350

نیا موڑ

تحریر شئیر کریں

نیا موڑ ایک ایسی کہانی ہے جس میں آنے والی آزمائشوں نے اسے کندن بنا ڈالا تھا ایسی آزمائشیں زحمت نہیں رحمت ہوا کرتی ہیں

تحریر ام سلیمان

زندگی آسان نہیں، اس میں بڑے بڑے امتحانوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ وقت کے تیز دھارے سے نمٹنا پڑتا ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بعض امتحان اور حالات انسان کی کایا پلٹ دیتے ہیں. میں نے کبھی اپنی آنکھوں سے دیکھا نہیں بس اب تک سنا ہی تھا کہ زندگی میں کبھی کوئی ٹرننگ پوائنٹ ایسا آتا ہے جو اسے بالکل بدل کر رکھ دیتا ہے اور انسان اپنی ہستی کو فنا کر کے بالکل ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔

یہ بھی ایک ایسے ہی شخص کی کہانی ہے جسے ہم بچپن سے جانتے تھے۔ زندگی کو کبھی سنجیدہ نہ لینے والے، ہنستے کھیلتے، موج مستی کرنے والے ہمارے دور کے ماموں ایاز صاحب۔ ہم نے کبھی انھیں نماز پڑھتے یا مسجد کا رخ کرتے نہیں دیکھا تھا. یہاں تک سنا کہ وہ عید بقرعید پر بھی شاذونادر ہی نماز پڑھتے ہیں۔ شادی ہوئی، بچے ہوئے، ایک متوسط سی فیملی تھی۔ ہم نے کبھی انھیں بیوی سے کوئی والہانہ محبت یا عشق کرتے نہیں دیکھا۔ میاں بیوی میں اکثر لڑائی جھگڑے ہو جاتے تھے جیسا کہ اکثر گھرانوں میں عام سی باتیں جھگڑوں کا سبب بنتی ہیں۔ شادی کو کئی سال گزر گئے. بیٹا پندرہ سولہ سال کا ہو گیا، بیٹی بھی تقریباً تیرہ چودہ سال کی۔ زندگی اپنے مدار میں رواں دواں تھی کہ اس جھیل میں ایک پتھر بڑی زور سے آکر گرا جس نے سب کچھ اتھل پتھل کر کے رکھ دیا۔

ایاز صاحب کی بیگم یعنی ہماری عذرا مامی کچھ عرصے سے بیمار تھیں اور اپنے بائیں ہاتھ کو حرکت دینے میں ذرا تکلیف محسوس کرنے لگی تھیں۔ جب ان کے مختلف ٹیسٹ ہوئے تو ایک خطرناک رپورٹ سامنے آئی کہ وہ بریسٹ کینسر میں مبتلا ہیں. اور یہ کینسر کافی زیادہ پھیل چکا ہے۔ میاں، بچوں اور سب رشتہ داروں پر یہ خبر بجلی بن کر گری.. یہ کیا ہو گیا، کیسے ہو گیا، کیوں ہو گیا؟ پورے گھر پر موت کا سا سناٹا طاری تھا۔ ہمیں خود سمجھ نہیں آتی تھی انھیں کن لفظوں میں تسلی دیں۔ مگر یہیں سے ان کی زندگی نے ایک نیا موڑ لیا… ایک نیا ذائقہ چکھا… رب کی قربت کا ذائقہ! اس کی محبت کی حلاوت اور مٹھاس کا ذائقہ !!

میں جب بھی ان کے گھر عیادت کے لیے جاتی تو عذرا مامی کے منہ سے اپنے شوہر کے لیے تعریفی کلمات ہی سنتی، وہ زبان جو پہلے ہمہ وقت شکوے شکایات سے بھری رہتی تھی اب شوہر کی تعریف میں رطب اللسان رہتی۔
وہ اکثر کہتیں…
”وہ میرا بہت خیال رکھتے ہیں. مجھے ذرا پریشان نہیں ہونے دیتے۔ کسی کام کو ہاتھ نہیں لگانے دیتے. مجھے بالکل ہر کام اور ذمے داری سے بری کر دیا ہے. کہتے ہیں بس تم ٹھیک ہو جاؤ مجھے اور کچھ نہیں چاہیے۔ ہر وقت میرے آرام کی فکر رہتی ہے۔ میرے لیے راتوں کو جاگ جاگ کے تہجد پڑھتے ہیں، وظیفے کرتے ہیں، رو رو کر دعائیں مانگتے ہیں. سجدوں میں گرے رہتے ہیں۔ ایسی آہ و زاری سے اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں کہ ان کے رونے پر مجھے رونا آ جاتا ہے۔ مجھے اپنی زندگی سے پیار نہیں تھا مگر اب ان کے لیے جینے کو دل چاہتا ہے۔“

مسلسل کیمو تھراپی سے ان کی حالت بہت خراب ہو گئی تھی۔ سر کے بال بالکل جھڑ گئے، آنکھوں کی پلکیں اور بھنویں بھی غائب ہو گئیں۔ مسلسل الٹی اور متلی کی وجہ سے کچھ کھا بھی نہیں سکتی تھیں۔ بے حد کمزور ہو گئیں مگر اس حال میں بھی وہ ان کی دل جوئی میں لگے رہتے۔

بچے بھی ماں کے آرام کا بہت خیال کرتے۔ ہر طرح سے ان کا دل بہلانے کی کوشش کرتے۔ چھوٹی سی بچی جو ابھی تک ننھی گڑیا ہی بنی رہتی تھی اب اپنے کاندھوں پر گھر کا آدھا بوجھ اٹھائے ہوئے تھی۔ ماں سے پوچھ پوچھ کر ہانڈی بناتی، برتن دھوتی، چائے بناتی، صفائی کرتی… عیادت کے لیے آنے والوں کے لیے بار بار چائے بنانی پڑتی مگر کبھی پیشانی پر شکن نہیں آتی۔ بس ہنستی رہتی اور بھاگ بھاگ کے کام کرتی رہتی۔ رشتے داروں نے بھی اس کڑے وقت میں خوب ساتھ دیا، جس سے جو بن پڑا اس نے کیا۔

آہستہ آہستہ اس بیماری نے ان کو بھی رب کے قریب کر دیا۔ راتوں کو نیند نہیں آتی تھی، بے چینی رہتی تو اٹھ کر اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہو جاتیں۔ نمازیں پڑھتیں، دعائیں مانگتیں، اپنے بچوں کے لیے روتی تڑپتیں.. اے اللہ! ان بچوں کی خاطر مجھے زندگی اور صحت و عافیت سے نواز دے۔
فون پر اکثر بات ہوجاتی، تھوڑی دیر تو بڑے جوش سے بات کرتیں پھر اچانک کہتیں بس میں تھک گئی ہوں اب مجھ سے بولا نہیں جا رہا، بس اب مجھ میں طاقت نہیں۔

اب آہستہ آہستہ بہتری کی طرف آ رہی ہیں الحمدللہ۔ ایک دن ان کے گھر گئی تو ایاز ماموں پہ نظر پڑ گئی… وہ بالکل بدل چکے تھے۔ چہرے پر اچھی خاصی داڑھی، سر پہ ٹوپی جمائے نماز کے لیے جا رہے تھے۔ عذرا مامی بتانے لگیں:
”عصر کی نماز پڑھ کے وہیں مسجد میں بیٹھے اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ اب مغرب پڑھ کر گھر آئیں گے۔ میری بیماری نے انھیں بالکل بدل کر رکھ دیا ہے۔ یقین ہی نہیں آتا یہ وہی چھے سات ماہ پہلے والے ایاز صاحب ہیں!! گھر میں ہوتے ہیں تو ہر وقت دین کی باتیں کرتے ہیں۔ فون پر بھی سب خرافات دیکھنا چھوڑ دیں، بس زیادہ تر علماء کرام کے بیانات سنتے ہیں۔ کوئی آنے جانے والا ہوتا ہے تو اسے بھی نماز کی رغبت دلاتے ہیں.. اللہ تعالیٰ کی باتیں کرتے رہتے ہیں بس! قرآن میں بیان کردہ واقعات اور قصے سناتے ہیں. جمعے کے خطبے، وعظ اور بیانات میں شرکت کرتے ہیں اور ہر نیک عمل کے بعد بس میری صحت کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ کہتے ہیں:
”عذرا! تم ہی تو اس گھر کی رونق ہو، میرے بچوں کی ماں ہو، اس گھر کی ملکہ ہو!! تم بیمار پڑی ہو تو پتا چلا ہے تمہاری کیا قدرو قیمت ہے میرے نزدیک۔ تمہارے بغیر تو زندگی ہی بکھر کر رہ گئی ہے میری۔ بس تم جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ، مجھے اور بچوں ۔مامی جی کی بیماری ماموں کے لیے نیا موڑ ثابت ہوئی ۔کو تمہاری شدید ضرورت ہے!!“

آزمائشیں کیوں آتی ہیں؟

اللہ تعالیٰ سے یہی دعا ہے عذرا مامی بہت جلد صحت یاب ہو جائیں، ان کے گھر کی رونقیں پھر سے بحال ہو جائیں. اس کڑی بیماری نے جو ان کی زندگیوں میں بدلاؤ پیدا کیا ہے، رب کرے وہ مستقل ہو۔ ہمیشہ اپنے رب سے جڑے رہیں۔ وہی تو ہے جو اندھیروں میں روشنی کی کرن ہے، اپنے بندوں پر سب سے زیادہ مہربان ہے۔ کچھ بندوں کو وہ کھینچ لیتا ہے اپنی طرف.. آزمائشوں کی بھٹی میں تپا کے انھیں کندن بنا دیتا ہے پھر اپنا بنا لیتا ہے…!

اللہ کرے وہ ہمارے ایاز ماموں اور ان کے خاندان کو ہمیشہ اپنا بنائے رکھے. ہمیشہ ان پر اپنی رحمتوں کی پھوار برساتا رہے۔ بہت قسمت کے دھنی اور بہت ہی سعادت مند ہوتے ہیں وہ لوگ جو مصائب میں اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں،جن کی زندگی میں انے والا۔نیا موڑ باعث سعادت ہوتا ہے وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں۔ اپنے عمل کو بہتر بناتے ہیں اور اپنے رب کو راضی کرنے کی فکر اور کوشش میں لگ جاتے ہیں۔ اس فانی زندگی کی حقیقت کو سمجھ لیتے ہیں اور موت کے بعد آنے والی زندگی کی تیاری کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی بیماری اور آزمائش سے بچائے جو فساد برپا کرنے والی ہو۔
دکھ درد تو انسان کو رب سے قریب کرنے کے لیے آتے ہیں۔ ہم ہی غافل ہیں جو ان حکمتوں کو سمجھتے نہیں اور نہ ہی کبھی ان میں چھپی مصلحتوں کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

نیا موڑ کہانی آپ نے پڑھی اس سے کیا سیکھا ضرور بتائیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں