**“مکافات عمل”
از قلم: تسلیم بروہی(جیکب آباد)*
پچھلے 3 مہینوں سے وہ اس چھوٹی سی اندھیری بند کوٹھڑی میں اپنے دن گن رہی تھی۔ کہ کب موت کا فرشتہ آئے اور اس کی روح کو قبض کرے۔ پر موت کا تو وقت مقرر ہوتا ہے اپنے وقت سے پہلے وہ ایسے کیسےآسکتی ہے۔ آج بھی حسب معمول وہ پڑوس سے آنے والی ایک سوکھی روٹی کے انتظار میں بیٹھی تھی۔ کہ کب پڑوس کی گھنگھرالے بالوں والی وہ چھوٹی بچی روٹی لےکر آئے۔ اور وہ اس کی لائی ہوئی سوکھی روٹی سے اپنے بیٹ کی آدھی آگ کو بجھا سکے۔ اس انتظار میں وہ اپنے ماضی کی یادوں میں کھوگئی تھی۔ کبھی وہ بھی اپنی ساس کے ساتھ یہی سلوک کرتی تھی۔
“علی رضا میں آپ کی ماں کے ساتھ نہیں رہ سکتی یا میں اس کا گلا دبا کر مار دونگی اس کو یا پھر اس بوڑھیا کو یہاں سے لےکر جاؤ۔ ورنہ میں آخری بار کہہ رہی ہوں تمہارے بچوں کو یہاں پر چھوڑ کر میں ہمیشہ کےلئے اپنے میکے چلی جاؤں گی ۔” کہیں دور سے اس کی خود کی کہی ہوئی آواز اس کے کانوں میں گونجنے لگی۔ جو کہ وہ 30 سال پہلے اپنے شوہر سے اس کی ماں کو گھر سے نکانے کےلیے کہہ رہی تھی۔
آج تیس سال بعد اس کو وہ دن یاد آیا جب اس کی بوڑھی ساس اپنی لرزتے ہوئی ہاتھوں سے اپنے آنسوں کو صاف کرتے اس کی باتیں سن رہی تھی۔
“نصرت بیگم یہ عورت ماں ہے میری اور میرے علاوہ اس کا کوئی اور سہارا نہیں ہے کیسے اپنی ماں کو بنا سہارے یتیم خانے میں چھوڑدوں” علی رضا بےبسی سے کہنے لگا۔
“ٹھیک ہے پھر مجھے چھوڑ دو میں نہیں رہ سکتی اس بیمار اور بوڑھی عورت کے ساتھ گھٹن ہوتی ہے۔ مجھے اس سے علی تم میری بات کیوں نہیں سمجھ رہے ہو۔ ساری ساری رات یہ كھانستی رہتی ہے۔ مجھے نیند نہیں آتی اس کی آواز سے۔۔” ایک بار پھر وہ آوازیں اس کی کانوں میں ٹکرانے لگی۔
پیچھے 3 مہینوں سے اس کے ساتھ یہی تو ہورہا تھا۔ دن میں کئی کئی بار اس کو اپنی کہی ہر ایک بات ہر بار بار یاد آرہی تھی۔ اب اس کو وہ درد محسوس ہورہا تھا جو اس وقت اس کی ساس پر گزر رہی تھی۔
اس اندهیری کھوٹے میں آنے
سے پہلے اس کو بھی وہی باتیں سننی پڑی جو اس نے کبھی اپنے ساس کےلیے کہی تھی۔ اس کی بہو بھی ہر روز اپنے شوہر سے لڑائی کرتی کے “مجھے اس بوڑھی عورت کے ساتھ نہیں رہنا مجھے خوف آتا ہے اس کےکھانسنے کی آواز سے حماد خدا کا واسطہ ہے اس عورت سے میرا پیچھا چھوڑوادو اور نہیں رہ سکتی میں اس گندگی کے ساتھ۔” اپنی بہو کی ایسی باتیں سن کر خاموشی سے اس کی آنکھوں سے آنسوں بہتے۔ اس کو معلوم تھا یہ سب مکافات عمل ہیں جو اس کو واپس مل رہے تھے۔
حماد جو بیوی کے آگے مجبور تھا آخرکار اس کو گھر سے اس کوٹھری میں لے کر آیا اور یہاں پر ہی پھینک کر گیا۔ یہ اندهیری ٹوٹی پھوٹی چھوٹا سا کمرہ جو کبھی ان لوگوں نے اپنے پالتو کتے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ یہ بنا در اور دریچے کی چھوٹی سی چار دیواری جہاں پر 2 منٹ رکنے سے بھی دم گھٹتا تھا مگر نصرت بیگم پچھلے 3 مہینوں سے یہاں پر زندگی کی اذیت ناک دن گزار رہی تھی۔
آج اس کو یقین آیا کے زندگی میں جو بھی عمل کرو اس کا بدلہ اللّه پاک لوگوں کو اسی دنیا میں دیتا ہے۔
وہ جانتی تھے کے جو اس کے ساتھ ہورہا ہے یہ سب اسی کے خود کے اعمال کا ہی تو بدلہ ہے جو اس کو سود سمیت واپس مل رہا تھا۔ اس نے جو بھی کیا تھا 30 سال بعد اس کو اسی کیے کی سزا مل رہی تھی۔ سچ کہتے ہیں کے خدا نے اچھے اعمال کے بدلے اچھائی اور برے اعمال کے بدلے سزا دیتا ہے۔ پھر چاہے وہ سزا ایک سال بعد ملے یا پھر 30 سال بعد لیکن یہ ضرور اسی دنیا میں ملتی ہے تاکہ لوگ سبق حاصل کر سکیں۔