631

مہندی کے رنگ عید کے سنگ

تحریر شئیر کریں

مہندی صدیوں سے عورت کی پہچان ہے۔

تحریر : لبنٰی جمشید

عیدالفطر کا تہوار ہو اور صنف نازک کے ہاتھوں پر مہندی کا رنگ نہ ہو تو تہوار کا مزہ بھی پھیکا لگنے لگتا ہے۔ مہندی عیدین کے علاوہ خوشیوں کے چھوٹے بڑے تہواروں کا لازمی جزو بن چکی ہے۔اس کے علاوہ شادی کے موقع پر دلہن کی ایک باقاعدہ رسم بھی مہندی سے ماخوذ ہے جس میں سہیلیاں اور رشتہ دار خواتین دلہن کو مہندی لگانے کے لیے اکٹھی ہوتیں ہیں۔

مہندی کو اردو، پنجابی، ہندکو، سرائیکی اورہندی میں مہندی‘ عربی اورفارسی میں حنا اور بلوچی میں پنی کہا جاتاہے جس کے اردو معنی خوبصورت رنگ کے ہیں ۔ مہندی کو وہ خوبصورت رنگ کہا جاتا ہے جو ہاتھوں, پیروں پر خوبصورت نقش و نگار سے بنایا جاۓ۔ اس کے علاوہ سر کے بالوں کو بھی مہندی سے رنگا جاتا ہے۔

مہندی کا پودا

یہ پہلے جھاڑی نما شکل کا ہوتا ہے پھر ایک چھوٹے درخت کا روپ اختیار کرلیتا ہے۔ یوں تو اس کے پتے سبز رنگ کے ہی ہوتے ہیں لیکن جو جگہ شاخوں کے ساتھ جڑی ہوتی ہے اس میں سرخ اور زرد دھاریاں ہوتیں ہیں۔ دو سال تک کے مہندی کے پودے کو نابالغ سمجھا جاتا ہے لہذا کمرشل طور پر اس کا استعمال ممنوع قرار دیاجاتا ہے۔ جب اس کی ٹہنیوں پر کانٹے اگ آتے ہیں تب اسے بالغ تصور کرکے اس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔

ایک دلچسب بات اس پودے کے حوالے سے یہ ہے کہ اکس کا پھول سونگھنے سے خوشبو نہیں آتی جبکہ اس کے قریب کھڑے ہونے سے فرحت کا احساس ضرور ہوتا ہے۔ جب پتوں اور پھولوں کو مسلاجاۓ تب مہندی کی مہک آتی ہے۔

مشرق وسطیٰ، افریقہ, عرب ممالک اور انڈیا میں اس پودے کو نیک شگون، ترقی، خوشحالی اور برائی سے محفوظ رہنے کی علامت کے طور پر لیا جاتا ہے۔

مہندی کی تاریخ

یوں تو مہندی کی تاریخ صدیوں پرانی ہے آج سے 1400 سال قبل بھی اسلام کی تاریخ کا جائزہ لیں یا احادیث کی روشنی میں دیکھیں تو مہندی کا ذکرملتا ہے۔ برصغیر میں مہندی کی تاریخ پر نظر دوڑائی جاۓ تو پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کی آمد سے قبل ہی مقامی ہندو خواتین اپنے ہاتھوں اور پیروں کی تلیوؤں پر مہندی کا لیپ کیا کرتیں تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ماتھے کی بندیا بھی مہندی سے لگائی جاتی جو خوش رنگ ہونے کے ساتھ ساتھ دیرپا بھی رہتی, یہ خیال کیا جاتا تھا چونکہ مہندی کے اجزا۶ کی تاثیر ٹھنڈی اور فرحت بخش ہوتی ہے اس لیے دماغی سکون کے لیے اس کا استعمال عام تھا۔ اس کے علاوہ مہندی کے پتے دیسی ادویات میں استعمال ہوتے تھے۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مہندی روایات میں شامل ہونے لگی۔ مغلیہ دور میں مہندی کو باقاعدہ ایک سنگھار کا درجہ دے دیا گیا۔ اس دور میں مغلیہ خاندان کی خواتین انگلیوں کی پوروں پر بھر کر مہندی لگایا کرتیں جبکہ ہتھیلی پر تنکے کی مدد سے نقش و نگار بناۓ جاتے تھے۔ پھر رفتہ رفتہ مہندی باقاعدہ ایک صنعت کا درجہ اختیار کرگئی۔

مہندی کا آبائی علاقہ یوں تو مصر بتایا جاتا ہے 2000 سال قبل مسیح کی مصری تاریخ میں درج ہے کہ مختلف فرعون اپنے بال اور ناخنوں کو رنگنے کے لئے اس کا استعمال کیا کرتے تھے۔ جنوبی افریقہ، مشرق وسطیٰ، انڈیا اور پاکستان میں 5000 سال سے اس کا استعمال ملتا ہے۔

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ کا ایک شہر بنوں ہے یہاں کی مہندی پوری دنیا میں اپنے رنگ اور خوشبو کی وجہ سے مشہور ہے۔

جدید دور میں مہندی کی کئی اشکال سامنے آچکی ہیں۔ پہلے خواتین جو محض مہندی کے پتوں کو کوٹ کر لیپ کیا کرتیں تھیں۔ اب یہ کون کی صورت میں ریڈی میڈ دستیاب ہے جس کو محض ہاتھوں پر لگانا ہوتا ہے لیکن اب اس میں مختلف طرح کے کیمیکلز استعمال کیے جاتے ہیں۔

مہندی کی مشہور روایات

مہندی لگانا ایک قدیم روایت بھی ہے اور ثقافت بھی۔ زمانہ قدیم میں مرد بھی اس کا خاصا استعمال کرتے تھے لیکن بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ یہ زیادہ تر خواتین تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ اون، ریشم اور گھوڑوں کے بال رنگنے اور قربانی کے جانوروں کولگانے میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ شادی بیاہ کے مواقع یا عیدین کے تہواروں پراس سے ہاتھوں اور پاؤں پر بیل بوٹے بنانے کا بھی رواج بہت پرانا ہے لیکن اب مہندی کو فیشن کے طور پر کبھی بھی لگایا جاتا ہے جس سے اس کی تہواروں والی حیثیت میں کچھ کمی آ گئی ہے۔

اس حوالے س مراکش کی ایک بہت پرانی روایت ہے کچھ مخصوص خواتین جن کو ”حنایاز “ کا نام دیا گیا ہے وہ حاملہ خواتین کو ٹخنے میں مہندی لگانے کے ساتھ ساتھ تعویذ بھی باندھتی ہیں ان کے ہاں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ایسا کرنے سے نومولود خوبصورت ہو گا اور قسمت میں دولت کی فراوانی بھی ہو گی۔

عیدالفطر پر مہندی کے بغیر تہوار ادھورا لگتا ہے اس لیے چاند رات کو خواتین مہندی لگانے کا اہتمام کرتیں ہیں ۔کون مہندی سے نقش و نگار بنانے کے بعد گلیٹر سے ان کی خوبصورتی میں مذید اضافہ کیا جاتا ہے۔ باقاعدیہ مہندی سیکھنے کے کورسز ہوتے ہیں اور ایک ہاتھ پر ہزاروں روپے کے عوص مہندی کے نقوش بناۓ جاتے ہیں یہی وجہ ہے اس نے ایک باقاعدہ فن کی صورت اختیار کرلی ہے. اس کے ساتھ ساتھ مہندی کے حوالے سے ان گنت شاعری بھی لکھی جا چکی ہے اور گیتوں میں بھی مہندی کے ذکر کا استعمال عام ہے۔

مہندی اور اسلام

مختلف علما۶ کے نزدیک عورتوں کے لیے مہندی لگانا جائز ہے اور وہ شریعت کی حدود میں رہتے ہوۓ مہندی لگا سکتی ہیں۔ اگر شوہر کی خوشنودی کے لیے لگائی جا ذہی ہے تو مستحسن بھی ہے۔

اسلام میں مہندی کو عورتوں کی زینت کہا گیا ہے اور مردوں کو ممانعت فرمائی ہے البتہ داڑھی کے بال خضاب سے رنگنے کا حکم احادیث سے ثابت ہے۔
 ابن حجر رحمۃ اللہ لکھتے ہیں: “مردوں کو ہاتھ اور پاؤں رنگنے کی ممانعت ہے ہاں بطور دواء مہندی استعمال کی جا سکتی ہے۔” (فتح الباری ص367ج10)

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ‎ کے پاس ایک ہیجڑہ لایا گیا جس نے اپنے ہاتھوں اور پاؤں پر مہندی لگا رکھی تھی، رسولﷺ‎ نے پوچھا: ” تم نے ایسا کیوں کیا ہے؟” کسی صحابہ ن عرض کی یا رسول اللہ ﷺ‎ ! اسی طرح یہ عورتوں سے مشابہت اختیار کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ‎ نے یہ سن کر فرمایا کہ اسے مدینہ کی آبادی سے نکال کر نقیع (علاقہ ) میں چھوڑ آؤ، لوگوں نے عرض کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “مجھے نمازی حضرات کو قتل کرنے سے منع کر دیا گیا ہے۔” (سنن ابی داؤد،الادب:4928)

مہندی کے ڈیزائن

عیدالفطر کے موقع پر ہر سال مختلف مہندی کے ڈیزائنز متعارف کرواۓ جاتے ہیں ۔ پہلے تو زیادہ تر پوروں اور ہتھیلوں پر مہندی لگا لی جاتی تھی لیکن اب ہاتھوں ، بازؤوں اور کہنیوں تک مہندی لگائی جاتی ہے اس کے علاوہ ماڈرن خواتین کے سرکل میں پنڈلیاں تک  بھی مہندی سجائی جانے لگی ہیں ۔

مہندی لگانے کے مختلف طریقے دریافت کیے جا چکے ہیں جن میں انڈین ، افریقی ، عربی اور پا کستانی  ڈیزائن شامل ہیں ۔ عربی مہندی اس ڈیزائنکو کہتے ہیں جو تھوڑی سی موٹی شکل میں آدھے ہاتھ پر لگائی جاتی ہیے ۔ پاکستانی , انڈین اور راجھستانی میں پورے ہاتھ کی بھرائی پھولوں امبیوں کی شکل اور پتوں سے بھرائی کی جاتی ہے ۔ افریقی اور سوڈانی مہندی میں باریک لکیروں اور نقطوں کی مدد سے ہاتھ کی بھرائی کی جاتی ہے ۔ آجکل جو مہندی سب سے زیادہ ان ہے وہ ایک پاکستانی ڈیزائینر سارہ نے متعارف کروائی ہے ۔ اس میں باریک نقش و نگار کے ساتھ بہت ہی نفیس طریقے سے نام اور تصاویر کنندہ کی جاتی ہیں۔ لاہور کے مختلف ایریاز کے سیلون اب اس طرح کی مہندی کو اہمیت دے رہے ہیں۔ اس کو باقاعدہ ایک نام love story henn
دیا گیا ہے کیونکہ اس سے پیار محبت کے رنگ چھلکتے ہیں۔ اس سال 200 عیدالفطر کو نام کی بجاۓ عید کے حوالے سے مختلف اشیا۶ اور جگہوں کی تصاویر مہندی سے بنائی جا رہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں