پہلی اڑان — قسط44
جمعہ کی وہ دوپہر جیسے وقت کا دھارا ایک لمحے کو تھم گیا ہو
ندا نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر جھانکا، تو گلی میں غیر معمولی ہلچل تھی۔ جماعت اسلامی کی جانب سے آج مظلوم قوم کے حق میں ریلی نکالی جا رہی تھی۔ ہر طرف سرسبز پرچم، کالے کفن کی صورت مظلوم قوم کا پرچم، اور “لبیک یا اقصیٰ” کے نعروں کی گونج تھی۔
ندا نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کیں۔ اُس کی انگلیاں خودبخود اُس جرنل کے صفحے پر جا رکیں، جہاں اُس نے سورۃ بنی اسرائیل کی آیت 104 کی تفسیر لکھی تھی:
“ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ زمین میں رہو، پھر جب آخرت کا وعدہ پورا ہوگا تو ہم تمہیں جمع کر لائیں گے۔”
ندا کے دل میں ایک درد سا اتر آیا۔
—
ندا کی زندگی اب دو دنیاؤں میں بٹ چکی تھی۔ ایک دنیا وہ تھی جو ظاہری تھی—سادہ سا ایک کمرہ، لکڑی کی پرانی میز، ایک پنکھا جو زیادہ شور کرتا تھا، اور ایک چھوٹا سا کچن جہاں وہ دن میں دو وقت کھانا بناتی تھی۔ ندا کے والدین فوت ہو چکے تھے، اور وہ اپنی چھوٹی بہن عروہ کے ساتھ رہتی تھی۔ عروہ اسکول کی طالبہ تھی اور ندا کے لیے دنیا کا سب سے قیمتی وجود۔
ندا کی صبح فجر سے پہلے جاگنے سے شروع ہوتی، وہ نماز کے بعد تھوڑا قرآن پڑھتی، پھر اپنے قرآن جرنل میں آیات کی روشنی میں کچھ نہ کچھ لکھتی۔ کبھی دعائیں، کبھی سوالات، کبھی خیالات۔ ناشتہ وہ سادہ کرتی—اکثر چائے اور دو سلائس۔ دن بھر وہ آن لائن قرآن کلاسز دیتی، اور شام کو چند بچوں کو محلے میں پڑھاتی۔
اس کی زندگی کی سادگی میں ایک خاص طرح کی وقار تھا۔ وہ پرانے لکڑی کے شیلف پر کتابوں کی ترتیب خود بناتی، نیچے قالین پر بیٹھی تفسیر پڑھتی، اور ہر شام اپنے آنگن میں عروہ کے ساتھ چائے پیتی۔ اس کی مسکراہٹ میں ٹھہراؤ تھا، جیسے وہ وقت کے ہر امتحان سے گزر کر بھی بکھری نہ ہو۔
—
اس جمعہ کو ندا نے اپنا دوپٹہ درست کیا، مظلوم قوم کا اسکارف کندھے پر رکھا، اور عروہ سے کہا:
“میرے ساتھ چلو، آج ہمیں اپنی بہنوں کے لیے قدم بڑھانا ہے۔”
ریلی میں پہنچتے ہی وہ ماحول اسے کسی انقلاب کی تمہید لگا۔ عورتیں، مرد، بچے سب مظلوم قوم کے لیے بینر تھامے کھڑے تھے۔ ایک بزرگ عورت نے ندا کو دیکھا اور دعائیہ نظروں سے مسکرائی۔
ندا کو اسٹیج کے قریب بلایا گیا، اور وہ چونک گئی۔ جماعت کے ایک کارکن نے کہا:
“ہم نے سنا ہے آپ بہت اچھا بولتی ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو کچھ کہیں۔”
ندا کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی آ گئی۔ اس نے اپنی دعاؤں میں یہ لمحہ مانگا تھا۔ مائک تھامنے سے پہلے اس نے دل ہی دل میں دعا کی:
“یا اللہ! جو کہوں، وہ تیری رضا کے لیے ہو۔”

ندا کی تقریر گویا دل سے نکلی اور دلوں میں اترتی گئی۔
“مظلوم قوم صرف ایک زمین نہیں، یہ امت کی غیرت ہے۔ یہ ہمارا قبلہ اوّل ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کے اندر ایک اقصیٰ ہونا چاہیے۔ وہ اقصیٰ جو درد سے تڑپے، وہ اقصیٰ جو ظلم کے خلاف بولے۔”
لوگ دم سادھے سن رہے تھے۔
ندا نے جرنل کا وہ صفحہ بلند کیا، جس پر اس نے لکھا تھا:
“یا اللہ! مظلوم قوم کی ماؤں کے آنسو ہمارے ایمان کو جگا دیں!”
ایک لمحے کو ہجوم میں سناٹا چھا گیا۔ پھر نعرے بلند ہونے لگے*لبیک یا اقصیٰ!
ریلی کے بعد کئی لڑکیاں ندا کے پاس آئیں۔ کسی نے جرنل مانگا، کسی نے دعا کی درخواست کی۔ ایک چھوٹی بچی نے کہا:
“ندا باجی، کیا ہم بھی آپ کی طرح بن سکتے ہیں؟”
ندا نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا:
“تم مجھ سے بہتر بنو گی، بس سجدہ اور سوال کبھی مت چھوڑنا۔”
ندا جانتی تھی، یہ لمحے وقتی نہیں۔ یہ اُن کہانیوں کے بیج تھے جو تاریخ میں کبھی سنائی جائیں گی۔
—
اس رات ندا بہت دیر تک جاگتی رہی۔ اُس نے موم بتی کی روشنی میں جرنل کھولا اور لکھا:
“آج میرے قلم نے پہلی بار ظلم کے خلاف گواہی دی ہے۔ آج میرے قدم نے پہلی بار مظلوم قوم کے لیے قدم بڑھایا ہے۔ اگر کل میرا وجود نہ ہو، تو یہ الفاظ گواہ رہیں گے کہ میں خاموش نہیں تھی۔”
ندا نے عروہ کے سوتے چہرے کو دیکھا، اور آسمان کی طرف نظریں بلند کیں:
“یا اللہ! ہماری نسلیں ظالموں کی غلام نہ ہوں — ان کے قلم بیدار ہوں، ان کے دل زندہ ہوں، ان کے سجدے معنی خیز ہوں’
ندا نے اگلی صبح اپنی ویب سائٹ “نور کی لکیریں” کو اپڈیٹ کیا۔ اس نے مظلوم قوم کی ریلی کی جھلکیاں، تقریر کا خلاصہ اور اپنے جرنل سے اقتباسات ایک الگ بلاگ میں شامل کیے۔ ساتھ ہی اُس نے سرچ انجن آپٹیمائزیشن (SEO) کے اصول اپناتے ہوئے کلیدی الفاظ مثلاً: “مظلوم قوم ریلی پاکستان، قرآن جرنلنگ، اسلامی تقریر خواتین، اسلامی بیداری، جماعت اسلامی مظلوم قوم” شامل کیے تاکہ اس کی آواز انٹرنیٹ پر زیادہ لوگوں تک پہنچے۔ ندا جانتی تھی، آج کے دور میں قلم صرف کاغذ پر نہیں، سرچ انجنز میں بھی بیدار ہونا چاہیے۔
ندا کو پتہ تھا… یہ پہلی اڑان تھی — لیکن منزل بہت دور نہیں۔
پہلی اڑان — قسط44