427

اے آل مغضوب فلسطین ہمارا ہے

تحریر شئیر کریں

گوگل اور ایپل نے اپنے نقشوں میں فلسطین کو ہٹاکر اسرائیل دکھانا شروع کر دیا۔جس سے پوری امت مسلمہ میں تشویش کی لہر

۔۔۔۔
کبھی اسلام کے نام پر بننے والے واحد ملک جو واحد اہٹمی طاقت بھی ہے کے دارالحکومت میں مسجد گرا کر مندر تعمیر کی سازشیں ہوتیں ہیں۔کبھی کرتار پور راہ داری سے دشمنوں کو راستہ دیا جاتا ہے۔کبھی ختم نبوت کی شق ختم کرنے کے لیے قانون سازی کی جاتی ہے۔تو کبھی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت ڈکلیر کیا جاتا ہے۔کشمیری مسلمانوں کا کرفیو بھی ابھی باقی پے۔کہ ایک اور ستم سامنے آتا ہے
لگتا ہے یہ امت اتنی بانجھ ہو گئ ہے کہ اس نے بہادر اور غیرت مند سپوت جننے بند کر دیے ہیں۔
گوگل نے فلسطین کو ایک مسلم ریاست نہیں بلکہ اسرائیل کا حصہ شو کرنا شروع کر دیا ہے۔ستم بالاۓ ستم۔۔وہ اسرائیل جو اللہ کے نزدیک غضب شدہ قوم ہے۔جس کا قیامت تک کوئی وطن نہیں ہوگا اور وہ اسی طرح بھٹکتے پھریں گے یہ میرے رب کا فیصلہ پے۔اس اسرائیل کی اتنی ہلا شیری کب سے ہوگئ۔۔۔یقینا ہہ ہمارا ضعف ایمان ہے۔جو لے پالک اولاد بھی مالک بننے پہ تلی بیٹھی ہے۔کیا اس امت کا کوئی جری نوجوان کوئی بہادر سلطان ایسا نہیں ہے جو للکار سکے۔جو کہہ سکے کہ اے آل مغضوب فلسطین ہمارا ہے۔مگر کہاں یہ باتیں کہنے کے لیے جگرا چاہیے۔اور ہماری مائیں شاید بانجھ ہو چکیں ہیں۔
مگر قوم میں کچھ لوگ ابھی باقی ہے۔جن کے ایمان ابھی مردہ نہیں ہوۓ وہ چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں گوگل چاہے ساری دنیا کو اسرائیل کا حصہ کہنا شروع کردے پھر بھی فلسطین ہمارا ہے۔ہمارے انبیاء کی سرزمین ہے۔ہماری روشن تاریخ کا حصہ ہے۔یہ نا کبھی اسرائیل کا تھا نا ہے اور نا ہی ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں