ڈاکٹر کی بات سن کر اس کے تو ہوش ہی اڑ گۓ تھے۔اتنی مہنگی بیماری ؟کہاں سے ہوگا علاج۔۔۔غریب کی بھی اپنی ہی منطق ہوتی ہے۔صحت کی بجاۓ پیسے کی فکر کھاۓ جا رہی تھی حالانکہ ہیپاٹائیٹس وہ بھی سی ،جان بھی جا سکتی تھی مگر اس حال میں بھی جان کا روگ پیسہ ہی ہوا تھا۔اور ہو بھی کیوں نا؟15000 تنخواہ میں تو دال روٹی بمشکل پوری ہوتی تھی۔اتنا مہنگا علاج کہاں سے کروایا جاۓ۔وہ جتنا جتنا سوچتی جاتی اتنا ہی ٹینشن بڑھ رہی تھی۔سب قصور میرا ہے۔نا ٹیسٹ کرواتی اور نا پتہ چلتا۔لے دے کے قصور نکلا بھی تو ٹیسٹوں کا۔
عنایہ اور احسن کی لو میرج تھی۔۔احسن ایک غریب گھر لا فرد تھا جبکہ عنایہ زمین دار کی بیٹی۔۔۔بیٹی کی پسند کے آگے ہار مان لی کیونکہ عنایہ اپنے باپ کو بہت عزیز تھی ۔جبکہ عنایہ کا باپ روایتی جاگیردار تھا جانتا تھا اپنے ہم پلہ لوگوں میں شادی کرنے کا مطلب تھا جائیدادا کا بٹوارہ جو وہ کبھی نا چاہتے تھے۔جبکہ عنایہ اندر کی بات سے بے خبر باپ کی محبت پہ رشک کر رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔
وہ آج بہت خوش تھی کی اسکی طبیعت کا پوچھنے اس کا باپ اور بھائی آ رہا تھا۔کھانا بناتے ہوۓ وہ وقتی طور پر اپنی یماری بھول چکی تھی۔کیونکہ اس نے حل ڈھونڈ لیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔
کیا بات ہے آج میری بیگم بہت خوش دکھائی دے رہی ہے۔احسن نے ناشتہ کرتے عنایہ کو نوٹس کیا تھا۔ہاں نا اب ہمارے گھر کے حالات بہت اچھے ہوجائیں گے۔ہیں۔۔۔مگر وہ کیسے۔۔ بس ہو جائیں گے۔۔ دل ہی دل میں پلان بناتی عنایہ کے انگ انگ سے خوشی چھلک رہی تھی۔۔۔ اچھا تو یہ بات ہے۔میں تو بس یہ چاہتا ہوں کہ تم جلدی سے صحت یاب ہو جاو۔۔احسن کے چہرے پہ پریشانی کی لکیریں اور واضح ہوگئیں تھیں۔جبکہ عنایہ کھانے کے برتن اٹھاۓ کچن میں جا چکی رھی۔
۔۔۔
باپ اور بھائی نے رسمی سلام دعا کے بات جانے کی اجازت چاہی جبکہ عنایہ کھانا کھلانے پہ مصر تھی۔جسے باپ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ بیٹی کے گھر کا پانی بھی پینا معیوب بات ہے ہمارے ہاں۔۔ عنایہ چپ ہوگی ۔باپ کی جلدی دیکھ کر اس نے وہ بات بھی نا کر سکی جو پلان کے مطابق کھانے کے بعد کرنا تھی۔چلو خیر ہے وہاں جا کہ خود کر لوں گی بات۔۔۔عنایہ نے دل کو تسلی دی۔
۔۔۔۔۔۔۔
بابا نے عنایہ کا جائیداد میں حصہ کا مطالبہ سن کر آگ بگولے ہونا ہی تھا بھائی بھی اٹھ کر چلا گیا۔ماں ہوتی تو وکالت کرتی اپنی بیمار بیٹی کی مگر وہ تو برسوں پہلے جا چکی تھی۔باپ کا انکار صاف ماتھے پہ لکھا تھا۔کچھ تحریریں اتنی واضح ہوتیں ہیں کہابن کہے پڑھی جا سکتیں ہیں۔
۔۔۔۔۔
عنایہ تانگے پہ بیٹھی بہت ارزدہ تھی۔اپنی بیماری کے دکھ سے بھی زیادہ باپ کی سطحی سوچ کا دکھ تھا۔جو آج بھی بیٹی کو بھائیوں کا دشمن سمجھتے ہیں بقول بابا کے “تمھیں اس دن کے لیے پیدا کیا تھا کہ بھائی کی جائیداد میں حصہ مانگو۔۔۔۔کیسا تضاد تھا بیٹی کے گھر سے پانی پینا حرام جبکہ جائیداد میں سے حصہ ہڑپ کرنا حلال ہے۔جو اللہ کا حکم ہے۔
تانگے سے اتر کر گھر کی طرف جاتے قدموں میں وہ اعتماد اور یقین مفقود تھا جو جاتے سمے تھا۔کیونکہ وہ باپ کی کھوکھلی محبت جان چکی تھی۔کاش وہ کبھی جائیداد سے حصہ نا مانگتی۔بھرم تو قائم رہتا۔کچھ بھرم زندہ رہنے کے لیے کتنے ضروری ہوتے۔عنایہ نے گھر کی دہلیز پار کرتے ہوۓ اپنی آنکھ کی نمی تو صاف کر لی مگر دل دور کہی دور بیٹھا جا رہا تھا۔