255

قرآن کے پیغام کی فتح

تحریر شئیر کریں

 “یہودی کا سوال اور مسلمان سکیورٹی گارڈ کا جواب – قرآن کے پیغام کی فتح”

دنیا میں ایسے لمحات آتے ہیں جب ایک سادہ سا سوال، کسی انسان کی سوچ، ایمان اور علم کا آئینہ بن جاتا ہے۔ یہ واقعہ بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے، جو نہ صرف دل کو چھو لیتا ہے بلکہ قرآن کے نورانی پیغام کی حقانیت پر مہر ثبت کرتا ہے۔

ایک یہودی تاجر اپنی کمپنی کے ایک مسلمان سکیورٹی گارڈ سے مخاطب ہوا۔ اس کے لہجے میں سوال نہیں، طنز چھپا تھا۔ اس نے پوچھا، “تم مسلمان قرآن کو اللہ کی کتاب کہتے ہو، تو پھر تمہارا قرآن تمہیں کیا سکھاتا ہے؟ صرف نماز، روزہ اور جنت؟”

سکیورٹی گارڈ چند لمحے خاموش رہا۔ لیکن اس کی آنکھوں میں سکون، چہرے پر اعتماد اور زبان پر حکمت تھی۔ اس نے مسکرا کر کہا:
“ہاں، قرآن ہمیں جنت کی امید دلاتا ہے، نماز اور روزہ کا حکم دیتا ہے، لیکن اس سے پہلے وہ ہمیں انسان بننے کا سبق دیتا ہے۔ قرآن ہمیں سچ بولنے، انصاف کرنے، ماں باپ سے حسنِ سلوک کرنے، غریبوں کا حق دینے، اور ظلم سے بچنے کا درس دیتا ہے۔”

اس نے مزید کہا:
“میرے اللہ کی کتاب کہتی ہے:
‘إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ’
یعنی ’اللہ انصاف اور احسان کا حکم دیتا ہے‘۔ اور جب میں تمہاری کمپنی میں سکیورٹی گارڈ کی حیثیت سے ڈیوٹی دیتا ہوں، تو اپنے رب کے حکم پر تمہاری حفاظت کرتا ہوں، کیونکہ تم میرے دین میں ایک امانت ہو۔”

یہ سن کر وہ یہودی تاجر خاموش ہو گیا۔ اس کی آنکھوں میں سوال کی جگہ حیرت تھی، اور دل میں شاید پہلی بار قرآن کو سمجھنے کی خواہش جاگی۔

یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ قرآن صرف عبادات کی کتاب نہیں، بلکہ زندگی گزارنے کا مکمل ضابطہ ہے۔ یہ محض عربی الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ وہ ہدایت ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے۔ اگر مسلمان واقعی قرآن کو صرف تلاوت کی حد تک نہ رکھیں بلکہ اسے زندگی میں عملی طور پر نافذ کریں، تو دنیا خود گواہی دے گی کہ یہ کتاب ربِ کائنات کی طرف سے ہے۔

ہمیں سوچنا ہو گا: کیا ہم اپنے عمل سے قرآن کا تعارف کروا رہے ہیں یا صرف زبان سے اس کا دعویٰ کر رہے ہیں؟ دنیا ہماری عبادات نہیں، ہمارے اخلاق اور معاملات دیکھتی ہے۔ اگر ہم قرآن کے مطابق زندگیاں گزاریں، تو وہ سوال جو آج طنز میں پوچھا گیا، کل تعریف میں بدلے گا۔

—

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں