405

میری ذات زرہ بے نشاں

تحریر شئیر کریں

میری ذات زرہ بے نشاں

قسط 3

وہ تین بار ناکام ہو چکا تھا ۔ اور انعام کا لالچ اسے نچلا بیٹھنے نہیں دے رہا تھا ۔ مگر اسے اس بات پہ بھی دکھ ہو رہا تھا کہ بار بار اس کی کوشش ضایع ہو رہی تھی ۔ وہ سوچنے لگا کہ اب کس طرح اگلا قدم اٹھایا جاٸے ؟ کہ اسے زیادہ محنت بھی نہ کرنی پڑے اور سامنے والا اس کی بات بھی مان لے ۔ وہ بالکل نہیں جانتا تھا کہ آنے والے وقت میں اس کی وجہ سے پورے ملک میں کیسا ہنگامہ کھڑا ہونے والا ہے ؟


آخر وہ ہمت کر کے ایک بار پھر اڑنے لگا ۔ کچھ دیر بعد وہ ایک گھر کی منڈیر پہ بیٹھا تھا ۔ سامنے ایک لڑکی کرسی پہ بیٹھی تھی ۔ اس کے سامنے چٹاٸی بچھی تھی جس پہ بہت سے بچے کتابیں اور کاپیاں کھولے بیٹھے تھی ۔
وہ فورًا اسی لڑکی کے پاس گیا ۔ ”کیوں اپنی قیمتی عمر برباد کر رہی ہو ؟ ان بچوں کو ٹیوشن پڑھا کے بھلا کتنے پیسے مل جاٸیں گے!! تم ماڈلنگ شروع کر دو ۔ لاکھوں آٸیں گے ۔“


”توبہ توبہ“ وہ فورًا بولی ۔ ”میرا رشتہ ختم کروانا ہے کیا ؟ میرے سسرال والوں کو یہ خرافات بالکل پسند نہیں ۔ “
مردود بے بس ہو کر پیچھے ہٹ گیا ۔ اب وہ ہاتھ مل رہا تھا ۔ مسٸلہ تو یہ تھا کہ جب تک سامنے والے کا ذہن اس کے مطابق نہ ہوتا وہ اس پہ حاوی نہیں ہو سکتا تھا ۔ وہ سوچنے لگا کہ نجانے وہ کامیاب ہو بھی سکے گا یا نہیں!
آخر اس کے ذہن میں ایک ترکیب آٸی ۔ اس نے سوچا کہ اب وہ کسی ایسی عورت کو گمراہ کرے گا جس کو مساٸل نے ادھ موا کر رکھا ہو ۔ وہ ہیجانی ہو کر فورًا اس کی بات مان لے گی ۔ یعنی باغی ہو جاٸے گی ۔ دوسری طرف تقدیر مردود پہ طنزیہ ہنس رہی تھی کیونکہ اگلا تجربہ پہلے سے بھی زیادہ پریشان کن تھا ۔


مردود نے ہمّت باندھی اور اڑنے لگا ۔ اب اسے بھوک بھی لگ رہی ۔ ”کاش اب جہاں جاٶں ، وہاں کوٸی بھی تسمیہ نہ پڑھتا ہو ۔ “ اس نے سوچا ۔


کچھ دیر بعد وہ ایک اور گھر میں تھا ۔ اس گھر میں کافی رونق محسوس ہو رہی تھی ۔ صحن میں ایک ادھیڑ عمر عورت کرسی پہ بیٹھی تھی اور سامنے چارپاٸی پہ ایک تٸیس چوبیس سالہ نوجوان بیٹھا تھا ۔ دونوں خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔ کچن سے پریشر ککر کی آواز آ رہی تھی ۔ ایک طرف ایک چھوٹا بچہ واکر چلا رہا تھا ۔ چٹاٸی پہ دو پانچ اور سات سال کی عمر کی بچیاں گڑیا کا گھر بنا رہی تھیں اور ان کے کھلونے بکھرے ہوٸے تھے ۔ ان کے قریب ہی ایک آٹھ دس سالہ بچہ ہوم ورک کر رہا تھا ۔
”ابا جی کہاں ہیں ؟“ نوجوان نے پوچھا ۔


”مسجد گٸے ہیں ۔ خیر سے چھ ماہ بعد آٸے ہو تو بھول ہی چکے ہو ، وہ اس وقت مسجد میں ہوتے ہیں ۔ “
عورت نے جواب دیا تو لڑکا جھینپ گیا جبکہ مردود مسجد کا نام سن کے پریشان ہو گیا تھا ۔ وہ تو پریشر ککر کی سیٹی سن کے خوش ہو گیا تھا کہ یہاں کچھ کھانے کو ملے گا ۔ مگر اب اسے لگ رہا تھا کہ وہ یہاں سے کچھ بھی کھا نہیں سکے گا ۔

(جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں