بارش کی بوندیں کھڑکی سے ٹکرا کر دھیمی موسیقی بکھیر رہی تھیں، جب وہ دبے قدموں دفتر میں داخل ہوئی۔ سادہ سی چادر، بھیگی ہوئی پلکیں، اور ہاتھوں میں لرزتا ہوا ایک لفافہ—وہ کسی خواب سے کم نہ لگ رہی تھی۔ مکیش امبانی میز کے پیچھے بیٹھے فائلوں میں الجھے تھے کہ گارڈ نے اطلاع دی:
“سر، ایک لڑکی باہر کھڑی ہے، کہتی ہے کہ آپ سے ذاتی طور پر ملنا چاہتی ہے۔”
مکیش چونکے۔ ان کے آفس میں تو وزراء بھی وقت لے کر آتے تھے۔ مگر جانے کیوں، انہوں نے اشارہ کیا، “بھیج دو اندر۔”
وہ اندر آئی۔ اُس نے سلام کیا اور دھیرے سے بولی:
“میرا نام زینب ہے، میں بزنس ایڈمنسٹریشن کی طالبہ ہوں، آخری سمسٹر میں ہوں، لیکن فیس کی رقم پوری نہیں۔ میرے والد درزی ہیں، گھر کے حالات بہت خراب ہیں۔ اگر آپ میری مدد کر دیں، تو میں آپ کو مکمل رقم کے ساتھ واپس کروں گی۔”
مکیش نے اس کے چہرے پر نظریں گاڑ دیں۔ اُس کی آواز میں جھجک تھی مگر لہجے میں وقار۔
“یقین ہے تمہیں اپنی قابلیت پر؟”
“یقین ہے، سر۔ میں وقت پر سب لوٹا دوں گی، مع منافع۔”
وہ مسکرائے۔ شاید یہ دنیا کی واحد سرمایہ کاری تھی جس سے انہیں منافع کی امید نہیں تھی۔ اُس نے زینب سے یونیورسٹی کی تفصیل لی اور اگلے ہی دن مکمل فیس جمع کرا دی۔
پھر ایک سال گزر گیا۔
ہر روز، ٹھیک چار بجے، وہ آفس کے باہر آتی۔ کبھی چائے لے کر، کبھی پھول، کبھی خالی ہاتھ۔ صرف شکریہ کہنے۔
“یہ کیوں؟” مکیش ایک دن بول اٹھے۔
“آپ نے بغیر شرط کے مجھ پر یقین کیا، سر۔ میں روز اپنے خواب کی ایک کرن آپ کو دینے آتی ہوں۔”
وہ چلی جاتی، پیچھے روشنی چھوڑ جاتی۔
ایک دن وہ نہیں آئی۔
دو دن، تین دن، ایک ہفتہ۔
مکیش کی میز پر ایک بند لفافہ آیا۔
“سر، میری نوکری لگ گئی ہے، میں نے پہلا چیک آپ کے نام کا کٹا ہے، یہ فیس کا قرض نہیں، یہ اس خواب کی قیمت ہے جو آپ نے زندہ کیا۔ میں روز نہیں آ سکوں گی، لیکن آپ کے یقین کی روشنی میں، میں بہت سے چراغ جلاؤں گی۔
شکریہ۔
— زینب”
مکیش نے لفافہ بند کر کے دراز میں رکھ دیا۔
پھر وہ روزانہ پانچ بجے دروازہ دیکھنے لگے۔
شاید کوئی اور خواب… مدد کا منتظر ہو۔
وعدہ اور یقین