نوروزبہار کی نوید 232

نوروزبہار کی نوید

تحریر شئیر کریں

نوروز، جس کا مطلب “نیا دن” ہے، صدیوں سے مختلف تہذیبوں میں موسم بہار کے آغاز کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار ایران، افغانستان، وسطی ایشیا، ترکی، پاکستان اور بھارت سمیت کئی ممالک میں منایا جاتا ہے۔

نوروز کی روایات

نوروز کی تقریبات میں گھروں کی صفائی، نئے کپڑے پہننا، خصوصی کھانے تیار کرنا اور ہفت سین کی میز سجانا شامل ہے، جس میں سات علامتی اشیاء رکھی جاتی ہیں۔

نوروز اور جدید دنیا

نوروز کو اقوام متحدہ نے بھی ایک بین الاقوامی ثقافتی ورثے کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ Google Trends کے مطابق، ہر سال نوروز کے موقع پر اس کی تلاش میں اضافہ ہوتا ہے، جو اس کی عالمی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔

اسلام کی روشنی میں نوروز

اسلامی تعلیمات کے مطابق، کسی بھی ثقافتی یا روایتی تہوار کو منانے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ اسلامی عقائد اور شریعت سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔

1. نبی کریم ﷺ کا فرمان:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اللہ تعالیٰ نے ہمیں دو بہتر دن عطا کیے ہیں، عیدالفطر اور عیدالاضحی۔” (سنن ابی داؤد: 1134)

2. صحابہ کرامؓ کا طرزِ عمل:

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو اہلِ مدینہ دو تہوار منایا کرتے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے ان کے بدلے ہمیں دو بہتر دن (عیدین) عطا فرمائے ہیں۔

3. روایات اور شرعی پہلو:

مسجد اقصی کا تحفظ

نوروزبہار کی نوید

اگر نوروز کو محض ایک ثقافتی تہوار کے طور پر منایا جائے، کسی خاص مذہبی عقیدے کے بغیر، تو بعض علماء نے اس کی اجازت دی ہے، لیکن اگر اس میں ایسے اعمال شامل کیے جائیں جو اسلامی عقائد سے متصادم ہوں، تو اسے منانے سے گریز کرنا چاہیے۔

نوروز ایک قدیم ثقافتی تہوار ہے جو مختلف اقوام میں مختلف انداز میں منایا جاتا ہے۔ تاہم، ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر روایت اور تہوار کو قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھے اور اگر کوئی عمل اسلامی تعلیمات کے خلاف ہو تو اس سے اجتناب کرے۔

نوروزبہار کی نوید

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں