ماوں کو بدلنے کی ضرورت ہے
رابعہ شیخ
“ماں ” الله تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لیے ایک عظیم نعمت ہے , جس کا کوئی نعم البدل نہیں ۔ ماں کے بغیر اس دنیا میں کچھ بھی نہیں ماں کائنات میں انسانیت کی سب سے قیمتی متاع اور عظیم سرمایہ ہے ۔ دنیا کی ہر طاقت و قوت , چاہت و الفت اس کے آگے ہیچ ہے
ماں ایک عظیم ہستی جس کی قدموں میں جنت ہے جسکو دیکھنا بھی ثواب ہے جس کے ہر فیصلے میں کوئی نہ کوئی حکمت چھپی ہوتی ہے
لیکن ! اگر میں یہ کہوں کہ ماں خود غرض بھی ہوتی ہے تو آپ میں سے بہت سے لوگ میری بات سے متفق نہیں ہوں گے ۔ جبکہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر دوڑائیں تو آپکو یہاں ایسی ہزاروں مثالیں ملیں گی اور شاید آپکو میری یہ بات ٹھیک لگے
یہ عظیم ماں جیسا اپنی اولاد کے لئے سوچتی ہے ویسے کبھی کسی اور کی اولاد کے لئے نہیں سوچے گی ۔ چلیں مثال سے واضح کرتی ہوں کہ اپنی بیٹی کیسی بھی ہو مگر اسکے لئے لڑکا اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو , اچھا کماتا ہو, اپنا ذاتی گھر بھی ہو اور دکھنے میں خوبرو جوان بھی ہو ۔
لڑکے والوں پر فرض ہے کہ ان کی بیٹی جو چاند کا ٹکڑا نہ بھی ہو مگر ان کی بیٹی کے لیے انکار نہ کریں ۔
اس کے برعکس جب بات بیٹے کی کیجائے تویہی عظیم ہستی خود غرضی کی انتہاء کر دیتی ہے ۔ اپنا بیٹا باسی ٹکڑا سہی مگر بہو چاند کا ٹکڑا ہو اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ اگر بیٹے نے کسی لڑکی کے لیے اپنی پسند کا اظہار کر دیا تو یقیناً وہ لڑکی بدکردار ہو گی بھلا اچھے خاندان کی لڑکیاں یوں لڑکوں کو پسند کرتی ہوں ؟ پھر تو اس بے چاری لڑکی کے خاندان کو کوسنا اور برا بھلا کہنا شروع کر دیتی ہیں ۔ باحالت مجبوری بیٹے کے زور دینے پہ اگر اس لڑکی کے گھر رشتہ لیے بھی گئیں تو لڑکی کے گھر والوں میں اور لڑکی میں وہ وہ عیب نکالتی ہیں گویا دنیا کے سب سے برے لوگ یہی تھے اور آخر کار رشتہ منع کر کے دم لیتی ہیں ۔
لیکن اگر یہی بیٹا بگڑنے لگ جائے آوارہ گردی اور نشے کی لت میں پڑ جائے تو یہی عظیم ہستی کسی کی بیٹی کی زندگی سے کھیلنے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتی ۔ اپنے آوارہ اور نشئ بیٹے کی شادی کروا کے کسی معصوم کی زندگی تباہ کردیتی ہیں ۔
اس کے لئے اچھی سے اچھی لڑکی دیکھنے میں لگ جاتی ہیں کیونکہ ان کی نظر میں انکے بیٹے کا علاج شادی ہے ۔ بیوی آکے سدھار لے گی گویا بیوی نہ ہوئی ڈاکٹر ہوگئی ۔ جسے ماں نہیں سدھار سکی اسے نئ نویلی دلہن کیا سدھارے گی
اپنے معاشرے میں اس طرح کے واقعات دیکھ کے دل خون کے آنسو روتا ہے مجھے لگتا ہے کہ ماؤں کو بھی تربیت کی ضرورت ہے یا یوں کہیئے کہ انہیں جذبات سے فیصلہ کرنے کے بجائے صحیح اور غلط کے مابین فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ رب العالمین کی بارگاہ میں آپ کو اپنے اس عمل کا بھی جوابدہ ہونا ہے ۔ آپ کے ایک جذباتی فیصلے کی وجہ سے کسی کی زندگی برباد نہ ہو ۔ آپ کسی کے آنسوؤں کا سبب نہ بنیں ۔