336

ٹوٹے لوگوں کی فیکٹری

تحریر شئیر کریں

ازقلم:اقراءملک

ٹوٹے لوگوں کی فیکٹری

کمر تک آتے بالوں کو سیاہ کیچر میں مقید کیے،شانے پر سیاہ دوپٹہ جمائے سفید کوٹ میں ملبوس ایک ہاتھ سے چہرےپر آنے والی لٹوں کو پیچھے کرنے اور دوسرے ہاتھ میں قلم پکڑے وہ ڈائری پر کچھ لکھنے میں مشغول تھی۔دروازے پر ہونے والی دستک نے اس کی تمام تر توجہ اپنی طرف مبذول کی۔سیاہ سوٹ میں ملبوس الجھے بال،شب بیداری سے سوجھی سرخ انگارہ آنکھیں لیے وہ اندر داخل ہوا۔اس نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا اور نظر ہٹانا بھول گئی ۔اس کے پیچھے ہی نرس بھاگتی ہوئی آئی ،”ڈاکٹر صاحبہ! میں نے اس شخص کو روکنے کی بہت کوشش کی مگر انہوں نے میری بات کو نظر انداز کر دیا”۔اس نے اشارے سے اسے جانے کو کہا اور چند ثانیے کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی اتنی گہری خاموشی کہ گھڑی کی ٹک ٹک کو سنا جا سکتا تھا۔”تم !۔۔۔۔۔میرا مطلب آپ یہاں”اس نے سکوت کو توڑتے ہوئے بولا ۔کچھ دیر اس کے چہرے پر نظریں ٹکانے کے بعد جھکا لیں ۔”تمہاری خاموشی مجھے پہلے کی طرح مار ڈالے گی،کچھ تو بولو “،اس نے اس کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔کچھ دیر بعد اس کے گلابی ہونٹوں پر خشکی کی تہہ جمی دیکھ کر اس نے کانچ کے گلاس میں پانی انڈیلا اور اس کی طرف بڑھایا ۔جسے اس نے غٹاغٹ پی کر اپنی پیاس بجھائی ۔
اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے وہ تلخ لہجہ اپناتے ہوئے بولی ،”یہ جگہ آپ جیسے لوگوں کے لیے سازگار نہیں ہے ،ان جگہوں پر آنے سے آپ امیروں کا ذہنی سکون خراب ہوسکتا ہے،یہ ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری ہے ،آپ جیسے امیروں کا محل نہیں ہے”۔وہ خاموشی سے اس کی ذومعنی باتیں سن رہا تھا۔”میں ٹوٹ چکا ہوں ،مجھے اس ٹوٹی پھوٹی فیکٹری کے سہارے کی ضرورت ہے “،جیب سے بہت سارے کارڈز میں سے نکال کر میز پر رکھا اور چلا گیا۔ان کارڈرذ میں اپنی تصویر دیکھ کر اسے مزید اذیت ہوئی تھی۔
اس کے جانے کے بعد ہاتھوں کا پیالہ بنا کر اس چہرہ چھپائے وہ کا فی دیر روتی رہی ۔خود کو پر سکون کر نے کے لیے ماضی کے جس دریچے کا قفل ابھی ٹوٹا تھا اس پر دوبارہ سے قفل لگانا ضروری تھا۔موبائل الارم کے عندیہ دینے پر اسے احساس ہوا کہ کافی زیادہ وقت ہوگیا ہے اسے گھر جانا چاہئے ۔کرسی پر پڑی سیاہ رنگت شال اپنے شانوں پر پھیلاتے ہوئے اس نے نرس کو دروازے کو بند کرنے کی تاکید کی۔
اس کے گھر پہنچنے سے قبل ہی موسلادھار بارش شروع ہوچکی تھی۔ وہ غیر اضطرابی طور پر دن میں پیش آنے والے واقعے کو سوچوں کا محور بنائے ہوئے تھی۔ اس کا جی گھبرانے لگا ۔وہ کبھی گھڑی کی جانب دیکھتی تو کبھی طوفان کی شدت سے ہلتے دروازے کی جانب ،کچھ اور وقت گزرا تو اس کی پر بے چینی میں مزی اضافہ ہو گیا۔اس نے ایک بار پھر گھڑی کی سوئیوں کو اپنی آنکھوں میں جکڑنے کی ناکام کوشش کی۔ وقت کی رفتار اور طوفان کی شدت میں تیزی آ چکی تھی۔ہزاروں وسوسے دل میں سر اٹھانے لگے۔نمازِ عشاء ادا کرنے کے بعد کافی دیر سجدہ ریز رہی ۔کھڑکی سے آتی چاند کی روشنی اس کے گالوں پر لڑھکتے آنسووں کو جگمگانے پر مجبور کر رہی تھی ۔دعا مانگنے کی ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی ۔اس نےنماز ادا کرنے کے بعد جائے نماز تہہ کی ۔
نیند کی وادی آنکھوں کی حدِ نگاہ سے کوسوں دور تھی۔اسی الجھن میں مبتلا اسے ایک عجیب سی آواز سنائی دی۔ جس نے اس کے اضطراب میں مزید اضافہ کر دیا اور اسے کھڑکی سے باہر جھانکنے پر مجبور کر دیا۔ایک پرندے کے بچوں کا گھونسلہ طوفان کی زد میں آکر درخت سے گر چکا تھا ۔پرندہ اپنی آواز میں درد سموئے رینگت رینگ کر ان تک پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا۔
اس نے رات کے اس پہر ہر قسم کے طوفان سے نمٹنے کے لیے قلم کو جنگی ہتھیار کے طور پر استمعال کرنے کا ارادہ کیا۔
آج پہلی بار اس کے قلم سے نکلنے والے ہیروں کو اس کے جذبات نے قفل لگا دیا تھا۔اچانک،ماضی کے تمام صندوقچوں کے قفل ٹوٹے ،وہ الفاظ اس کے کانوں میں ایسے گونج رہے تھے جیسے کسی نے ابھی ابھی بولے ہوں،”تم پاگل ہو ،میں تمہیں سائیکیٹرسٹ بننے کی بالکل اجازت نہیں دوں گا،ٹوٹے پھوٹے لوگ آکر نت نئی کہانیاں سناتے رہتے ہیں ،خود بھی پاگل ہیں تمہیں بھی پاگل کر دیں گے “،سات سال پہلے کہے گئے جملے آج بھی اسے یاد تھے جب اس نے سائیکیٹرسٹ بننے کی خواہش سب کے سامنے رکھی تھی اور اپنے حق میں دلائل دیتے ہوئے بولی ،”دیکھیں اعلیان! وہ ٹوٹتے کیسے ہیں ،ہم لوگ ہی تو ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتےہیں ،اس میں غلط کیا ہے ،آپ جانتے ہیں ان لوگوں کی مدد کرنا میرا بچپن سے خواب رہا ہے “۔” پہلے اپنا بچپنا تو ختم کر لو ،آئے دن تم نت نئے خواب دیکھتی رہتی ہوں،مجھے تو آج تک سمجھ نہیں سکی، ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری یا میرا ساتھ،اب تم فیصلہ کر لو” اس نے یہ کہہ کر اسے خاموش کرادیا تھا۔
سورج کی کرنیں کھڑکی سے گزر کر اسے کے چہرے کو حدت بخش رہی تھیں ۔الارم بجنے پر اس کی آنکھ کھل گئی ،وقت کی قلت کی وجہ سے بغیر ناشتے کے وہ ہسپتال چلی گئی ۔ہسپتال پہنچتے ہی اسے وہاں دیکھ کر وہ حیران رہ گئی ۔وہ خاموشی سے اس کا ہاتھ پکڑے اسے مختلف لوگوں کے کمروں میں لے گئی ،”یہ عورت ،جسے بیٹا نہ پیدا کرنے پر اس کے گھر والوں نے اسے ذہنی مریضہ بننے پر مجبور کر دیا”۔سرمئی رنگت سوٹ میں ملبوس نوجواں لڑکی طرف اشارہ کرتے ہوئے ،”یہ گلابی گالوں والی لڑکی ،جسے جنسی زیادتی کے بعد اس کے گھر والوں نے ہی بے آسرا کر دیا،شہزادے کے خواب بننے کی عمر میں یہ معصوم معاشرے کی وجہ سے خودکشی کرنا چاہتی ہے اور دیکھ رہے ہو وہ بارہ سالہ بچہ والدین کی ہر وقت کی چپلش نے اس کے اندر محبت کے احساس کو مار دیا ہے “۔یہ سب بتاتےہوئے وہ تھک ہار بینچ پر ڈھے گئی ،اس کی آنکھوں سے پلکوں کا حصار توڑتے ہوئے آنسو چہرے پر بکھر رہے تھے ۔”اور آپ “،اس کے اس سوال نے حیرت میں مبتلا کر دیا۔”میرا دل اور میرے جذبات تو اسی دن ان ٹوٹے پھوٹے لوگوں میں شامل ہو گئے تھے جس دن آپ نے میری محبت اور میرے مستقبل کے درمیان معاشرے کی دیوار کی پہلی اینٹ رکھی تھی ،میں نے اسی دن اپنی محبت کی عمارت ریت کی مانند ریزہ ریزہ ہوتی محسوس کی تھی “۔وہ بغیر سوچے سمجھے بولے جا رہی تھی گویا صدیوں کا غبار نکال رہی ہوں۔”جانتے ہو!یہ لوگ جن کی حالت دیکھ کر تم ان پر قہقہے لگاتے ہو ،ان کو مایوسی کی طرف دھکیلتے ہو ،ان کے بھی جذبات ہوتے ہیں،جس کو تم ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری کہتے ہو ،اس فیکٹری میں تمہیں منافقت نہیں ملے گی ،جب یہ زندگی کی طرف لوٹ آتے ہیں تو میرے ٹوٹے دل میں جینے کی امید پنپتی ہے “۔”توڑ پھوڑ انسان کو اس قدر بدل دیتی ہے “،یہی سوچتے ہوئے وہ وہاں سے چل دیا۔ٹوٹے لوگوں کی فیکٹری افسانہ آپ نے پڑھا کیسا لگا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں