430

کاش ایسا ہوتا

تحریر شئیر کریں

(فیضان فیصل)

کاش ایسا ہوتا بہت خوبصورت احساسات پر مزین تحریر

ہم جس میں بس رہے ہیں، وہ دنیا تمہی تو ہو!

بعض دفعہ دل کرتا ہے کہ کاش حبیبِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان ہوا کرتے۔ جب بھی دل پر شبِ غم چھاتی، میں ان کی طرف چل پڑتا، دروازے پر محوِ انتظار ہوتا۔ آپ نکلتے اور کہتے، فیضان! کس لیے آئے ہو؟! میں عرض کرتا، حضور! اب کارِ جہاں میں دل نہیں لگتا۔ حضور مسکرا کر مجھے اپنی چادر اوڑھا دیتے، جیسے احزاب کی طوفانی رات میں حذیفہ کو اوڑھائی تھی۔

میں کھجور کے اس تنے کی طرح، جو فراقِ حبیب میں قیدِ ضبط تڑا بیٹھا تھا؛ روتا، بلکتا اور جی بھر کر گردشِ دوراں کا شکوہ کرتا۔ آپ مجھے اپنے دامنِ رحمت میں سمیٹ لیتے۔ میں بھی عمیر ہوتا جس کے دل کی چڑیا رخصت ہو چکی ہوتی! حضور پوچھتے، ماذا فعل النغير؟! تیری چڑیا نے کیا کیا؟! اور میں کہتا، آپ کے نام لیواؤں نے اس شاخِ سبز کو اجاڑ دیا جس پر وہ چہچہاتی تھی!

اے آل مغضوب فلسطین ہمارا ہے

کبھی جو فتنوں میں بہتے ہوئے دور نکل جاتا تو حنظلہ کی طرح آپ کے روبرو پیش ہو جاتا۔ یا رسول اللہ! نافق فیضان! فیضان تو منافق ہو گیا! آپ مجھے تسلی دیتے۔ میں کہتا! حضور، میری تو ساری بہار فقط آپ سے ہے، وگرنہ اس کارخانہِ رنگ و بو میں جینے کی کوئی امنگ باقی نہیں رہی! آپ تھپکاتے ہوئے فرماتے، اصبر، إن موعدك الجنة! صبر سے کام لو، یہ چند دن ہیں بس، دائمی مسکن تو جنت ہے!

اگر کبھی بے سکونی کی تنہائیاں دراز ہو جاتیں، روح زخمیدہ ہوتی، میں تڑپ کر مجلسِ نبوت میں پہنچ جاتا۔ آپ میرے چہرے سے بھانپ لیتے، مجھ سے ویسے ہی مخاطب ہوتے جیسے ربیعہ الاسلمی سے ہوئے تھے، سَل ما شئت، فیضان! مانگو کیا مانگتے ہو۔ میری آواز رندھ جاتی، آنکھ سرِ نہاں کو فاش کر دیتی، يا رسول اللہ، دنیا کی رفاقتوں نے تھکا مارا ہے، أسألك مرافقتك في الجنة! بس جنت میں آپ کی رفاقت چاہیے!

سچ مچ کاش ایسا ہوتا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں