422

نیت کا پھل

تحریر شئیر کریں

نیت کا پھل ایک ایسا واقعہ جو آپ کو نئے سرے سے سوچنے پہ مجبور کر دے گا۔

آ ج ایک چھوٹی سی بات نے۔ گہری سوچ میں ڈال دیا۔
ہوا کچھ یوں کہ کراچی میں اتفاق سے بارش ہو گئ تو بارش کے ساتھ لائٹ کا جانا تو لازمی ہے۔۔۔میں فلیٹ پہ اکیلی تھی۔۔دروازہ کھول کہ سیڑھیوں پہ دیکھ رہی تھی۔۔۔ہماری بلڈینگ کے بچے بہت ہی excitement کے ساتھ بتانے لگے کہ آنٹی اپکو پتہ ہے کہ سب سے موٹی اور مہنگی گائے کس کے ہاں آ ئ ہے۔۔
اور فلاں انکل اتنا مہنگا بکرا لائے ہیں۔۔۔انہی بچوں میں کچھ بچے بہت بجھے ہوئے محسوس ہو رہے تھے ۔۔
باقی بچے اپنے اپنے جانور کی قیمت ایک دوسرے کو بتا رہے تھے
ایک بچے نے دوسرے کی طرف اشارہ کیا کہ ان کہ ہاں تو ایک ٹیڈی بکرا آتا ہے۔۔پتہ نہہں ہر بار اتنا سستا بکرا کہاں سے لیتے ہیں ۔۔بچہ صفائ دینے لگا کہ covid کی وجہ سے بابا کی job چلی گئ ورنہ ہم بھی موٹا بکرا لیتے۔
ایک بچے نے بہت ہی سہمی ہوئی آواز میں کہا کہ ہم حصہ کرتے ہیں ۔۔۔اور وہ بچا یہ بولتے ہوئے سارا confidence loose کر گیا
مجھے اس وقت یہ خیال آیا کہ تقریبآ ہمارے بڑے ہر بچے کو عید قربان میں یہ تو بتاتے ہے کہ اس عید میں غریبوں کی مدد کرنی چاھئے۔۔۔اور یہ عید حضرت ابرہیم علیہ السلام کی یاد میں کی جاتی ہے ۔لیکن مجھے ایسا لگا کہ ایک درد جو مڈل کلاس کے اکثر بچوں کا ہے وہ تو unattainaded ہے
میرا خیال ہے کہ مڈل کلاس میں ہر خاندان پہ کبھی نا کبھی ایسا وقت آ گیا ہوگا کہ ہم قربانی کی حیثیت رکھتے ہیں پھر بھی یہ خوف ہوتا ہے کہ ہمارے budget میں جو بکرا آ ئے گا ہو سکتا ہو وہ ہمارے آس پاس کے علاقے کہ حساب سے نا ہو۔۔۔
ہم اور ہمارے مذہبی رہنما اس بات پہ تو زور دیتے ہیں کہ عید میں غریبوں کا حصہ ہو لیکن کیا کبھی کوئی بات ان بچوں کے لئے بھی کی گئ ہے۔۔۔اس باپ کے لیے جو اپنی حلال کی کمائی سے قربانی کر سکتا ہے جو انشاللہ اللہ کے نزدیک تو قبول ہو گی مگر خندان اور اس پڑوس کے نزدیک قبول نہں ۔۔۔
ایسا تو نہیں کہ عید قربان کی آمد۔ پہ جہاں غریب خوش ہوتے ہوں وہاں کوئ مڈل کلاس باپ اور ماں اس عید کی آمد سے خوف زدہ ہوں۔۔۔قربانی کی حیثیت ہونے کے باوجود اپنے بچوں سے شرمندہ ہوتے ہوں گے۔۔۔مجھے سمجھ نہیں آرہا کے کیا ہم سب کو اللہ کے سامنے شرمندہ تو نہیں ہونا پڑے گا۔۔۔کہ ہم نے شار اللہ کو دیکھاوا بنا دیا ہے ۔مجھے اپنے پچے کا خیال آ یا کہ وہ بھی تو اسی system میں بڑا ہو رہا ہے۔۔۔کیا میں نے اس کی اس حوالے سے تربیت کی ہے میرا جواب نفی میں تھا۔۔۔
میری شروع سے عادت ہے ک عنان(میرا بیٹا) کو سونے سے پہلے ایک اسلامی قصہ سناتی ہوں (حدیث کی کتابوں سے)
آج بھی میں نے وہ ہی کیا۔۔۔مگر آج حضرت ابرہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کے بارے میں نہں بتایا۔۔۔
بلکہ آج میں نے اس کو غزو تبوک کی کہانی سنائی
وہ یہ بات بہت بار سن چکا ہے کہ کس طرح حضرت ابو بکر صدیق اپنے گھر کا سارا سامان لے آ ہے تھے ۔۔۔مگر آج میں نے اس کو بتایا کہ کیا آ پ کو پتا ہے کہ اس دن کو ئ ایسا بھی تھا جن کا مال حضرت ابو بکر صدیق کہ سامان پہ بھی سبقت لے گیا تھا۔۔۔۔وہ تھے ایک ابو عقیل رض
جب آ قا دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب سے مالی مدد کرنے کو کہا تو ابو عقیل نے سوچا کے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دینے کیلئے کچھ نہں تو وہ ایک یہودی کے پاس گئے جس کے پاس بہت بڑا باغ تھا۔۔ابو عقیل نے یہودی سے کہا کہ میں تمھارے باغ کو پانی دوں گا تم مجھے مزدور ی دینا۔۔۔اس زمانے میں باغ میں پانی دینے کیلئے کونویں سے پانی نکالنا پڑتا تھا۔۔۔ابو عقیل پوری رات پانی کھچتے رہے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے۔۔صبح یہودی نے ایک سہ کھجور جو آج کے حساب سے بس ڈھائ کلو بنتی ہیں دی۔۔وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جمع کیا ہوا سارا سامان ایک جگہ اکھٹا کر دو اور پھر نبی کریم نے وہ ڈھائ کلو کھجور سارے سامان پہ بکھیر دی ۔۔اور فرمایا کہ اللہ کے نزدیک یہ کھجور اس سارے سامان سے بھاری ہیںں۔۔۔
اللہ تو دیکھتا ہے ک صدقہ کیا ہوا مال حلال تھا یا نہں اور دینے والے کی نیت کیا تھی۔۔۔۔۔میں نے عنان سے کہا کہ ہو سکتا ہے کبھی آپ کے ماما پاپا کہ پاس بھی قربانی کیلئے زیادہ پیسے نا ہوں لیکن اگر وہ مہنت کے ہوں گے تو اللہ کو پسند آ ہے گے۔۔۔اور اپکو ایسے وقت happy ہونا چاہیے کہ ہو سکتا ہے۔ کہ ہماری قربانی بھی ابو عقیل کی طرح زیادہworthy ہو۔۔۔جیسے بھی حالات ہوں مرکز اللہ کو رکھو تو کبھی بھی sad نہیں ہوگے۔۔۔۔

نیت کا پھل آپ نے پڑھی۔یقینا قربانی کرتے ہوئے بچوں کو ضرور بتائیں گے کہ اللہ کے ہاں عمل سے زیادہ نیت اہم یے۔نیت کا پھل سب سے اوپر ہوتا ہے۔
..
تحریر بنت حوا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں