526

قسط 3 خزانے کی تلاش

تحریر شئیر کریں


ساجدہ بتول

خزانے کی تلاش کی تیسری قسط ملاحط کیجیے

حَسَن کو آج کل برنیٹ نے اپنی کوٹھی میں ہی رہاٸش دے رکھی تھی ۔ نجانے وہ مُسلمانوں سے اتنا خوف کیوں کھاتا تھا ؟ اِسی خوف کی وجہ سے اس نے حسن کو اپنے ساتھ رکھ لیا تھا ۔ اسے ڈر تھا ، حَسَن کوٸی غلط کام نہ کر گزرے ۔۔۔ دراصل آج کل حالات ہی ایسے تھے ۔ جب سے قُرآن جلانے کی تاریخ طے ہوٸی تھی سن شاٸن سے وابستہ سب لوگ بے حد مُحتاط ہو گٸے تھے ۔ نجانے کیسا خوف تھا ؟ جو برنیٹ کو ساری رات سونے نہ دیتا ۔۔۔ ایسا ایک ہفتے سے ہو رہا تھا ، یعنی جب سے حسن اس کے ہاں ٹھہرا تھا ۔ آج بھی ایسا ہی ہوا تھا ۔ برنیٹ ساری رات کروٹ پہ کروٹ بدلتا رہا تھا ۔ آج کل وہ اکیلا ہی رہتا تھا ۔۔ دو شادیاں کر کے دونوں بیویوں سے جھگڑا ہونے کی وجہ سے علیحدگی اِختیار کر چکا تھا اور اب تیسری شادی کا ارادہ رکھتا تھا ۔
وہ حسن پہ حیران ہوتا جس کی بریشیا میں ایک ہی بیوی تھی اور دو بچے بھی ۔۔۔ مگر وہ مُطمٸن زندگی گزار رہا تھا ۔ اس نے تو کبھی بھول کر بھی دوسری شادی کا نہ سوچا تھا ۔ برنیٹ نے غور کیا تھا ، راہ چلتے ہوٸے حسن کی نظریں جھکی رہتیں ، وہ برنیٹ کے ساتھ بھی بہت خوش اخلاقی سے پیش آتا ۔۔۔ برنیٹ حیران ہو کر سوچتا ، یہ مسلمان آخر امن دُشمن کہاں سے ہوتے ہیں ؟؟ کیُونکہ حَسَن میں تو سِرے سے ایسی کوٸی بات ہی نہ تھی! حالانکہ وہ تو زیادہ دیندار بھی نہ تھا ، نماز کبھی پڑھ لی ، کبھی چھوڑ دی ۔۔ ڈاڑھی بھی نہ تھی ، اِس کے باوجُود اُس کے اخلاق اتنے اچھے تھے ۔
برنیٹ سوچتا ، جو لوگ مکمّل اسلام پہ چلنے والے ہیں ، کیا اُن کے اخلاق بھی اسلامی طرزِ زندگی کی اِنتہا کے لحاظ سے اس سے کہیں زیادہ اچھے ہوتے ہوں گے ؟؟؟
اچانک اُس کے اندر کوٸی چِلّاتا ”امن دُشمن ۔۔۔۔ تنگ نظر“
اور وہ اُلجھ جاتا ۔
تمام رات کروٹیں بدلنے کے بعد آخر وہ ٹھنڈی ہوا کھانے کو اٹھا اور لان میں چلا آیا ۔۔۔ اُس کے دل میں خَلا تھا ، کوٸی غَیبی طاقت تھی ، جو اُس کے قدموں کو اٹھا کر لان تک لے آٸی تھی ۔ اچانک اسے کسی کی سسکیاں سُناٸی دیں ، وہ بری طرح چونکا ۔


نیند اُس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔ رہ رہ کے اُس کے ذہن کی سوٸی ایک ہی جملے پہ جا کے اٹک جاتی ۔ انگلش میں کہا گیا وہ جملہ ۔۔۔ ”20 ستمبر کو قرآن جَلاٸے جاٸیں گے اور تمہیں اس کے لیے میرا ساتھ دینا ہو گا “
یہ جملہ نہیں ، ایٹم بم تھا جو کل برنیٹ نے اُس کی سماعتوں پہ چھوڑا تھا
اُس نے تو اِس پیارے ، مقدّس ، پاکیزہ ، نپے تلے اور حسین ترین کلام کو کبھی بے وضو چھوا تک نہیں تھا ۔ وہ سَر پہ ٹوپی رکھنے کا عادی نہ تھا ۔ ملازمت کی وجہ سے جینز اور شارٹ شَرٹ اس کی ضرورت تھی ۔ مگر جب اُسے اِس پاک کلام کو پڑھنا ہوتا ، وہ لباس تبدیل کرتا تھا ۔ کُرتا شلوار پہن کر وضو کرتا ، سر پہ ٹوپی رکھتا ۔ پھر اِحتیاط سے الماری میں سے وہ قیمتی کِتاب نکالتا ، اور قبلہ رو ہو کر کسی اُونچی جگہ پہ اُسے رکھتا اور تلاوت کرتا ۔۔۔ اگرچہ یہ روز کا معمول نہ تھا ، مہِینوں بعد ہی اس کی توفیق نصِیب ہوتی تھی ۔ مگر اِس کلام کی عظمت اس کے دل میں ہر ہر لَمحہ اور ہر ہر پل موجُود رہتی تھی ۔ ہاں جب وہ اپنے وطن سے روانہ ہونے لگا تھا ، ماں نے اِس پیاری کتاب کو ایک خوبصُورت سے غِلاف میں لپیٹ کر اُس کے بیگ میں سب سے اوپر رکھ دیا تھا اور کہا تھا ”بس بیٹا! اب تُم اللّٰہ کی حِفاظت میں رہو گے“
بے چارگی کی اِنتہا کے ساتھ وہ اُٹھا تھا اور غُسل خانے کی جانب بڑھ گیا ۔ وضو کر کے اس نے الماری میں سے شلوار قمیص نکال کر لباس بدلا اور جاٸے نِماز بچھا لی ۔ فجر کا وقت ہونے میں ابھی کُچھ دیر باقی تھی ۔۔ اس نے قبلہ رو ہو کر ہاتھ اٹھا دیے
”اے مالِک! اے میرے پیارے اللہ! میں بہت گُناہ گار ہوں ۔ خطا کار ہوں ۔ گناہوں کی دلدل میں سر سے پَیر تک ڈوبا ہوا ہوں ۔۔۔مگر جِتنا بھی برا سہی ، مسلمان ضرور ہوں ۔ تیرا کلمہ گو بندہ ہُوں ۔ تیرے پیارے نبی صلّی اللّٰہ علیہ وسلم کا امّتی ہوں ۔ مولا! آج میرے ایمان کا امتحان ہے ۔۔ یا مالِک! یہ کیسا اِمتحان ہے جو ایک نالاٸق طالِبعِلم سے لِیا جا رہا ہے ۔ مَیں تو امتِحان کے قابل ہی نہیں ہوں مولا! مَیں نہ تو خالِد بن ولِید ، نہ محمّد بن قاسِم اور نہ ہی ٹیپُو سلطان ہوں ۔۔۔ بہت ہی عام اور بہت ہی خام ہوں ۔ آج تیرا کلام خطرے میں ہے ۔۔۔ مولا! تُو نے تو خُود اِس کی حِفاظت کا ذِمّہ لے رکھا ہے ناں! تُو اِسے بچا لے ۔۔ ہاں بچا لے ۔ تُجھے تیری عَظمت کا واسطہ اِسے بچا لے ، تُجھے تیرے جلال کا واسطہ ہے اسے بچا لے ۔ تُجھے تیرے جَمال کا واسطہ ۔۔۔ اسے بچا لے ۔ تجھے ۔۔۔۔۔۔ تیری کِبریاٸی کا واسطہ ہے اسے بچا لے ۔ تجھے تیری قُدرت کا واسطہ ۔ اپنا کلام بچا لے ۔ ہاں اپنا پیغام ان کے ہاتھوں شہید ہونے سے بچا لے اور ۔۔۔ اور مُجھے بھی بچا لے ۔ میرے ایمان کو اِن کافروں کے ہاتھوں شہید ہونے سے بچا لے خدایا بچا لے ۔ آج میرے اِیمان کا سودا ہونے کو ہے ۔ میں تو بہت کمزور ہُوں ۔۔۔ پھسل جاٶں گا ۔ آج میرے اِیمان کو تیرے سِوا کون بچاٸے گا ؟؟؟ مَیں تو بہت ہی کمزور ہوں اللّٰہ! مُجھے اپنا اِیمان بچانے کی طاقت دے دے ناں! تُو میرا ایمان بچا لے ۔۔۔ بَچا لے ۔۔۔۔ بَچا لے! “
رات کے سنّاٹے میں اس کی سسکیاں آسمان کا سِینہ چِیرتی ہوٸی اوپر ۔۔۔ بہت اوپر جا رہی تھیں اور اُس کے آنسُو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے ۔
اور بس یہی منظر اُس کو راولا ہوٹل میں اُس نوجوان کا سامنا ہونے پہ یاد آ گیا تھا ۔
منزِل مُجھے خود ڈھونڈتی آٸی ہے یہاں تک
رکھا تِرے قدموں میں ہے جب سر مِرے مولا
(خزانے کی تلاش جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں