215

پہلی اڑان قسط 38

تحریر شئیر کریں

ناول نگار:روبینہ شاہین

یہ آخری عشرہ تھا، اور نداء کے دل میں بےچینی کی ایک لہر سی دوڑ رہی تھی۔ رمضان کی ساعتیں رخصت ہو رہی تھیں، اور اس کے ساتھ ہی وہ خاص روحانی کیفیت بھی جو اس مہینے نے اس کے دل میں پیدا کی تھی۔ اس نے پورا مہینہ قرآن کی تلاوت، دعا اور عبادت میں گزارا تھا، مگر اب ایک خلاء محسوس ہو رہا تھا—ایسا جیسے دل کسی روشنی کو تھامنے کی کوشش کر رہا ہو، جو دھیرے دھیرے مدھم ہو رہی ہو۔

وہ اپنی ڈائری کے اوراق پلٹتی ہے اور چند سطور قلمبند کرتی ہے:

“یہ راتیں، یہ سجدے، یہ قرآن کی آیات جو دل کو سکون دیتی تھیں—اب سب یاد بن رہے ہیں۔ مجھے خوف ہے کہ کہیں رمضان کے بعد وہ جذبہ ماند نہ پڑ جائے، وہ قربت کم نہ ہو جائے، جو اس ماہ میں نصیب ہوئی تھی۔ میں نہیں چاہتی کہ یہ روشنی بجھ جائے۔ میں چاہتی ہوں کہ رمضان کی برکتیں میرے دل میں ہمیشہ زندہ رہیں۔”

ندا جانتی تھی کہ یہ اس کے لیے ایک آزمائش تھی—رمضان کے بعد بھی اس روحانی سفر کو جاری رکھنے کی۔ وہ اپنے آپ سے وعدہ کرتی ہے کہ وہ اس روشنی کو بجھنے نہیں دے گی۔

اسی دوران، ایک دن اس کے فون پر ایک غیر متوقع ای میل آتی ہے۔ وہ جیسے ہی اسے کھولتی ہے، دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں۔ یہ ایک عالمی شہرت یافتہ ڈیپ سیک کمپنی کی جانب سے پیشکش تھی—بیجنگ میں ایک شاندار موقع، جہاں اسے جدید ترین پراجیکٹس پر کام کرنے کا موقع مل رہا تھا۔

ندا کی آنکھوں میں حیرت اور جوش کا امتزاج تھا۔ یہ ایک بڑی کامیابی تھی، مگر ساتھ ہی ایک سوال بھی ابھرنے لگا—کیا وہ اپنے اصل مشن کو چھوڑ کر اس راہ پر چل سکتی ہے؟

اس الجھن میں، اس کی نظر سامنے پڑے قرآن پر پڑتی ہے۔ وہ اسے کھولتی ہے اور سورۃ الفتح کی آیات پڑھتی ہے:

**”یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے، وہ آپ کی مدد کرے گا، وہ آپ کو کامیابی دے گا، لیکن آپ کو ہمیشہ اس کے راستے پر چلنا ہے۔”**

یہ الفاظ اس کے دل کو سکون بخش دیتے ہیں۔ وہ فیصلہ کرتی ہے کہ اس کا ہر قدم اللہ کی رضا کے مطابق ہوگا۔ اگر یہ موقع اس کے ایمان اور مقصد کے ساتھ ہم آہنگ ہوا، تو وہ اسے قبول کرے گی۔ ورنہ، اسے چھوڑنے میں بھی کوئی تردد نہیں ہوگا۔

اس نے حال ہی میں قرآن جرنلنگ شروع کی تھی—یہ عمل اسے اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتا تھا۔ وہ لکھتی ہے:

*”جب میں قرآن کے الفاظ میں کھو جاتی ہوں، تو دنیا کی الجھنیں معدوم ہو جاتی ہیں۔ رمضان میں روح کو جو سکون ملا، میں چاہتی ہوں کہ وہ ہمیشہ قائم رہے۔”*

ندا سوچتی ہے کہ اگر وہ اس کمپنی میں کام کرنے جاتی بھی ہے، تو بھی اس کا مقصد صرف کیریئر نہیں ہوگا—بلکہ وہ اپنی مہارتوں کو دین کی خدمت کے لیے بھی بروئے کار لانے کے طریقے تلاش کرے گی۔ یہ سفر محض پیشہ ورانہ ترقی کا نہیں، بلکہ روحانی استقامت کا بھی ہوگا۔

اس نے فیصلہ کر لیا تھا—وہ اپنے خواب اور اپنے مشن دونوں کو ساتھ لے کر چلے گی۔
۔……..
یہاں “پہلی اُڑان” قسط 38 کا آخری حصہ پیش کیا جا رہا ہے، جس میں پاکستان جانے کا سرپرائز، گھر والوں کی خوشی، اور عید کی رونق کو شامل کیا گیا ہے۔

—
ہوائی جہاز کی کھڑکی سے نیچے جھانکتے ہوئے اس کی آنکھوں میں نمی سی تیرنے لگی۔ کراچی کی روشنیوں نے جیسے دل کے تار چھیڑ دیے۔ کتنے برس ہو گئے، عید پر پاکستان جانے کا خواب بس خواب ہی رہا۔ مگر اس بار وہ سرپرائز گفٹ تھا، جو نہ صرف گھر والوں کے لیے بلکہ خود اس کے لیے بھی کسی خوشگوار جھٹکے سے کم نہ تھا۔

ائیرپورٹ پر قدم رکھتے ہی دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔ سب کو کیسے بتائے؟ اماں، ابو، بہن بھائی، سب سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ وہ اچانک یوں آ دھمکے گا۔ ٹیکسی لی اور سیدھا گھر کا راستہ پکڑ لیا۔

گلی کے موڑ پر پہنچتے ہی آذان کی آواز کانوں میں گونجی۔ یہ آواز، یہ ماحول، سب کچھ کتنا اپنائیت بھرا تھا۔ دروازے پر دستک دی، کچھ لمحوں بعد اماں نے دروازہ کھولا، اور جیسے ہی سامنے کھڑے وجود کو پہچانا، ان کی چیخ نکل گئی، “ارے! تو… تو… تو یہاں کیسے؟”

ابو، بہنیں، بھائی سب لپک کر باہر نکلے۔ اماں کی بانہیں اس کے گرد سختی سے لپٹ گئیں، اور ابو کی آنکھوں میں چھپے جذبات بھی عید کی خوشیوں میں گھل گئے۔

“یہ میرا عید گفٹ ہے سب کے لیے!” اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔

اور پھر وہ لمحہ آیا، جس کا انتظار سب کو برسوں سے تھا—ایک ساتھ، ہنسی مذاق، گرم گرم شیرخورمہ، مہندی کی خوشبو، اور وہ روایتی عیدی کا تقاضا۔ اس بار عید صرف ایک تہوار نہیں، ایک مکمل جشن تھا، ایک خواب کی تعبیر، ایک دعا کی قبولیت!

—
(جاری ہے…)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں