259

نگاہوں کی خیانت

تحریر شئیر کریں

(ایک تاریخی واقعے سے ماخوذ)

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کا شمار ان عظیم مسلم حکمرانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف میدانِ جنگ میں شجاعت کے جوہر دکھائے بلکہ علم، بصیرت، اخلاق اور کردار میں بھی اپنی مثال آپ تھے۔

ایک بار ایک غیر مسلم بادشاہ نے سلطان صلاح الدین کو اپنے محل میں دعوت پر مدعو کیا۔ مقصد یہ تھا کہ وہ سلطان کی طبیعت، مزاج اور عقیدے کا تمسخر اُڑائے اور اس کی غیرت کو للکارے۔ سلطان دعوت قبول کر کے دربار میں پہنچے، تو حیرت انگیز استقبال ہوا۔ محل آراستہ تھا، روشنیوں سے سجا ہوا، اور دستر خوان پر طرح طرح کے کھانے چنے گئے تھے۔

دعوت میں سب کچھ بظاہر شاہی تھا — مگر دلوں میں فریب چھپا تھا۔

اس موقع پر بادشاہ نے اپنی ملکہ کو حکم دیا کہ وہ خاص کھانا سلطان کے سامنے رکھے۔ یہ کھانا دراصل کتے کے گوشت سے تیار کیا گیا تھا تاکہ سلطان کی توہین کی جا سکے۔

جیسے ہی ملکہ کھانے کی پلیٹ لے کر سلطان کے قریب آئی، سلطان کی نظریں اس پر پڑیں۔ اُنہوں نے ایک لمحے میں نہ صرف کھانے کی حقیقت جان لی، بلکہ ملکہ کی چال، نگاہوں اور انداز سے اُس کے کردار کا بھید بھی پا لیا۔

سلطان صلاح الدین نے خاموشی سے فرمایا:

> “یہ عورت بدکردار ہے۔”

یہ سن کر غیر مسلم بادشاہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ اُس نے سلطان سے کہا:

> “یہ بہتان ہے! تمہارے پاس کیا ثبوت ہے؟”

سلطان نے جواب دیا:

> “جب یہ عورت میری طرف آ رہی تھی، تو اُس کی نظریں زمین پر نہیں تھیں — بلکہ وہ بار بار میری آنکھوں میں جھانک رہی تھی۔ اُس کی چال میں جھجک نہیں تھی بلکہ دعوت تھی۔ ایک پاک دامن عورت، خصوصاً شاہی خاندان کی ملکہ، کسی غیر مرد کے سامنے شرم و حیاء کا پیکر ہوتی ہے۔”

یہ بات سن کر دربار میں سناٹا چھا گیا

بادشاہ نے فوراً اپنے درباریوں کو اشارہ کیا کہ ملکہ کی نگرانی کروائی جائے۔ کچھ دنوں بعد، جو حقائق سامنے آئے وہ سلطان کی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ بادشاہ خود بھی یہ ماننے پر مجبور ہو گیا کہ سلطان نے جو کہا وہ سچ تھا

نگاہوں کی خیانت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں