مِری ذات ذرّہِ بے نشاں
از قلم ساجدہ بتول
قسط 11
”ہو ہا ہو ہا “ ہاٶ ہو ہاٶ ہو “ غرض گٹر میں ہر رنگ ہر ساٸز اور ہر کوالٹی کے قہقہے ناچنے لگے (آپ اِن قہقہوں کو اچھی طرح یاد کر لیجیے ہم دوبارہ یاد نہیں کرواٸیں گے ) ”حوصلہ ۔۔۔ حوصلہ “ آخِر مردود نے ہنسی روکی اور شیطان کو تسلّی دی ”کیسے حوصلہ کرُوں ہاہا کھاں ہاہا کھاں ہاہا کھیں کھیں “ کہتے کہتے شیطان ہنسنے اور کھانسنے ایک ساتھ لگا ۔ اس کی ہنسی اور کھانسی نے مکس ہو کر ایک نٸی وراٸٹی متعارف کروا دی تھی ”ہوہو کھیں کھاں آہ آہ ہاہاہا کھیں کھاٶں کھاٶں ۔۔۔ کھیں ہاہا کھیں ہاہا کھیں ہاہا “ کھانستے کھانستے کھانستے وہ ہانپنے لگا مگر ہنسنےسے باز نہ آ رہا تھا ۔ کھاٶں کھاٶں آہ آہ ہو “ بالآخر وہ تھک کر بیٹھ گیا اب پھوٹ دو وہ واقعہ ۔ مردود جھلّایا جس پر بڈھے کی گاڑی دوبارہ اسٹارٹ ہو گٸی اور وہ اسے اپنی بھدّی آواز اور نحیف انداز میں وہ سارا واقعہ سناتا چلا گیا ۔ کس طرح اس شخص کو بیٹی کا وجود گالی لگتا تھا ۔ کیسے وہ اسے لے کر گھر سے باہر نکلا ۔ کس طرح ایک ویرانے میں پہنچا ۔ کس طریقے سے مٹی کھودی اور کیسے وہ معصُوم بچی اپنے ہاتھوں سے ہوا دیتے ہوٸے اپنے باپ کا پسینہ خُشک کرنے کی کوشش کرتی رہی ۔۔ پھر کیسے اُس نے اسے گڑھے میں میں ڈال کر اس پر مٹی گرانا شروع کر دی اور آخِر کار اسے دفن کر دیا ۔ ”میں اُس حصّے میں کٸی دفعہ گیا ہوں کھاٶں کھاٶں “ سارا واقعہ سنانے کے بعد بوڑھا شیطان کہنے لگا ” وہ جگہ آج بھی ویران ہے کھاٶں کھاٶں ۔ اس کے ارد گرد بلند و بالا عمارات ہیں کھاٶں کھاٶں ۔ اپنے چہار اطراف سے عمارات میں گھرا ہوا وہ قبرستان آج بھی بے آباد ہے کھاٶں کھاٶں ۔ کیُونکہ تعمیر کے لیے اس جگہ پہ جب بھی کھداٸی ہوٸی بھالے اور کدالیں اس کے اندر جا ہی نہ سکے کھاٶں کھاٶں ۔ حتیٰ کہ اب جدید مشینری اس پہ آزماٸی گٸی کھاٶں کھاٶں ۔ مگر زمین کا وہ قطعہ اتنا سخت ہے کہ اس کو جدید مشینیں بھی کھود نہیں سکیں کھاٶں کھاٶں ۔ “ کھانستے کھانستے بُڈھا پھوٹ ہی دیا ۔ مردُود کے ہتھے ایک جاندار پواٸنٹ چڑھ گیا تھا ۔۔۔۔ اس نے بوڑھے شیطان کو دو چار گالیاں دی اور پھر اسے لعنت دے کر وہاں سے نِکل آیا ۔ اب اُسے کسی جوان شادی شُدہ مرد کی تلاش تھی ۔۔ اس کی قسمت اچھی تھی یا اس درندے کی بُری! کہ اُڑتے اُڑتے وہ سیدھا اسی کے قریب پہنچ گیا ۔ اس شخص کی آنکھوں میں عجیب سفاکیت تھی جسے ویلکم سگنل جان کر مردود فورا اُس کے دماغ میں گھس گیا ”اونہہ آ گٸی بیٹی میرا سر جھکانے کو ۔ کتنا شوق تھا ناں مُجھے بیٹے کا ۔۔ مگر ہونہہ “ وہ درندہ اپنے دل میں کہہ رہا تھا مردود کا جی چاہا ، خوشی سے ناچنے لگے ۔ اس کی تو دلی مراد آج پہلے قدم پہ ہی برآٸی تھی اور اُس کو پورا اسی کام کا چانس مل گیا تھا جس کی کہانی اس کو بوڑھےشیطان نے سناٸی تھی ۔ اُس کو صرف اپنی کامیابی سے مطلب تھا مگر وہ نہیں جانتا تھا اس گھناٶنے کام کے بعد شیطانیت کو کِتنا فروغ ملے گا اور پُورے پاکستان میں ایک نیا سوال کھڑا ہو جاٸے گا ۔ لوگوں کے ذہن کتنے منتشر اور متنفّر ہو جاٸیں گے ۔ اِس پستی کو ترویج تو انسان ہی دے رہا تھا ۔ ایک پاکستانی مرد ، جو صرف اپنی انا کا پگّڑ اٹھانا جانتا ہے بھلے اس کی نسلیں ختم ہو جاٸیں ، بس اس کی انا باقی رہنا چاہیے اس کی عزت پہ حرف نہیں آنا چاہیے ۔ ۔ رہا مردود ۔۔ وہ تو بس یہ سوچ رہا تھا کہ اسے گندگی کا ڈھیر مل جاٸے ۔ اصل شیطان تو وہ تھا جو اس وقت اپنا انسان نما سراپا اٹھا کے کھڑا تھا ۔ جس کو اشرف المخلوقات کا نام دے کر آزمایا گیا کہ یہ اشرفُ المخلوقات بنتا بھی ہے یا نہیں ؟ اور وہ اس آزماٸش میں فیل ہو گیا اور شیطان کا شیطان ہی رہا ۔ یہ پاکستانی مرد تھا مردُود نے پورے زور سے وار کیا تا کہ اس کا پہلا حملہ ہی کام کر جاٸے ”تو تم اسے مار ڈالو “ ”ہاٸیں مار ڈالوں ؟؟ “ ”ہاں ہاں مگر جلدی کرو اور اس کے لیے کسی سے مشورہ مت کرو تمہارے گھر والے اور سسرال والے اس میں روڑے اٹکاٸیں گے مگر بچی کی ذمہ داریاں اٹھانے کو کوٸی قریب بھی نہیں آٸے گا ۔۔ یہ تمہارا مسٸلہ ہے تم ہی حل کرو ۔ کسی سے کچھ کہنے سننے کی ضرورت نہیں ۔ ورنہ ہمیشہ کے لیے یہ مصیبت گلے میں لد جاٸے گی ۔ “ ”مم ۔۔۔ مگر ماروں کیسے ۔ اسلحہ کہاں سے لاٶں؟ “ مردُود کا دل چاہا ، خوشی سے دھمال ڈالنے لگے ۔ یہاں تو پہلا تِیر ہی نشانے پہ جا لگا تھا ۔ وہ شخص فورًا مان گیا تھا ۔ مردُود کو افسوس ہُوا کہ اب تک خواہ مخواہ عورتوں کے پیچھے خوار ہوا ۔ اونہہ سدا کی امن پسند اور مصلحت ساز پاکستانی عورت ۔ ”اس کا بھی راستہ بتاتا ہوں “ سوچوں کے گرداب سے نکل کے مردُود فورًا بولا۔ مبادا شکار ہاتھ سے نِکل جاٸے ۔ اب اسے تصوّر کی آنکھ سے نظر آ ریا تھا کہ ایک قیامت برپا ہونے ہی والی ہے ۔ کچھ دیر بعد درندہ غصّے سے چمکتی آنکھوں کے ساتھ ہاتھ میں اسلحہ لیے اپنے گھر میں داخل ہوا ۔ اُسے واردات کی بہت جلدی تھی ۔ اُس کے پیچھے پیچھے مردُود بھی تھا ۔
(جاری ہے)