219

ماں کی خوشبو

تحریر شئیر کریں

کچھ رشتے زندگی میں اتنے گہرے نقش چھوڑ جاتے ہیں کہ ان کے بغیر بھی زندگی چلتی تو ہے… مگر ادھوری۔
ماں ایسا ہی ایک رشتہ جذبوں سے گندھا ہوا کائنات کا سب سے سچا اور انمول رشتہ
میرے لیے تو شاید خواب جیسا
میں عارف ندیم… ستائیس برس کا، ایک کامیاب انجینئر،
مگر اندر کہیں ایک خالی پن… ایک خلا، جو کبھی پُر نہ ہوا۔
جب پانچ برس کا تھا، ماں دنیا سے رخصت ہو گئی۔
یادیں بس اتنی کہ اُس کی گود نرم تھی… اُس کی سانسوں میں اک مہک تھی… اور اس کی لوریوں کی کوئی دھندلی سی صدا دل میں کہیں محفوظ ہے۔بچپن دادی کی گود میں اور پھر ہاسٹلوں میں پل گیا۔ماں کی گود، ماں کے لمس، ماں کے بول… سب اجنبی۔اکثر دل میں سوال اٹھتا:”ماں کی شکل کیسی تھی؟””کیا وہ مجھے دیکھ کر مسکراتی؟””اگر آج وہ زندہ ہوتی تو؟”ایسے سوال جن کے جواب صرف دل میں ہی پلتے رہتے ہیں۔اور شاید دل ہی میں دفن ہو جاتے اگر یہ نیا زمانہ نہ آتا۔مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، شعور کی مسافت…
اور سب سے بڑھ کر ٹائم اینکر
جب پہلی بار “ٹائم اینکر” کے بارے میں سنا تو دل میں ایک عجیب سی لہر دوڑ گئی۔یہ صرف ایک مشین نہیں تھی۔یہ ان گمشدہ لمحوں تک جانے کا در تھا… جو کبھی ہماری زندگی کا حصہ تھے۔ادبی نگاروں، سائنسدانوں، اور خواب دیکھنے والوں کا ماننا تھا کہ ٹائم اینکر ایک ایسی کھڑکی ہے جس سے دل کے قیدی لمحہ بھر کو آزاد ہو سکتے ہیں۔بس ایک دن… ایک دن ماضی میں جی سکیں۔خاموشی سے، بغیر مداخلت کیے ایک تماشائی بن کر۔
میں نے فیصلہ کر لیا۔جس دن ماں دنیا سے گئی تھی… اُس دن جانے کا کیا فائدہ؟
میں اُس دن جانا چاہتا تھا جب ماں اپنے بیٹے کے ساتھ، خوش، مسکراتی زندہ تھی۔دادی نے پرانی ڈائریوں اور تصویروں سے وہ تاریخ نکال دی:
15 مارچ 2002میرا پانچواں جنم دن… آخری ایسا دن جب ماں نے میرے لیے کیک بنایا تھا۔
ٹائم اینکر کے عمل میں چند سیکنڈ لگے…اور جب آنکھ کھلی تو ایک اجنبی سا منظر تھا۔مگر دل کو عجیب سی مانوسیت کا احساس ہوا۔وہی پرانی لکڑی کے فرنیچر والا گھر… وہی کمرے کی ہلکی سی خوشبو…اور پھر… ماں…ایک لمحے کے لیے سانس رک سی گئی۔
وہ سامنے کھڑی تھی… ہلکی گلابی ساڑھی میں… بالوں میں گجرا…
اور ہنستی آنکھیں!اتنی نرم، اتنی زندگی سے بھرپور کہ دل بھیگ گیا۔
میرے ننھے وجود کو گود میں اٹھا کر وہ کہہ رہی تھی:”میرا شہزادہ کیسا لگ رہا ہے؟ آج تو پورے پانچ برس کے ہو گئے!”میرے لب خاموش تھے، مگر آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔کیسا عجب منظر تھا
جسے برسوں دل نے صرف ایک خواب میں دیکھنے کی کوشش کی تھی، آج وہ حقیقت بن چکا تھا۔پھر ایک ایک لمحہ دل میں نقش ہوتا چلا گیا۔ماں میرے ننھے ہاتھوں کو تھام کر کیک کے پاس لے گئی۔”چلو بیٹا، موم بتیاں بجھاؤ!وہی لوری، وہی آواز “سو جا میرے راجا… نیندیا رانی آئے گی…”اور میں
وقت کا قیدی بن کر… بس دیکھ رہا تھا۔چھو نہ سکتا تھا، بول نہ سکتا تھا۔مگر دل کے اندر کی ساری خالی جگہ جیسے ہولے ہولے بھر رہی تھی۔ماں نے ننھے وجود کو گود میں لے کر چوما۔
کتنے برسوں سے اس لمس کی خواہش دل میں دبی تھی!
آنکھوں کے گوشے بھیگتے گئے…
دن ڈھلا۔
ماں کی مسکراہٹ، اس کی آغوش کی خوشبو دل میں سمیٹ لی۔
اور پھر واپسی کا لمحہ آ گیا۔
مشین کی گھنٹی بجی…ایک نظر ماں پر ڈالی…اور دل میں عہد کیا:
“ماں، اب جب بھی زندگی کے تھکے لمحے آئیں گے، تیری مسکراہٹ یاد آ جائے گی…”
جب آنکھ کھلی تو ایک عجب سی نرمی دل میں تھی۔
ایک سکون، جو برسوں نہ تھا۔میں نے اپنی ڈائری میں لکھا:”وقت کے قیدی بن کر جا کر… کبھی کبھی دل قیدی نہیں رہتا۔”

ماں کی خوشبو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں