301

مِری ذات ذرّہِ بے نشاں

تحریر شئیر کریں

مِری ذات ذرّہِ بے نشاں

از قلم ساجدہ بتول

قسط 9

”
اُس کے ذہن میں ایک ترکیب آٸی اور وہ اڑنے لگا ۔ کچھ دیر بعد وہ ایک گٹر کے اندر تھا ۔ جہاں گندگی کے اوپر ایک بوڑھا اور نہایت بھیانک شکل والا شیطان لیٹا ہوا تھا ۔ جو بے حد لاغر ہو چکا تھا ۔ وہ شیطان اتنا کمزور پڑ چکا تھا کہ اس کی کانپیں ٹانگ رہی تھیں ”کیسے ہو شکر دادا! “ مردود نے غصے سے پوچھا ”ابلیس کا لاکھ لاکھ ظلم ہے ۔ “ بوڑھے شیطان نے ٹانگتی ہوٸی کانپوں کے ساتھ کہا ۔ ”تم ابھی تک مرے نہیں!“ مردود نے اپنی ازلی خباثت کا مظاہرہ کیا ۔ ”میں کیوں مروں!“ بوڑھا شیطان بولا ۔ ”میں نے تو اب تک لاکھوں فساد پڑواٸے ۔ کروڑوں مسلمانوں کو جہنم میں بھیجا ۔ مرو تم جو دو چار مسلمانوں کو گمراہ کرنے کا تجربہ بھی نہیں رکھتے ۔“ ”او بد بخت میں یہی تو سیکھنے آیا ہوں ۔

“ مردود چلایا ”شر تو ہے ؟؟“ بوڑھا شیطان حیران ہوا جوابًا مردود نے ساری داستان کہہ سناٸی ۔ ”ہوں ہاہ “ بوڑھے نے ایک کریہہ ہنکارا بھرا ۔ ”یہ بہت آسان ہے ۔ ”کوٸی گھٹیا ترین کام یوں ہو سکتا ہے “ کہتے کہتے اس نے تالی بجاٸی ۔ جیسا کہ انسان چٹکی بجاتے ہیں ۔ کیونکہ کافر اور فاسق جنات کے سارے طور طریقے بے ڈھنگے ہوتے ہیں ۔ ”پھر مجھ سے کیوں نہ ہوا ؟“ ”تم سے غلطی یہ ہوٸی کہ تم نے گھٹیا ترین کام کے لیے عورت کو چنا ۔

“ ”ہاٸیں تو پھر کیا کرتا! عورت ہی تو ہمارا جال ہے ۔“ ”بالکل جال ہے ۔ “ بوڑھے نے کہنا شروع کیا ” مگر تب جب بات عشق مجازی کی ہو ۔ جبکہ یہاں تمہارے پاس آپشن تھا کہ کوٸی سا بھی گناہ کروا سکتے ہو ۔ ۔۔۔ تم جھگڑا پڑوانا چاہتے تھے اور عورت ایسے کسی کام میں تعاون نہیں کرتی ۔ اور پاکستانی عورت تو بالکل بھی نہیں ۔ کیونکہ پاکستانی عورت حالات کی ڈسی ہوٸی ہے ۔ ایک طرف اسے مشرقی بنایا جا رہا ہے تو دوسری طرف مغربی ۔ وہ ان دو متضاد راستوں کے بیچ لٹک رہی ہے ۔

ایک طرف اس پر گھر بار کی مکمل ذمہ داریاں عاٸد کی گٸی ہیں ۔ اسے خاندانی نظام میں جکڑ دیا گیا ہے اور یوں اس پر مشرقی نظام کا دباٶ ہے ۔ مگر دوسری طرف اسے گھر سے باہر نکل کر کما کے لانے کا بھی پابند کیاجا رہا ہے ۔ دو مخالف راستوں کے کام وہ تن تنہا اپنے ناتواں کندھوں پہ اٹھاٸے ہوٸے ہے لہذہ وہ پہلے ہی پریشان ہے اور مزید پریشان ہونا گوارا نہیں کر سکتی ۔ “ ”مگر میں تو یہی سوچ رہا تھا کہ کسی ایسی عورت کو استعمال کروں جو گھر بار کی ذمہ داریوں میں جکڑی ہوٸی اور مکمل دباٶ میں ہو تا کہ ہیجانی ہو کر میری بات مان لے ۔“ ”آہ “ بوڑھے شیطان نے ٹھنڈی سانس لی ۔

”اس کمبخت کی فطرت میں خدا نے صبر اتنا رکھ دیا ہے کہ یہ بڑے سے بڑے مسٸلے کو بھی ٹھنڈے پیٹوں ہضم کر جاتی ہے ۔۔۔ خال خال عورتیں ہوتی ہیں جو مساٸل کی وجہ سے نفسیاتی مریضہ بنتی ہیں ۔۔ورنہ اکثر خواتین تو سخت ترین حالات کے بعد مزید سدھر جاتی ہیں ۔ کل تمہارا واسطہ جن خواتین سے پڑا ، وہ سب کی سب چالاک تھیں ۔ جن کو حالات نے ہر طرح کے مساٸل سے نمٹنے کا گر سکھا دیا تھا ۔ ایسی خواتین کی نظر میں زیادہ اہمیت اس کی ہوتی ہے جو ان کا سہارا ہو ۔ ۔

۔ اس کا ساتھ بچانے کے لیے وہ کچھ بھی برداشت کر جاتی ہیں ۔ یہ خصوصیت صرف ایک مشرقی عورت کو حاصل ہے کہ بے جا دباٶ کے بعد وہ اندر اور باہر کے سارے کاموں میں طاق ہونے کے ساتھ ساتھ اب خانہ جنگیوں سے نمٹنے میں بھی ماہر ہو چکی ہے کیونکہ اس کو بیوی اور بہو کے روپ میں ستایا ہی اتنا زیادہ گیا ہے کہ اب وہ خود کو ایسا بنا چکی ہے کہ توڑی بھی نہ جاٸے اور نچوڑی بھی نہ جاٸے ۔ سخت نہ نرم ۔ “

” مگر خاندانی نظام سے تو ہم نفرت کرتے ہیں کیونکہ اس میں عورت کے لیے تحفظ ہے اور ہم کٸی دہاٸیوں سے مشترکہ خاندانی نظام کو توڑنے میں مصروف ہیں ۔ “ مردود نے کہا ”ہاں ایسا ہی ہے ۔ مشترکہ خاندانی نظام میں پاکستانی عورت کے لیے مثبت چیز یہی ہے کہ اس میں اس کے لیے حفاظت ہے ۔۔ مگر یہیں سے اس کے لیے بے پردگی کا راستہ بھی تو کھلتا ہے ناں!“ بوڑھے نے آخری الفاظ پہ ایک آنکھ دباٸی ۔ ”اوہو! ہاٸیں!!“ مردُود چونکا ”اس لیے ہم اس کو تب تک مکمل ختم نہیں ہونے دیں گے

“ بوڑھے شیطان نے مزید کہنا شروع کیا ”جب تک اس معاشرے کی عورت مکمل طور پہ بے پردہ نہیں ہو جاتی ۔ ہم سکرین کی ساری اقسام کے ساتھ ساتھ اسکول ، کالج ، یونیورسٹی ، جم اور کلب کے ذریعے اس پہ کام کر رہے ہیں ۔ ادھر اس عورت کا جسم عریاں ہو گا ، ادھر تب تک اس کا خاندانی نظام مکمل ٹوٹ جاٸے گا ۔ ابھی تو ہم خاندانی نظام کی توڑ پھوڑ کو خود ہی سلو پواٸزن دے رہے ہیں ، اس طرح کہ عورت کو گھر سے باہر نکالنے کے ساتھ ساتھ اس کے بڈھوں کے حواس پہ بھی سوار رہتے ہیں ۔ جو ہمارے کہنے پہ شور مچاتے رہتے ہیں کہ بھلے گھر کے اندر زنا کے اڈے کھل جاٸیں ،

ان کی ساری اولادیں ان کی نظروں کے سامنے رہنی چاہییں ۔ “ ”اوہ۔۔۔۔ اف!“ تو یہ ہمارے ہی شیاطین کر رہے ہیں!!“ مردود پہ حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ۔ ”ہاں! اور کیا!!“ بوڑھا شیطان بولا ”مگر ہم اس کو توڑیں گے ضرور ۔۔۔۔ کیونکہ مشترکہ خاندانی نظام عورت کے لیے فاٸدہ مند بھی بہت ہے ۔ کہ اس میں اس کے لیے تحفظ بھی ہے اور ذمہ داریاں اٹھانے بالخصوص بچے پالنے میں تعاون بھی ۔۔۔ مگر یہ نظام اس کے لیے غیر مفید اس طرح ہو گیا ہے کہ اس میں انصاف نہیں ہوتا ۔

صرف طاقتور ، با اختیار اور صاحب حیثیت کی ہی اسمِری ذات ذرّہِ بے نشاں میں سنی جاتی ہے ۔ نتیجتًا عورت اس میں کسی نہ کسی روپ میں ضرور مار کھا رہی ہے ۔ کبھی ساس کے روپ میں ، کبھی بہُو کے روپ میں ۔ کبھی بیٹی ہونے کے جرم میں ۔ ۔ بالخصوص مشترکہ خاندانی نظام میں عورت بہو کے روپ میں زیادہ مار کھا رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اوہ!!!“ بوڑھا شیطان بولتے بولتے یکدم چونک گیا ۔ ”کیا ہوا ؟“ مردود حیران ہو گیا

(جاری ہے )مِری ذات ذرّہِ بے نشاں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں