فہد کے ہاتھ میں کھجور کے درخت کی لکڑی سے بنی چھوٹی سی تسبیح تھی، جو اس نے بازار سے خریدی تھی تاکہ لوگوں کو اپنی نیک نامی کا یقین دلا سکے۔ وہ پاکستان سے دبئی بہتر زندگی کی تلاش میں آیا تھا، مگر یہاں نوکری کا ملنا خواب ہی ثابت ہوا۔ پیٹ بھرنے کے لیے اس نے مولوی کا روپ دھار لیا، کیونکہ اس کے پاس ایک ہی ہنر تھا—چند قرآنی آیات یاد تھیں، جنہیں وہ دم کے طور پر پڑھ سکتا تھا۔
وہ مسجد کے ایک کونے میں بیٹھا رہتا، لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے آتے، وہ آیات پڑھ کر ان پر پھونک مارتا، اور درہم اس کی جھولی میں آ گرتے۔ زندگی مشکل ضرور تھی، مگر گزر رہی تھی۔
لیکن ایک رات سب کچھ بدل گیا۔
مسجد کے دروازے پر چار نقاب پوش عرب خواتین کھڑی تھیں۔ ان کے زیورات اور عطر کی خوشبو بتا رہی تھی کہ وہ کسی رئیس گھرانے سے تھیں۔ انہوں نے ہاتھ کے اشاروں سے سمجھایا کہ ان کے گھر میں ایک بیمار بچہ ہے، جسے دم کی ضرورت ہے۔
یہ ایک سنہری موقع تھا۔ فہد کو معلوم تھا کہ ایسے گھرانے نذرانہ بھی زیادہ دیتے ہیں۔ پیسوں کی چمک نے اسے اندھا کر دیا۔ وہ خاموشی سے ان کے ساتھ چل دیا۔
جیسے ہی وہ محل نما گھر میں داخل ہوا، اس کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ گھر کی دیواروں پر سنہری رنگ کے قرآنی الفاظ نقش تھے، خوشبوؤں سے مہکتے کمرے اور دبیز قالین، سب کچھ شاہی تھا۔ لیکن سب سے زیادہ چونکا دینے والی چیز وہ بوڑھا عرب تھا، جو ایک کرسی پر بیٹھا تھا اور نظریں فہد کے چہرے پر گاڑے ہوئے تھا۔
“کیا تم واقعی اللہ کے ولی ہو؟” عربی میں پوچھا گیا سوال فہد کے سینے میں کسی تیر کی طرح لگا۔
اس کے ماتھے پر پسینہ آ گیا۔
“جو تم پڑھتے ہو، کیا تمہیں اس پر یقین بھی ہے؟” عرب نے دوبارہ پوچھا۔
فہد کی زبان گنگ ہو گئی۔
“اگر ہاں، تو اس بچے کے لیے دعا کرو، جو زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے!”
بچہ سامنے پڑا تھا۔ سانسیں اکھڑی ہوئی، ہاتھ ٹھنڈے۔ فہد نے لرزتے ہاتھوں سے تسبیح پکڑی، آنکھیں بند کیں، اور پہلی بار دل سے آیات پڑھنا شروع کیں۔ اس کے الفاظ میں لرزش تھی، مگر دل میں ایک عجیب سی تبدیلی محسوس ہو رہی تھی۔
اور پھر… جیسے ہی اس نے ہاتھ چہرے پر پھیرا، بچے کی سانسوں میں روانی آ گئی۔
بوڑھے عرب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
“الحمدللہ!” وہ بول اٹھا۔
لیکن فہد… وہ سکتے میں تھا!
“کیا واقعی یہ سب میری وجہ سے ہوا؟ یا اللہ! میں تو جھوٹ بول رہا تھا، مگر آج تو نے میرے جھوٹے الفاظ میں بھی اثر ڈال دیا؟”
اس رات فہد نے پہلی بار سچے دل سے نماز پڑھی۔ وہ جو کبھی مولوی بنا تھا، اب حقیقت میں اللہ کے قریب ہو چکا تھا۔
یہ اس کا آخری دھوکہ تھا، اور پہلا سجدہ…