” حاجرہ عمران کراچی
موسم گرما کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب سرد ہوائیں پہاڑوں کی اوٹ میں اپنے گمشدہ مقام کی طرف واپس لوٹ جاتی ہیں۔اسی اثنامیں سورج آسمان کی گود سے نمودار ہو کر ، کہر کی دبیز تہہ ہٹا کر گہرے بادلوں کی اوٹ سے جھانکتا ہے اور آسمانِ دنیا پر آنکھیں ملتا ہوا آب و تاب سے چمکنے لگتا ہے۔
یوں موسم گرما فطرت کی گود سے جنم لیتا ہے
موسم گرما کی آمد نہ صرف فطرت اور ماحول میں تغیر و تبدل کی وجہ بنتی ہے بلکہ انسانی زندگی پر بھی بھر پور طریقے سے اثر انداز ہوتی ہے۔ پہننے، اوڑھنے کے انداز میں تو تبدیلی آتی ہی ہے ،طعام وآرام کے اوقات تک بدل جاتے ہیں , دن اور رات کے اطوار بدل جاتے ہیں۔
یہ بات سو فیصد درست ہے کہ زمیں کے باسیوں کی زندگی
ازل سے ہی موسموں کی محتاج رہی ہے
موسم گرما اپنے ساتھ گرم ہواؤں اور گرم مزاجوں کاموسم لے کر طلو ع ہوتا ہے ، ساری فضا گرمی اوڑھ لیتی ہے
گرم علاقوں میں رہنے والوں سے بہتر بھلا کون جان سکتا ہے کہ گرمی کیا ہے ؟جس وقت گوگل اڑتیس ڈگری سینٹی گریڈ پر خوشگوار موسم پر مبارکباد دے رہا ہوتا ہے اس وقت میدانی علاقوں کے بجلی سے محروم لوگ گرمی کی شدت سے جھلس رہے ہوتے ہیں۔ اس وقت صرف ایک احساس حواسوں پر چھایا ہوتا ہے کہ گرمیوں کاموسم آ پہنچا ۔
مشرقی خطے میں جیسے ہی مارچ ‘مارچ پاسٹ ‘کرتا ہواآتاہے، موسم گرما کی آمد کا طبل بجنے لگتا ہے ۔۔۔ مشرق میں آمدِ گرما کے بارے میں سوچ سوچ کر جان نا تواں پر فکر سی سوار ہوئی چلی جاتی ہے ۔جوں جوں موسمِ گرما قریب آتا ہے توں توں جسم سے جاں نکلتی محسوس ہوتی ہے۔کیونکہ یہاں گرما اپنی پوری شدت سے وارد ہوتا ہے ۔زمین سے آسمان تک ہر شے انگارہ بنی دہک رہی ہوتی ہے ۔آسمان بے رونق اور چٹیل میدان کی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔اس کا پورا وجود جیسے کسی سفاک عفریت کا روپ دھار لیتا ہے۔جو زمین والوں پر اپنا تمام قہر الٹا دینا چاہتا ہے ۔گرمی ایسی کہ جسم جھلسادیتی ہے اور دما غ پگھلا دیتی ہے ۔حیرت تو ہمیں مغربی باشندوں پر ہوتی ہے جو موسم گرماکو نعمت سے کم نہیں جانتے اور اس کے آنے پر خوشی سے نہال ہوئے جاتے ہیں ۔ جہاں تفریحی مقامات کا رخ کر لیا جاتا ہے اور موسم گرماکاہر ویک اینڈ تفریح و سیاحت میں تبدیل ہوجاتا ہے اس کے بر عکس پاکستان کے میدانی علاقوں میں گرم رت کا استقبال ہمیشہ طویل لوڈ شیڈنگ سے کیا جاتا ہے اور اسے اپنے لیے بار گراں سمجھا جاتا ہے ۔ مگر پھر بھی مقامی پارکوں کی رونق قابل دید ہوتی ہے ۔
اس بار 2017 میں اپریل کا ایک ہفتہ ایسا بھی گزرا جب درجہ حرارت پینتالیس ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا اور جون جولا ئی کی گرمی کا ذائقہ فضا میں گھل گیا سو اہل مشرق کونانی کے ساتھ ساتھ دادی بھی یاد آتی رہی ۔
موسم گرما کی اولین ترجیحات میں سرما کو رخصت دے دی جاتی ہے۔بہار بھی کچھ دیر قیام کر کے رخصت ہوتی ہے اور تب آفتاب ہلکی ہلکی تپش بڑھانے لگتا ہے ۔ایسے میں روئے زمین کے باسی اپنے ٹھھٹرتے ہو ئے وجود کی رگوں میں گرمی سی دوڑتی محسوس کرتے ہیں۔
موسم سرما اداس رت کا موسم ہے جس میں پھول پتے ، سبزہ درختوں سےجدائی کا عذاب سہنے پر مجبور ہوتے ہیں اس کے بر عکس موسم گرماکئی رتوں میں رنگا موسم ہے ، جس کی ہر رت کا رنگ دوسری رت سے الگ ہے۔
خزاں رسیدہ رتیں اداسیوں کا پیرہن اتار کر ہجرتیں اختیار کر لیتی ہیں ، فضا کا سارا رنگ اپنے سنگ لے جاتی ہیں فضاء بوجھل اور اداسیوں سے لبریز ہوتی ہے ۔ ایسے میں قدرت کو زمین والوں پر جو رحم آ جاتا ہے ۔۔تو ۔۔پودوں اور درختوں کو سبزے اور پھولوں کا نیاخلعت عطاکر دیا جاتا ہے۔ موسم بہار سے سبزے کاآ غاز ہوتا ہے جو عین گرمی میں اپنے جوبن پر ہوتا ہے، گلاب ، موتیا ، گیندہ، چمبیلی ،املتاس ، بوگن ویلیا مسکرا مسکرا کر زندگی میں موسم گرما کی اہمیت اجاگر کر نے لگتے ہیں
موسم گرما اور گرمی لازم و ملزوم ہیں ،ا گرموسم گرما کی شدت کو بھلا کر اس میں میّسر نعمتوں کا شمار کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ موسم جاں لیوا گرمی کے ساتھ ساتھ ان گنت نعمتوں سے مالا مال ہے۔ موسم گرما کی کسی ایسی ہی شام اچانک سے در آنے والے سرمئی بادل گیلی ہواؤں کے سنگ ٹھنڈی ٹھار بارشوں کی صورت برستے ہیں ،چاروں اوڑھ پھیلا سبزہ اور بھی دلکش اور شاداب ہو جاتا ہے ۔جادوئی سی خوشبو چاروں اور بکھر جاتی ہے ، مناظر جاوداں “سے ہو جاتے ہیں۔
یہ وہ خوبصورت موسم ہے جس کا تعلق پھولوں اور سبزے سے ہے۔جب مشرق و مغرب کا ہر پھول پودا اور پتا جوبن اوڑھ لیتا ہے جیسے کم سن دوشیزہ پر پہلی بار شباب آ جا ئے ۔جب پھول اور تتلی میں رازو نیاز ہوتے ہیں ۔تتلی پھول کے بدن پر آنکھیں موندے خوابوں کے تانے بانے بنتی رہتی ہے ۔بھنورے رنگ برنگے پھولوں کے گرد جھوم جھوم کر خوشی کے گیت گنگناتے ہیں ۔موسم گرما مشرق والوں پر کسی انعام کی طرح اتارا گیا ہے۔گندم ،کپاس،کماد اور مکئی کی فصلوں کی صورت زمین سنہری ،سبز ،سفید اور پیلے رنگ کی چادریں اوڑھ لیتی ہے تو آم،جامن، خوبانی، الیچی اور آلو بخارا درختوں پر بہار دکھا رہے ہوتے ہیں ۔ ۔
موسم گرما سورج کے عروج کا زمانہ ہے جو دنیا کو اپنے وجود کی اہمیت سے روشناس کرانے آسمان دنیا پر روشن ہوتا ہے اور اپنی حکمرانی کا پیغام دے رہا ہوتا ہے ۔
سرد رتوں کے باسیوں سے بڑھ کر کون موسم گرما کا قدر دان ہوگا ۔برف زاروں کے ٹھٹھرے ہوئے لوگ، جن کی رگوں میں منجمد خون نیلاہٹ اختیار کر چکا ہوتا ہے، شدت سے گرما کے مںتظر ہوتے ہیں تا کہ اس کی حدّت میں زندگی کی تمام نعمتوں سے لطف اندوز ہو سکیں ۔سبزے کی ٹھنڈک رگ جاں میں اتار سکیں ہرے بھرے گھنے درختوں کی چھاؤں میں کچھ دیر سستا سکیں ۔زندگی کو اپنے احساس سے چھو کر محسوس کر سکیں ۔ یہ بات سچ ہے کہ ‘ گرمی ‘زندگی ہے ۔اسی لیے تو زندگی بھی آغوش مادر کی گرماہٹ میں ہی پرورش پاتی ہے ۔یہ وہی گرما ہے جو زندگی کی ضمانت ہے اور اس کا جوبن کائنات کاحسن بر قرار رکھے ہوئے ہے ۔
397