377

پنجاب پبلک سروس کمیشن بڑا گھپلا سامنے آگیا۔

تحریر شئیر کریں

پنکاب پبلک سروس کمیشن کا بڑا گھپلا سامنے آ گیا۔حکومت کا نیا ٹیسٹنگ سروس کمیشن لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسلام آباد نیوز ڈیسک کے مطابق حال ہی میں ہونے والے امتحان کے دونوں ٹاپرز پہلے سے کوئسچن پیپرز خرید چکے تھے۔ملزمان نے اعتراف جرم کر لیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ انسپکٹرز کا پرچہ لیک کرنء کا ریٹ دس لاکھ سے پندرہ لاکھ تھا جبکہ یہ پیپر آٹھ افراد کو لیک کیا گیا۔جبکہ اینٹی کرپشن کا پیپر آٹھارہ لاکھ تک فروخت ہوتا رہا ۔اس کے علاوہ دیگر مضامین کے پیپرز بھی فروخت کیے گۓ۔

یہ بھی پڑھیے

کیا پاکستان اسرائیل کوتسلیم کر لے گا؟

گرفتار شدہ ملزم فہد علی سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔انکشاف ہے کہ اس گھٹیا دھندے میں بڑے آفسران بھی ملوث ہیں۔اینٹی کرپشن کے نامزد امیدواران جو ٹاپر تھے کامران حنیف اور جہانزیب بھی جعلی سازی کے نتیجے میں سلیکٹ ہوۓ۔ایک اور ملزم جو ڈیٹا اینٹری آپریٹر تھا وقار اکرم کو بھی گرفتار کر کے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ اس مکروہ دھندے کا انکشاف ایک چیٹ اپلیکشن کے زریعے ہوا۔کہا جارہا ہے کہ اس کے تمام کرداروں کو بے نقاب کیا جاۓ گا۔

حکومت نے پنجاب سروس کمیشن جیسے ادارے کا حال دیکھ کر نیو ٹیسٹنگ سروس کمیشن لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں