افسانہ
دروازہ کھلا اور ہلکی سی آہٹ سنائی دی۔ میں نے مسکراتے ہوئے اپنی مخصوص تان لگائی، “آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج۔”
چند لمحوں بعد دروازے میں سے ہمارے سب سے چھوٹے بیٹے، ابراہیم، کا چہرہ نمودار ہوا۔
“میرے پیارے بلبل!” میں نے بانہیں پھیلا دیں، اور وہ لپک کر مجھ سے لپٹ گیا۔
“اماں! آپ کتنی اچھی ہیں!” اس نے میرے ماتھے پر محبت بھرا بوسہ دیا۔
میں نے مسکرا کر جواب دیا، “اچھے تو آپ ہو، میری جان۔ You are the best thing in my life.”
یہ ہمارا روز کا معمول تھا۔
ہمارے ہاں محبت کا اظہار چھپانے کی چیز نہیں تھی بلکہ ایک ایسا رنگ تھا جو ہر تعلق میں گھلا ہوا تھا۔ اس دن گھر میں ہماری ایک عزیز مہمان بچی موجود تھی۔ اس نے حیرت سے ہمیں دیکھا اور بولی، “یہ سب آپ لوگ اتنی آسانی سے کیسے کہہ لیتے ہیں؟”
میں نے مسکرا کر کہا، “جیسے غصہ آسانی سے کر لیتے ہیں، ویسے ہی محبت کا اظہار بھی آسانی سے کرنا چاہیے۔”
وہ سوچ میں پڑ گئی اور پھر بولی، “میرے والدین بھی محبت کرتے ہیں لیکن ایسے لفظ کبھی نہیں کہتے۔”
“محبت کے الفاظ زبان سے ادا کرنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا محبت کا احساس دل میں رکھنا۔ ” میں نے نرمی سے سمجھایا، “اگر برے الفاظ کا اظہار کرنا ہمیں آسان لگتا ہے تو اچھے الفاظ کا اظہار بھی سیکھنا چاہیے۔”
“کیا آپ صرف بچوں سے ایسی باتیں کرتی ہیں یا انکل سے بھی؟” اس نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔
میں نے ہنس کر جواب دیا، “انکل سے تو سب سے زیادہ۔”
“لیکن وہ تو بہت سنجیدہ ہیں۔” اس نے حیرانی سے کہا۔
“پیار کے الفاظ ہر کسی کو اچھے لگتے ہیں، چاہے وہ جتنا بھی سنجیدہ ہو۔” میں نے نرمی سے کہا۔
لیکن میں ہمیشہ ایسی نہیں تھی۔
پہلے میں ہر چیز کا برا مناتی، دل میں رکھتی، کبھی کبھار غصے یا شکوے میں کہہ بھی دیتی، لیکن زیادہ تر اندر ہی اندر گھلتی رہتی۔ اگر کسی نے میری مدد نہ کی، کوئی میری بات کو اہمیت نہ دے، یا کسی نے کچھ ایسا کہہ دیا جو مجھے برا لگا، تو میں دنوں تک اسی بات میں الجھی رہتی۔
پھر ایک دن میں نے اپنے خیالات کو سمجھنے کے لیے جرنلنگ شروع کی۔
پہلے دن میں نے صرف شکایات لکھیں:
“کوئی میری مدد نہیں کرتا۔”
“مجھے ہمیشہ اکیلے سب کچھ کرنا پڑتا ہے۔”
“کیا میں واقعی کسی کے لیے اہم ہوں؟”
پھر میں نے سوچا کہ میں نے کب کب اچھا محسوس کیا؟ اور وہ کون سے لمحات تھے جب مجھے واقعی خوشی ملی؟
جب ابراہیم نے مجھے گلے لگایا۔
جب میرے شوہر نے میرے کھانے کی تعریف کی۔
جب میری نند نے میری مدد کی۔
تب میں نے محسوس کیا کہ میں صرف منفی چیزوں پر دھیان دیتی ہوں اور مثبت چیزوں کو نظرانداز کر دیتی ہوں۔
میں نے شکرگزاری کی مشق شروع کی۔ ہر رات سونے سے پہلے کم از کم تین چیزیں لکھتی جن کے لیے میں شکر گزار تھی۔
“میں شکر گزار ہوں کہ آج مجھے آرام کے چند لمحات ملے۔”
“میں شکر گزار ہوں کہ میرے بچوں نے مجھے خوش کیا۔”
“میں شکر گزار ہوں کہ میرے شوہر نے مجھے سراہا۔”
آہستہ آہستہ میری سوچ بدلنے لگی۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں، میں زیادہ خوش اور مطمئن ہوں، اور اب میں اپنے پیاروں کو بھی زیادہ عزت اور محبت دے رہی ہوں۔
یہ سب میں نے سسرال میں آ کر سیکھا تھا۔ ابتدا میں، مجھے لگا کہ یہاں جذبات کا اظہار کرنا شاید زیادہ پسندیدہ عمل نہیں ہوگا۔ لیکن پھر میں نے دیکھا کہ میٹھے بول کیسے دل جیت لیتے ہیں، کیسے گھروں میں سکون اور راحت بھرتے ہیں۔
سسرال میں شروع میں اجنبیت کا احساس فطری تھا، لیکن میں نے طے کر لیا تھا کہ محبت اور نرمی سے اپنی جگہ بناؤں گی۔
اپنے شوہر کے ساتھ، میں نے محبت کے وہی اصول اپنائے جو میں نے اپنے بچوں کے ساتھ اپنائے تھے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر “شکریہ” کہنا، تعریف کرنا، اور محبت بھرے جملے کہنا۔
“زندگی کو ہنی مون کی طرح گزارنا چاہیے، اور اس کے لیے محبت کے میٹھے الفاظ ضروری ہیں۔” یہ میں نے اپنے دل میں بٹھا لیا تھا۔
میں نے سسرال میں ہر رشتے کے لیے یہی طریقہ اپنایا۔ ساس کے لیے، نند کے لیے، دیورانی کے لیے۔
محبت، عزت، اور نرمی نے ہر جگہ میرے لیے آسانی پیدا کر دی۔
زندگی میں رشتے نبھانے کا فن دراصل میٹھے بول سے شروع ہوتا ہے۔
گھر بنانے پڑتے ہیں، یہ بنے بنائے نہیں ملتے۔ محبت کو اظہار کے پانی سے سینچنا پڑتا ہے، ورنہ یہ سایہ نہیں دیتی۔ رشتوں کے چراغ درگزر، صبر اور پیار کے گھی سے جلانے پڑتے ہیں، ورنہ ان میں روشنی نہیں ہوتی۔ اور زندگی کو میٹھے بول سے میٹھا کرنا پڑتا ہے، ورنہ اس کی کڑواہٹ برداشت نہیں ہوتی۔
میں آج ان رشتوں کے لیے شکر گزار ہوں جو میری زندگی کا سب سے حسین تحفہ ہیں، ان محبتوں کے لیے جو اخلاص کی بنیاد پر قائم ہیں، اور ان پیار کے لفظوں کے لیے جو میرے کان سنتے ہیں۔ میں بے حد احسان مند، بے حد شکر گزار ہوں۔
مجبوری سے اختیار تک