344

مِیری ذات ذرّہِ بے نشاں

تحریر شئیر کریں

مِیری ذات ذرّہِ بے نشاں

قسط وار کہانی

از قلم ساجدہ بتول

*قسط 4

”ہُررررررا“ ایک دم آٹھ سالہ لڑکے نے نعرہ لگایا ۔ ”میرا ہوم ورک مکمل ہو گیا ۔ اب چاچو جلدی سے ہمیں چیز دلانے لے چلیں ۔ “
”بھٸی وہ تو کل لے کے دینی ہے ۔ “ نوجوان مسکرایا ۔
”جی نہیں ۔۔۔ جی نہیں ۔۔۔ آج کا وعدہ تھا ۔ “ لڑکے کے ساتھ وہ دونوں بچیاں بھی بول اٹھیں اور پھر وہ تینوں ہی اس کے قریب آ کر اچھلنے کودنے لگے ۔
مردُود کو ہجوم سے وحشت ہو رہی تھی مگر اس نے طے کر لیا تھا کہ یہاں سے زمانہِ جاہلیّت جیسا کوٸی کام کروا کے ہی رخصت ہو گا ۔ ۔۔ مگر اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ ایسا کچھ کرے تو کیسے کرے ؟؟
ادھر واکر والا بچہ رونے لگا ۔ اُسی وقت بیرونی دروازہ کھلا اور ایک عمر رسیدہ شخص اندر داخل ہوا ۔ نوجوان اس کی طرف متوجّہ ہو گیا ۔ بچے کے رونے پہ ایک جوان عورت کچن سے نکل آٸی ۔ اسے دیکھتے ہی مردود کی خوشی کی انتہا نہ رہی ۔ ”چار بچے ، ایک اماں ، ایک ابا ، ۔ اور یہ لڑکا شاید اس کا دیور ہے ۔ شوہر بھی یقینًا ساتھ ہی رہتا ہو گا ۔۔۔ یعنی یہ عورت کافی پابند قسم کی ہے ۔ سارا دن گھر والوں کی خدمتیں کرتی رہتی ہو گی ۔ ضرور چِڑچڑی ہو چکی ہو گی ۔ بس اسی پہ قسمت آزماتا ہُوں ۔ “ وہ خوش ہوتے ہُوٸے سوچ رہا تھا ۔
جوان عورت بچے کو واکر سے نکال کر اس کا ڈاٸپر تبدیل کروانے کے لیے غسلخانے میں گھس گٸی ۔

”بھٸی کچھ جلا نہ دینا ۔“ ادھیڑ عمر عورت نے رعب سے کہا ۔
”چولہا بند ہے اماں! “ لڑکی نے غسلخانے سے ہی جواب دیا ۔
”خاک بند ہے ۔ کل بھی دال جلا دی تھی ۔“ ساس نے غصے سے کہا ۔
”اماں میرے چپس بنا دیں ۔ “ اچانک آٹھ سالہ بچے کو جیسے یاد آیا ۔
”میں بھی کھاٶں گی ۔ “
”میں بھی ۔ “
دونوں بچیاں بھی شور مچانے لگیں ۔
”توبہ ہے تم لوگوں سے ۔ فرماٸشیں ہی ختم نہیں ہوتی تمہاری ۔ ابھی مجھے تم لوگوں کے یونیفارم بھی دھونا ہیں ۔ “ لڑکی نے ساس کا غصّہ بچوں پہ نکالا ۔
”یہ تو واقعی چڑچڑی ہے ۔ “ مردود خوشی کے مارے ناچنے لگا ۔ اب اسے منزل قریب دکھاٸی دے رہی تھی ۔ گندے نالے کی تہہ والی گندگی کا سوچ کر ہی اس کے منہ میں پانی آ رہا تھا ۔
”بس ابھی یہاں فساد کھڑا ہونے ہی والا ہے ۔ “ اس نے سوچا اور پھر فساد کے لیے الفاظ کے تانے بانے بننے لگا ۔
(جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں