253

پہلی اڑان 8 ناول

تحریر شئیر کریں

روبینہ شاہین

نداء لائبریری میں اپنی تحقیق پر کام کر رہی تھی۔ اس کی انگلیاں کمپیوٹر کے کی بورڈ پر تیزی سے چل رہی تھیں، لیکن اس کے ذہن میں کئی خیالات گردش کر رہے تھے۔ حراء اس کے پاس بیٹھی نوٹس لکھ رہی تھی، اور ثانیہ، جو کبھی کبھار لائبریری آتی تھی، آج خاص طور پر نداء کے ساتھ وقت گزارنے آئی تھی۔

“نداء، ہم کل کہیں باہر چلتے ہیں۔ تمہیں کچھ آرام کی ضرورت ہے۔” حراء نے سرگوشی کی۔

نداء نے اپنی نظریں کمپیوٹر کی اسکرین سے ہٹا کر اسے دیکھا۔ “حراء، مجھے واقعی اس وقت بہت کام کرنا ہے، اور والد کی حالت ابھی بھی بہتر نہیں ہے۔”

“تم یہ مت بھولو کہ اپنے لیے وقت نکالنا بھی ضروری ہے۔” ثانیہ نے لائبریری کی خاموشی کا لحاظ رکھتے ہوئے دھیرے سے کہا۔ “کام اور فکر اپنی جگہ، لیکن اگر تمہارا دل اور دماغ سکون میں نہیں ہوگا تو تمہاری محنت بھی بے اثر رہے گی۔”

نداء نے گہری سانس لی۔ “شاید تم دونوں ٹھیک کہہ رہی ہو۔”

“تو پھر طے ہوا! کل ہم یونیورسٹی کے قریب کسی پرسکون جگہ پر چلیں گے۔” حراء نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔

اگلے دن نداء، حراء، اور ثانیہ یونیورسٹی کے کینٹین میں جمع ہوئیں۔ سردیوں کی دھیمی دھوپ میں بیٹھے ہوئے، تینوں نے کافی کے کپ تھامے گفتگو کا آغاز کیا۔

“تمہارے والد کی طبیعت کیسی ہے اب؟” ثانیہ نے نرمی سے پوچھا۔

“الحمدللہ، ڈاکٹرز نے کہا ہے کہ ان کی حالت میں بہتری آ رہی ہے۔” نداء کی آنکھوں میں امید کی چمک تھی۔

“یہ تو بڑی اچھی خبر ہے۔” حراء نے خوشی سے کہا۔ “اب ہمیں یقین ہے کہ اللہ تمہیں اور تمہارے والد کو مزید آسانیاں عطا کرے گا۔”

“اللہ نے میرے والد کی صحت کے لیے جو دعا قبول کی ہے، اس پر میرا یقین اور بھی مضبوط ہو گیا ہے۔” نداء نے شکر گزاری کے ساتھ کہا۔

کینٹین کی خوشگوار بات چیت کے دوران، حراء نے ایک نیا خیال پیش کیا۔ “نداء، تمہارے والد کی صحت بہتر ہو رہی ہے، اور تمہارے ریسرچ پروجیکٹ میں بھی اچھی پیش رفت ہے۔ کیوں نہ ہم ایک ٹرپ کا پلان بنائیں؟”

نداء نے چونک کر کہا، “ٹرپ؟ لیکن کہاں؟”

“کہیں قریب، جہاں ہم قدرت کے حسین مناظر دیکھ سکیں اور تھوڑا سکون حاصل کر سکیں۔” حراء نے وضاحت کی۔

—

گھر واپس آ کر نداء نے ٹرپ کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔ وہ جانتی تھی کہ حراء اور ثانیہ ٹھیک کہہ رہی تھیں۔ مسلسل کام اور پریشانی نے اسے ذہنی اور جسمانی طور پر تھکا دیا تھا۔

شام کو اس نے والدہ سے مشورہ کیا۔ “امی، کیا آپ کو لگتا ہے کہ مجھے ایک دن کے لیے اپنی دوستوں کے ساتھ باہر جانا چاہیے؟”

“بیٹا، تمہارے والد کی حالت اب بہتر ہو رہی ہے، اور تمہارے لیے تھوڑا سکون ضروری ہے۔” والدہ نے حوصلہ دیا۔

نداء نے ہلکا سا مسکرا کر کہا، “ٹھیک ہے، امی۔ میں کل انہیں بتا دوں گی کہ میں اس پلان کے لیے تیار ہوں۔”

—

اگلی صبح، نداء، حراء، اور ثانیہ نے ایک قریبی جھیل کے سفر کا منصوبہ بنایا۔ نداء نے اپنا بیگ تیار کیا اور

جھیل پر پہنچ کر، سردیوں کی دھوپ میں بیٹھتے ہی نداء نے آنکھیں بند کر کے گہری سانس لی۔ وہ محسوس کر رہی تھی کہ جیسے ہر پریشانی لمحہ بہ لمحہ ختم ہو رہی ہو۔

—

“وہ دن خاص تھا۔ رنگوں قہقہوں سے بھر پور،صبح کے سورج نے جیسے ہی اپنے سنہری رنگ پھیلائے، وہ سب ٹرپ پر نکلنے کے لیے تیار ہو گئے۔ راستے میں خوشگوار موسم، ہنسی مذاق، اور خوشبو بھری ہواؤں نے سفر کو یادگار بنا دیا۔”

“جب وہ جھیل کے کنارے پہنچے، پانی پر تیرتی کشتیوں نے انہیں مسحور کر دیا۔ ہر کشتی اپنے آپ میں ایک چھوٹی دنیا تھی، اور انہوں نے بھی ایک کشتی منتخب کی۔ کشتی کے حرکت کرتے ہی پانی کی ہلکی چھینٹوں نے جیسے انہیں حقیقت سے کہیں دور کسی خیالی دنیا میں پہنچا دیا۔ وہ ہنستے، گاتے اور اپنے دل کی باتیں کرتے ہوئے زندگی کی تازگی محسوس کر رہیں تھیں۔”نداء، دیکھو! یہ جگہ کتنی خوبصورت ہے۔” ثانیہ نے خوشی سے کہا۔

نداء نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، “واقعی، اللہ کی بنائی ہوئی ہر چیز میں سکون اور خوبصورتی ہے۔”

“بوٹنگ کے بعد واپسی پر سب نے فیصلہ کیا کہ شاپنگ مال جایا جائے۔ مال کی جگمگاتی روشنیوں، رنگ برنگے اسٹالز، اور دلکش اشیا نے سب کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ وہ خوشبوؤں، لباسوں، اور یادگار تحفوں کے اسٹالز کا جائزہ لیتیں رہیں، اور آخر کار کچھ تحائف خریدے جو ہمیشہ اس دن کی یاد دلائیں گے۔”

“شاپنگ سے تھکے ماندے سب کو بھوک لگ رہی تھی۔ ایک حلال ریستوران ‘دی فرینڈز کچن’ کا نام سامنے آیا، جس کی اسپیشلٹی ان کے خستہ اور ذائقہ دار چکن تکے اور بیریانی تھی۔ ریستوران کا ماحول نہایت آرام دہ تھا، اور ہر لقمہ ان کی تھکن کو خوشگوار یادوں میں ڈھل رہا تھا۔”
—

ٹرپ سے واپس آ کر نداء نے خود کو پہلے سے زیادہ مضبوط محسوس کیا۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی زندگی میں چیلنجز ہمیشہ رہیں گے، لیکن ان کا سامنا کرنے کے لیے اللہ کا ساتھ اور اپنی محنت اس کے سب سے بڑے ہتھیار ہیں۔

اسی جذبے کے تحت، اس نے اپنی تحقیق کے ایک نئے پہلو پر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ “کمپیوٹر سائنس کی دنیا میں مجھے کچھ ایسا تخلیق کرنا ہے جو دوسروں کی مدد کرے اور معاشرے کے لیے فائدہ مند ہو۔” نداء نے عزم کے ساتھ کہا۔

—

شام کو نداء نے باورچی خانے میں اپنے لیے کچھ خاص تیار کرنے کا سوچا۔ اس نے ایک نئی ڈش بنانے کی کوشش کی: چکن چیز پاستا۔

ڈش تیار کرتے ہوئے اس نے سوچا، “زندگی بھی اس ڈش کی طرح ہے، مختلف اجزاء کو ملا کر ایک بہترین ذائقہ حاصل کیا جا سکتا ہے، بس صبر اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔”

—

رات کو نداء نے اپنا جرنل نکالا اور اپنے دن بھر کے خیالات لکھنے لگی۔

”

“میں نے آج سکون پایا کہ اللہ نے مجھے ہر قدم پر اپنی رحمت کا احساس دلایا ہے۔ میں وعدہ کرتی ہوں کہ اپنے خوابوں کو پورا کرنے اور اپنے والدین کو خوش رکھنے کے لیے مزید محنت کروں گی۔”
نداء نے اپنی جرنلنگ کا اختتام قرآن کی ایک آیت سے کیا:

> “إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنفُسِهِمْ”
> (سورۃ الرعد 13:11)
> “بے شک، اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔”
اس آیت پر غور کیا:
‘لَا يُغَيِّرُ اللَّهُ…’.
اس نے سوچا، ‘اگر ہم چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں کریں، جیسے سکون کو ترجیح دینا، مثبت سوچنا، اور شکر گزار رہنا، تو ہماری زندگی واقعی بدل سکتی ہے۔’ یہ احساس ایک نئی توانائی دے رہا تھا۔ اس دن نے اسے یہ سکھایا کہ حقیقی خوشی کا آغاز دل کے اندر کی تبدیلی سے ہوتا ہے۔”

—

نداء نے اپنی زندگی میں ایک نئی روشنی محسوس کی۔ وہ جانتی تھی کہ ہر آزمائش، ہر کامیابی، اور ہر لمحہ اسے اس کے مقصد کے قریب لے جا رہا ہے۔

—
**جاری ہے۔۔۔**

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں