336

ویلنٹائن اور سچی محبت

تحریر شئیر کریں

ویلنٹائن اور سچی محبت

آج وہ اسامہ سے روٹھی روٹھی سی تھی۔اس کے یونیورسٹی آنے پر اس کو سلام کرنا اور پھر پچھلے پورے دن کی روداد سنانا اس کا معمول بن چکا تھا لیکن آج وہ دور سے اسے دیکھتی رہی ۔اسامہ کے لئے یہ سب حیران کن تھا ،اسکے بدلے ہوۓانداز اسے پریشان کردیا۔۔۔۔


کافی دیر ان کے درمیان خاموشی کی دیوار حائل رہی ۔اچانک اس نے رونا شروع کر دیا اور اپنے دل کا غبار نکالتے ہوۓ بولنے لگی:”کل میں نے اپ کااتنا انتظار کیا کہ اپ مجھے پھول نہیں تو چاکلیٹ ضرور دیں گے وہ تو اتنی مہنگی نہیں ہے نا ” ۔اس کی معصومیت پر وہ مسکرایا ۔لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اسے کیسے سمجھاۓ کہ یہ سب غلط ہے۔


اس نے ٹشو اسے تھماتے ہوۓ آنسو صاف کرنے کو کہا اور بولا :”آپ نے حجاب لیا ہوا ہے ،آپ پیاری لگتی ہو اور پردہ خوبصورت عورت کی نشانی ہے ویسے ہی جب آپ کسی سے سچے جذبات وابستہ کرتے ہیں تو ان کو بھی چھپا کر رکھا جاتا ہے اس طرح دنوں کی مناسبت سے آویزاں نہیں کیا جاتا ،جب تک اسے مکمل رشتے (نکاح )کا نام نہیں دے دیا جاتا “

۔آپ کی مشکل مشکل باتیں مجھے سمجھ نہیں آتی ،اس نے انسو پونچھتے ہوے کہا۔”اچھا لیکن ابھی آپ کے پپیرز ہیں ،اگر آپ نے فرسٹ سمسٹر میں اچھے پپیرز دیۓ،تو چاکلیٹ گفٹ ملے گی اور ساتھ میرا آٹوگراف بھی “۔۔۔۔
“اور میں اپکی باتوں کو کہانی میں لکھوں گی پھر” ۔
“جیسے آپ کا دل کرے ،میری طرف سے کوئی پابندی نہیں آپ پر ،اور آئندہ ان لوگوں کے بنائے گئے فحش

دنوں(ویلینٹائن ڈے)کو لے کر پریشان نہیں ہونا ،آپ اچھی لڑکی ہو نا ،شاباش جاؤ! اب اپنی دوستوں سے باتیں کرو “۔وہ مسکراتے ہوۓالوداع کہہ کر چلی گئی لیکن اس کو پریشانی میں مبتلا کر گئی۔کہ کس طرح وہ اس تعلق کو پاکیزہ رکھے ۔ اگرچہ اسکے لئے یہ سب آسان نہیں تھا لیکن وہ اس کے لئے باعث ذلت نہیں بننا چاہتا تھا۔
اقراءملک (میانوالی)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں