے بندے کو یوں مشکل میں تنہا نہیں رہنے دیتا۔
اگر اللہ پاک نے تمہیں یہ موقع دیا ہے کہ تم اُس کے بندوں کی مدد کرو ؛ یقین جانو یہ تمہاری خوش قسمتی ہے۔ جتنے قابل ہو اُتنی مدد کرو لیکن کرو ضرور۔

اگر ہاتھوں میں طاقت نہیں جہاد کرنے کی؛ تو لفظوں سے جہاد کرو، سوشل میڈیا پر طوفان مچا دو؛ جہاد بالقلم مال کرو؛ جہاد بالقلم کرو؛ جو کر سکتے ہو کرو لیکن اپنے دینی بھائیوں کی مدد ضرور کرو۔
اسرائیل کی چیزیں لینا بند کردو؛ کوکا کولا وغیرہ سب بند کردو کچھ تو کرو۔
فلسطین کے لیے آواز اُٹھاؤ تاکہ اسرائیل قابض نہ ہوسکے۔ فلسطین کے لیے آواز اُٹھاؤ تاکہ ہمارے مسلمان بھائی محفوظ رہیں؛ فلسطین کے آواز اُٹھاؤ تاکہ پیغمبروں کی سجدہ گاہ محفوظ رہے؛ فلسطین کے لیے آواز اُٹھاؤ تاکہ مائیں، بہنیں ، بچے ، بوڑھے ، جوان محفوظ رہ سکیں۔

شاہ فیصل نے کیا خوب تاریخی کلمات کہے ہیں:
“اپنے بچوں کو تعلیم دو کہ فلسطین پر قبضہ ہے۔ مسجد اقصٰی قید میں ہے۔ صہیونی وجود دشمن ہے۔ مزاحمت ایک عزاز کی بات ہے۔اور اسرائیل نام کی کوئی ریاست نہیں”۔

میرا ایک سوال ہے میرے ہم وطن پاکستانیوں سے کہ اگر خدا نہ کرئے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ شروع ہوجائے تو ہم کیا کریں گے؟؟ اگر ہمارے ہمسائے ممالک سے ہمیں مدد نہ ملے تو ہم کیا کریں گے؟؟ اگر فلسطین ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود ہمیں امن و سلامتی کا درس دے تو ہم کیا کریں گے؟؟؟ جب ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری مائیں ، بہنیں ، بچے ، ہمارے بزرگ شہید ہوں تو ہم کیا کریں گے؟؟؟ اگر ہمیں تین سے چار دن تک کھانا پانی نہ ملے تو ہم کیا کریں گے؟؟
ایک دفعہ خود کو فلسطینیوں کی جگہ رکھ کر سوچیں مری ہوئی غیرت جاگ جائے گی۔
میں جہاں بھی گیا ارضِ وطن
تیری تذلیل کے داغوں کی جلن دل میں لیے
تیری حُرمت کے چراغوں کی لگن دل میں لیے
تیری اُلفت تیری یادوں کی کسک ساتھ گئی
تیرے نارنج شگوفوں کی مہک ساتھ گئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں