نصرت یوسف
پاکستان اور امت مسلمہ پر اسلام مخالف بمباری جس درجہ پر کی جارہی ہے وہ غزہ پر اسرائیلی تباہ کاری کی تصاویر سے بہ خوبی سمجھی جاسکتی ہے.
مادی ہتھیار مادہ تباہ کر رہے ہیں، فکری اور نظریاتی شورشیں عقائد اور خیر کے پرخچے اڑا رہی ہیں.
حال ہی میں ایک ادیب کی کسی گروپ میں پوسٹنگ پڑھی جسمیں اور تمام باتیں فی الوقت تزکرہ نہیں کرتے بس ایک اہم موضوع جسکا زکر کرنا ہے وہ “میریٹل ریپ” ہے
میں نے اس موضوع پر لکھنے سے قبل بہت سوچا لیکن ہر متوقع انسانی خیال کو جھٹک کر بطور زمہ داری اسکی مخالفت میں یہ مندرجہ ذیل مختصر تحریر لکھی.
فی زمانہ سارے گل و گلزار وہیں آگے دکھاۓ جارہے ہیں جہاں ناگ پھنی اگائی گئی ہے.
————-****
اسی کی دھائی کا اختتام تھا ، غالباً پرتاب نام کا اخبار تھا.. میری مطالعہ کی نشہ جیسی عادت نے ہر اردو میں لکھی تحریر کو پڑھنا لازم کر رکھا تھا. سارے تعلقات، دوستیاں اس سے زیادہ تھی جہاں مطالعہ کا مواد ملنے کے مواقع کثرت سے.
موسم گرما کی تعطیلات گزارنے نھنیال دہلی گۓ ہوۓتھے. میٹرک دور تھا لیکن فلسفہ خاصا مل چکا تھا.. دہلی کے سفر بوجہہ نھنیال ہوتے تھے . پرتاب میں کہانی پڑھی تھی اتنے وقت پہلے میریٹل ریپ.
عورت وکیل کرتی ہے کہ شوہر پر اس حوالہ سے مقدمہ کرنا ہے.
کم عمری میں بھی ایسی تحریر پڑھ کر لگا تھا کہ یہ “ہماری “نہیں ہو سکتی.