پہلی اُڑان قسط 39
عید کے بعد، نداء کی زندگی میں ایک نیا جوش اور عزم آ چکا تھا۔ اس کا دل اب دنیا کی چمک دمک سے زیادہ اللہ کی رضا کی تلاش میں تھا۔ مغرب میں گزارے ہوئے تین ماہ نے نداء کی شخصیت میں ایک نمایاں تبدیلی کی تھی۔ وہاں کی زندگی اور ماحول نے اسے خود کو بہتر بنانے، اپنے دین کو سمجھنے، اور عملی مسلمان بننے کے لیے ایک نیا زاویہ دیا تھا۔
جب نداء نے واپس آ کر اپنے خاندان کے ساتھ عید منائی، سب نے اسے پہلے کی نسبت مختلف پایا۔ وہ نہ صرف ظاہری طور پر بہتر محسوس ہو رہی تھی، بلکہ اس کے اندر ایک ایسی روحانیت اور سکون تھا جسے اس نے خود بھی پہلے کبھی نہیں محسوس کیا تھا۔ اس نے اپنے لباس میں سادگی کو اپنایا تھا، اور مغربی دنیا کی عارضی چمک دمک کو چھوڑ کر اپنی اسلامی شناخت کو اپنانا شروع کیا تھا۔
خاندان کے لوگ اس تبدیلی پر حیران تھے۔ نداء کی والدہ نے تو اسے ایک نظر میں ہی پہچان لیا تھا۔ “بیٹا، تمہیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ تم کچھ بدل چکی ہو۔ تمہارا چہرہ، تمہاری نظریں، سب کچھ کچھ الگ سا لگ رہا ہے۔”
نداء مسکراتی ہوئی جواب دی، “یہ وہ تبدیلی ہے جو میں نے اپنے دل میں لائی ہے، امی۔ یہ تبدیلی میرے اندر سے آئی ہے، اللہ کے راستے پر چلنے کا ارادہ ہے، اور میں چاہتی ہوں کہ یہ جو سکون اور سکونت مجھے نصیب ہوئی ہے، وہ میری زندگی کا حصہ بنے۔”
وہ جانتی تھی کہ یہ تبدیلی آسان نہیں تھی، خاص طور پر جب وہ اپنے پرانے ماحول میں واپس آ رہی تھی۔ لیکن نداء نے یہ عہد کیا تھا کہ وہ اپنے مقصد کے راستے پر چل کر دوسروں کے لیے بھی ایک مثال بنے گی۔ اس نے نمازوں کی پابندی، قرآن کی تلاوت اور اپنے دل و دماغ کو اللہ کے ذکر سے آباد رکھنے کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیا تھا۔
خاندان کے افراد بھی اس کی اس تبدیلی کو دیکھ کر متاثر ہو گئے۔ اس کے بھائی، جو پہلے اس کی مذہبی زندگی سے اتنے متاثر نہیں تھے، اب نداء کے قریب آنا شروع ہو گئے تھے۔ نداء نے اپنے خاندان کے ساتھ عبادات میں حصہ لینا شروع کیا، اور ہر دن کا آغاز اور اختتام اللہ کے ذکر سے کرنے کی کوشش کی۔ اس کی عملی زندگی میں یہ تبدیلی اس کے لیے ایک نئی طاقت بن چکی تھی، جو اس نے اپنی محنت، ایمانداری، اور سچائی سے حاصل کی تھی۔
نداء کے والدین اور اس کے بھائیوں کے دل میں یہ بات گہری ہو گئی کہ نداء اب محض ایک معمولی مسلمان نہیں بلکہ ایک عملی مسلمان بن چکی ہے۔ وہ اپنے فیصلوں، عملوں، اور کردار سے اسلام کی حقیقی تعلیمات کو اپنانے کی کوشش کر رہی تھی۔
“میں نے ہمیشہ یہ سنا تھا کہ عمل دین کا سب سے بہترین جزو ہوتا ہے، اور آج میں اپنی زندگی میں اس پر عمل کر رہی ہوں،” نداء نے ایک دن اپنے والدین سے کہا۔
یہ نیا نداء ایک رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آیا تھا۔ وہ اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھ چکی تھی اور چاہتی تھی کہ وہ اپنے دین کی خدمت کرے۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی اصل کامیابی صرف اس کی دنیاوی کامیابیوں میں نہیں، بلکہ اس کی روحانیت میں ہے۔
یہ عید اور رمضان کی وہ راتیں نداء کی زندگی میں ایک سنگ میل ثابت ہوئیں۔ اس نے اپنے خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے اللہ کے راستے پر قدم رکھا تھا، اور اس کی زندگی کا ہر دن اب ایک نیا چیلنج تھا۔ وہ جانتی تھی کہ اس کا سفر ابھی مکمل نہیں ہوا، لیکن وہ اللہ کی ہدایت سے یقیناً کامیاب ہوگی۔
*جاری ہے…*