’’ڈاکٹرنذیرتبسم اپنی کتاب میں اپنی شریک حیات جو اب اس جہاں فانی میں نہیں رہیں کے بارے میں لکھتے ہیں۔
ہم میاں بیوی میں لڑائی ہوگی۔ہم سوگۓ ۔رات گے مجھے پیاس لگی تو واٹر کولر پاس ہی پڑا تھا میں نے اٹھ کر پانی ڈالا اور پی لیا۔جب نظر بیوی پر پڑی تو وہ آنکھوں میں آنسو لیے گھور رہی تھی۔میرے دیکھنے پہ بولی آپ نے خود پانی کیوں پیا۔میں نے بھی اکٹر دکھائی اور کہا کہ میرے ہاتھ پاؤں سلامت ہیں پی سکتا ہوں اس نے میرا گریبان پکڑا اور کہا خبردار چاہے لڑائی ہو تب بھی آپ نے مجھے میری خوشی اور حق سے محروم نہیں کرنا۔یہ سن لر میری آنکھیں نم ہو گئیں۔اور پھر ہماری صلح ہوگی، اور اب روزانہ رات کو تین چار بار اٹھ کر جب میں خود پانی پیتا ہوں تو سامنے دیوار پر لگی اس کی قد آدم تصویر میں بھی اس کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں یا پھر شاید میں اس کی تصویر ہی بھیگی ہوئی آنکھوں سے دیکھتا ہوں تب مجھے یاد آتا ہے کہ میں نے اسے کہا تھا کہ
“محبت مر نہیں سکتی”‘‘
اس واقعہ نے دل کو چھو لیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ محبت مر نہیں سکتی۔اگر ہو توہم میں سے اکثر مرد اپنی بیویوں کی قدر نہیں کرتے، ان کی محبت، ایثار اور قربانی کو دل کھول کر نہیں سراہتے، دوسروں کے سامنے بہت کم تعریف کرتے ہیں بلکہ ان کے اپنے سامنے بھی ایسے الفاظ استعمال نہیں کرتے۔ معلوم نہیں مردانہ انا آڑے آ جاتی ہے یا ہم لوگ اظہار میں کمزور ہوتے ہیں۔ وجہ جو بھی ہو، بیشتر بیویوں کی اپنے خاوندوں سے ایسی ہی محبت ہوتی ہے۔ وہ ان کا خیال کرتی ہیں، ان کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرتی ہیں، ان کے بچوں کی پرورش کرتی ہیں، بیشتر کیسز میں ان کے بوڑھے ماں باپ کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور اس سب کے عوض انہیں محض پیار ، نرمی، شائستگی اور کبھی کبھار کا پرخلوص محبت بھرا اعتراف چاہیے ہوتا ہے۔ یہ کیا کچھ زیادہ قیمت ہے؟
سچ تو یہ ہے کہ یہ واقعہ پڑھتے ہوئے مجھے اپنی بیوی یاد آ گئی۔ میری عادت ہے کہ رات کو ایک دو بار اٹھ کر پانی پیتا ہوں، میرا گلا خشک ہوجاتا ہے تو ایک گھونٹ لے کر گلا تر کرنا پڑتا ہے۔ میری بیوی نے اتنے طویل برسوں میں ہمیشہ خیال رکھا ہے کہ میری سائیڈ ٹیبل پر پانی کی بوتل یا پانی کا گلاس ڈھکا ہوا پڑا ہو۔ وہ جتنی تھکی ہو، طبعیت ٹھیک ہو ن ہو، اس ذمہ داری کو ہمیشہ نبھاتی ہے۔ بہت بار میں نے اسے کہا کہ میں پانی بھر کر رکھ دوں گا، تم تھکی ہوئی ہو، صبح جلدی اٹھنا ہے سو جائو ، مگر اس نے ہمیشہ اس کام کو خود کرنا چاہا اور اصرار کر کے خود کیا۔ میں سوچتا ہوں کہ یہ کئی ہزار راتیں بن جاتی ہیں، اگر اوسط نکالی جائے تو تقریباً سو فی صد بنے گی۔ ایک فی صد راتیں بھی ایسی نہیں جب میرے ساتھ پانی نہ پڑا ہو۔ ایک فی صد بھی ایسا نہیں حالانکہ پانچ دس فی صد تو ذمہ دار سے ذمہ دار ترین شخص کا بھی مارجن آف ایرر ہوتا ہے۔
اللہ ان بیویوں کو سلامت رکھے، خوش اور آسودہ رکھے اور اپنے مردوں کے ساتھ ان کا طویل خوشگوار ساتھ رہے اور روز آخرت ان کی اس محبت اور قربانی کا عظیم اجر عطا فرمائے، آمین۔ یہ حقیقت ہے کہ مرد اپنی بیوی کے بغیر ادھورا اور نامکمل ہے۔سچ ہے محبت مر نہیں سکتی۔
منقول