625

چار باتیں جو آپ کی زندگی بدل سکتیں ہیں

تحریر شئیر کریں

چار باتیں جو آپ کی زندگی بدل سکتیں ہیں۔جانئیے قلم کتاب پر


سیکھنا انسانی جبلت ہے اگر یہ آرٹ انسان کو ودیعت نا کیا جاتا تو وہ کبھی بھی ترقی کی منازل طے کرتا ہو ایہاں تک نا پہنچتا،اس لئے انسانی زندگی کی پہلی ترجیح سیکھنا ہونی چاہیے،حدیث نبوی ﷺ کا مفہوم ہے کہ یا طالب علم بنو اور یا پھر استاد وگرنہ ہلاک ہو جاو گے،اس حدیث پہ غور کرنے سے جو رزلٹ سامنے آتا ہے وہ یہی ہے کہ کسی بھی حالت میں رہو مگر علم یعنی سیکھنا اور سکھانا جاری رکھو۔ذیل میں ان چار امور پہ بات کی جائے گی جن پہ عمل کر کے ہم اپنی زندگی میں انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔

لوگوں کی رائے قبول کیجیے

پہلی بات یہ کہ لوگوں کی رائے کے بارے میں ہمہ وقت تیار رہیں۔زمانے کی آواز نقارہ خدا ہوتی ہے اللہ رب العزت ہمیں لوگوں کی زبان سے ہمیں بتانا چاہتے ہیں کہ یہ یہ نقص یہ یہ خامی تمہارے اندر ہے لہذا تم اسے دور کر کے خود کواشرف المخلوق ہونے کا ثبوت دو
فرض کریں کہ آپ یہ عہد کرتے ہیں کہ آج سے میں نماز پڑھوں گا،لہذا آپ نے اپنے اردگرد کے سب لوگوں کو بتانا ہے کہ میں نے یہ عہد کیا ہے کہ نماز کی پابندی کروں گا لہذا مجھے یاد کرواتے رہنا ہے تاکہ میں بھول نا سکو،اگر آپ اپنے اردگرد کے لوگوں کو مکمل فیڈ بیک کی اجازت دے دیں گے تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ بھول جائیں کیونکہ لوگ یہ کام بڑے شوق سے سرانجام دیتے ہیں۔

عادات کیسے بنائیں جائیں؟

ہمارا رویہ چونکہ نا سیکھنے کا عزم لئے ہوتا ہے اس لئے جو بھی تنقید کرتا ہے ہم بغیر سوچے سمجھے اس سے لڑنے لگتے ہیں اور ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے کہ خود کو اگلے کی نظر سے تھوڑی دیر کے لئے دیکھیں اور پرکھیں کہ آیا یہ خامی جو اگلا بندہ مجھ میں دیکھ رہا ہے واقعتا موجود ہے کہ نہیں؟الٹا ہم لڑنے بیٹھ جاتے ہیں کہ تم ہوتے کون ہو مجھے بتانے والے؟ہونا تو یہ چاہیے کہ جو بندہ آپ کی خامی بتا رہا ہے اس کا شکریہ ادا کریں اور اس کو دور کرنے کی کوشش کریں اور پھر گاہے بگاہے اس سے اپنی اس خامی کے بارے میں دریافت کرتے رہیں کہ کیا ا ب بھی آپ کو میرے اندر وہ خامی دکھائی دیتی ہے اگر دیتی ہے تو کتنیَ؟سیکھنے والی قومیں ہمیشہ خود کو لوگوں کی تنقید کے لئے تیار رکھتی ہیں۔اور لوگوں کی رائے کو وزن دیتی ہیں ان کو اپنی ہتک اور بے عزتی نہیں سمجھتیں۔

اپنا محاسبہ کیجیے

درج بالا پوائنٹ میں ہم نے سیکھا ہے کہ سیکھنے کے بیرونی عوامل ہماری کس طرح سے مدد کر سکتے ہیں اس پوائنٹ میں کہ اپنا محاسبہ کیجیے میں آپ کا اپنا آپ آپ کی کتنی مدد کر سکتا ہے۔اس طریقہ کار میں آپ نے آئینے میں خود کو دیکھنا ہے اور جانچنا ہے کہ میں کہاں صحیح اور کہاں غلط ہوں؟
اس کے لئے بہترین کام یہ ہے کہ دس منٹ صبح اور دس منٹ رات کو خاموشی سے بیٹھ کر اپنے پچھلے بارہ گھنٹوں کا جائزہ لینا ہے کہ ہم نے ان بارہ گھنٹوں میں کیا کیا؟کتنا مچبت رہے کتنا منفی؟کتنا پروڈکٹو رہے اور کتنا
ان پروڈکٹو؟محاسبہ پوائنٹس کو باقاعدہ لکھیے،لکھنے سے زیادہ فوائد حاصل ہوں گے بہ نسبت سوچنے سے،اگر کسی شخص کو یہ ادراک ہونا شروع ہو جائے کہ میں کہاں کہاں غلط ہوں اس کو اپنی خامیاں دکھ جانا ہی اصلاح کا پہلا قدم ہے۔یہ معجزاتی پہلو ہے اس کو عمل میں لانے سے ہم اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں۔

الفاظ کو نا پکڑیں


کبھی بھی کسی شخص کے الفاظ کو نا پکڑیں بلکہ اس کے عمل کو دیکھیں۔مثلا کوئی شخص دوران لڑائی آپ سے کہتا ہے کہ میں تمہاری ٹانگیں توڑ دوں گا اگر ہم نیک نیتی سے ان الفاظ پہ غور کریں تو پتہ چلے گا کہ اس شخص نے کبھی زندگی میں کسی کی ٹانگیں نہیں توڑیں،اور نا ہی اسے توڑنا آتی ہیں اور نا ہی وہ کبھی آپ کی ٹانگیں توڑ سکتا۔مگر مسئلہ یہ ہے کہ کہنے والے کے پاس وہ الفاط نہیں ہیں جن سے وہ آپ کو بتا سکتا کہ بھائی جان مجھے آپ سے یہ پرابلم ہے۔کہ آپ میری توقعات پر پورے نہیں اترے ،چونکہ اسے کہنا نہیں آیا لہذا اس نے یہ کہہ دیا کہ میں آپ کی ٹانگیں توڑ دوں گا۔


جب بھی آپ کسی سے تنگ ہوں تو ایسا ہوتا ہے کہ اس کی زرا سی بات زرا سے الفاظ ہمارے جذبات کو اتھل پتھل کر دیتے ہیں اور ہم ان جذبات کے تحت وہ فیصلے کر بیٹھتے ہیں جو ساری عمر پچھتاوے کا سبب بنتے ہیں۔جیسا طلاق اور قتل جیسے اقدام کے پیچھے آپ کو یہی رویہ دکھائی دے گا۔وہ شخص جو لیڈ کرنے والا ہوتا ہے سربراہ ہوتا ہے وہ کبھی بھی الفاظ کو نہیں پکڑتا۔بلکہ اس کے احساسات جاننے کی کوشش کریں۔اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ آپ اس سے پوچھیں کہ آپ کو گالی کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی یقینا آپ مجھ سے ناراض ہیں آپ مجھے سمجھائیں کہ کیا بات ہے؟جس شخص نے معاشرے میں اصلاح کا کام کرنا ہے وہ کبھی گالی کے بدلے گالی اور بگاڑ نہیں چاے گا بلکہ وہ اس شخص کو بھی معاف کر کے اصلاح کا پہلو تلاشے گا جس نے اسے زک پہنچائی۔نبی کریم ﷺ کا سوہ حسنہ اس چیز کا غمازی ہے،آپ ﷺ نے اصلاح معاشرہ کا کام اسی نکتے کو مدنظر رکھ کر کیا،پتھر کھا کر دعائیں دیں اور نتیجتا جانی دشمن ایسے دوست بنیں کہ رہتی دنیا تک یاد رہے گا۔

پہلے سوچیں بعد میں محسوس کریں

چوتھی اہم بات یہ کہ جب بھی ہمیں کسی ناگوار پہلو کا سامنا ہوتا ہے تو ہم محسوس پہلے کرتے اور سوچتے بعد میں ہیں ،حالانکہ سوچیں پہلے اور محسوس بعد میں کریں۔جو شخص اپنے اندر یہ اہلیت پیدا کر لیتا ہے وہ صورت حال پہ قابو پانے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے۔
درج بالا چار باتیں جو آپ کی زندگی بدل سکتیں ہیں اور ہمیں مثبت اور بھرپور زندگی کی طرف لے جانے میں اہم کردار ادا کر سکتیں ہیں اگر ہم ان باتوں کو اپنے عمل میں ڈھال لیں،آپ جانتے ہیں علم وہی ہے جو عمل میں ڈھل کر کردار سے چھلکتا دکھائی دے۔
چار باتیں جو آپ کی زندگی بدل سکتیں ہیں،آپ نے پڑھی اب ان پہ غور کیجیے اور عمل میں لائیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں