391

ویلینٹائن کا رد عمل مگر اعتدال سے

تحریر شئیر کریں

ویلینٹائن کا رد عمل مگر اعتدال سے

فروری کے چودہ تاریخ والے ہفتے میں مغرب کی بے حیاء ثقافت کا ہمارے ہاں بھی تذکرہ بہت بڑھ جاتا ہے، ایک انتہائی کم تعداد کا گروہ ہے، اگرچہ یہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں، لیکن شیطانی حملوں کے شکار افراد اس کو مناتے ہیں، البتہ میڈیا اس کو منانے کا اور رواج دینے کا خصوصی اہتمام کرتا ہے، جس سے بادی النظر میں معلوم پڑتا ہے کہ شاید پاکستان میں بہت بڑی تعداد میں لوگ اس کو مناتے ہیں، ہر شخص.


سمجھتا ہے میرے اس پاس کے سوا اکثر اس میں ملوث ہیں، جب کہ ایسا ہرگز نہیں ہے، میں نے جامعہ کی بی ایس، ایم یس درجے کی مختلف کلاسز سے استفسار کیا تو اکثر نے اس کو نہایت فضول اور قابل نفرت قرار دیا، ان میں سے شاید ایک آدھ لڑکی اس کا اہتمام کرتی ہو، بسا اوقات طالبات نا سمجھی میں اس دن سرخ یا کالا لباس پہن لیتی ہیں جو کہ اس کے علامتی اظہار میں سے ہیں، تو دیکھنے والے انہیں بھی منانے والوں میں سے شمار کرتے ہیں، جو کہ بدظنی ہے،

علاج حیا دار معاشرے میں ایسا دن منانا بلاشبہ ایک بڑا موذی مرض ہے، لہذا ایسے امراض کا علاج کرنا بھی تہذیب اسلامی کے حکماء و مصلحین کے لیے لازم ہے تاکہ یہ ناسور بن کر مسلم معاشرے کو تباہ نہ کر سکے، مگر یہ بھی یاد رہیے کسی برائی کا تذکرہ اس قدر نہ کیا جائے کہ اس کی نفرت ہی کم ہوجائے، ہر پوسٹ صرف ویلنٹائن کے نام کر دینا یا پھر اس کے مظاہر کو خوش نما انداز میں پوسٹوں کا حصہ بنا کر اس کو رد کرنا بھی اس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے اعتدال اور حکمت کے ساتھ ایسے فضول اور تباہ کن تماشوں سے اپنی مسلمان نسلوں کو نفرت دلائی جائے،
اس کے بارے والدین سب سے بڑھ کر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں،

اس سلسلہ میں چند تجاویز یہ ہیں:-

اول: باپ یا ماں اپنے گھر میں اس سلسلہ میں مختصر گفت گو میں اس دن کی نسبت اور مقصد سے اظہار نفرت کرے، اور اسے اپنے بچوں میں ناقابل برداشت قرار دے.
دوم: اگر کوئی بچہ پھر بھی کرے تو اس سے صحیح والی ناراضی کا اظہار کیجیے.

سوم : 14 فروری کو الیکٹرانک اور سوشل میڈیا سے دوری کا کوئی طریقہ تلاش کریں،
مثلا اس دن ٹی وی چینل مت کھولیں،
موبائل سے دور رکھنے کے لیےاولاد کا موبائل خود ہی چوری کر لیں، بعد میں کسی طریقے سے واپس کر دیں، اور انہیں پتہ بھی نہ چلے.
چہارم: کوئی ایسی سرگرمی اس دن کے لیے ترتیب دیں کہ نوجوان اس میں مصروف ہو کر سوشل میڈیا پر وقت نہ لگا سکیں، مثلا صلہ رحمی کیجیے، کسی گاؤں یا ایسی جگہ جائیے جہاں دوسری خوش گوار مصروفیات ہوں، اپنے ہاں ایسی فیملی کو بلا لیجیے جن کے بچوں کی آپ کے بچوں سے دوستی ہو،
والدین فرماں بردار اولاد کو اپنی خدمت میں مصروف کریں اور اپنے خان دان کے تاریخی واقعات بھی لکھوا سکتے ہیں

پنجم: 14 فروری کو کسی صورت بھی کالج یا یونیورسٹی نہ جانے دیں خاص طور لڑکی کو، سوایے پیپر کے لیے تب بھی خود پک اہنڈ ڈراپ دیں،

دوسرا گروہ بھی چودہ فروری کے ویلنٹائن کو بےحد ترویج دیتا ہے، دراصل یہ مصلحین کا گروہ ہے، جو فروری کے اس ہفتہ میں ویلنٹائن کے مکروہ کردار کو اتنا موضوع بحث بناتا ہے کہ بہت سے لوگ شاید اسی بنا پر اس میں دل چسپی لینے لگ جاتے ہیں،


حیا باختہ تہذیبی یا تخریبی مظاہر کا تذکرہ ڈھکے چھپے الفاظ میں کیجیے، قرآن کریم میں بھی بے حیائی کے تمام مظاہر و علائم کو استعاراتی یا مختصر طور پر بیان کیا گیا ہے، انسانی نفسیات کا فطری اصول ہے کہ جس بات یا انداز کا ذکر زیادہ کیا جائے وہ آہستہ آہستہ قابل قبول ہو جاتی ہے،
فروری اور مارچ میں اپنے موضوعات میں


توحید…. دیگر تمام برائیوں کے خاتمے کا اکسیر نسخہ،
شرک اور اس کی فکری و عملی خباثتیں،
شیطان کی محبت اور نفرت کے انسانی زندگی اور صلاحیتوں پر اثرات،
حیا کے حکم و فوائد اور مسلم سوسائٹی میں حیا کی ضرورت،
بے حیائی کا حکم و نقصانات،
عورت کی آزادی کی حدود،
مرد و عورت کے باھمی اختلاط کا حکم اور نقصانات،
موجودہ دور میں شیطانی شکنجے، اور
اسلامی تہذیب کو شامل کریں،
البتہ ضمنا مختصر طور پر ویلنٹائن، عورت مارچ وغیرہ، بسنت، سپورٹس ڈیز کا بھی ذکر کریں

✒ ڈاکٹر زاھدہ المسلمہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں