467

کرونا، بیداری اور ہم

تحریر شئیر کریں

کرونا، بیداری اور ہم پڑھیے قلم کتاب پر

زندگی جیسی قیمتی شے قیمتی نا رہے۔سانسیں جن سے زندگی عبارت ہے۔مشینوں کی محتاج بن کر رہ جائیں ۔انسان جو انسان کی دوا ہے مفاد کی آماجگا بن جاۓ۔وقت کو پر لگ جائیں۔دن ابھی طلوع ہوا نہیں اور تمام بھی ہوا۔۔بے برکتی اتنی کہ گھر کے سبھی افراد کمائیں مگر پوری نا پڑے۔یہ سب علامات ہیں دور جدید کی جسے ماڈرن عہد کا نام دیا جاتا ہے۔

کرونا وائرس اگرسازش ہے تو بدترین سازش ہے اگر سزا ہے تو بھی چھوٹی سزا نہیں ہے۔کرونا اور سانس کا چولی دامن کا ساتھ ہےجو لوگ اس بیماری کو بھگت چکے ہیں وہ جانتے ہیں۔کہ اس بیماری کا حملہ انسان کی سانسوں پر ہے۔سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ٹھیک ہونے کے بعد بھی سانسیں نارمل ہونے میں وقت لیتی ہیں۔مجھے یوں لگتا کہ انسان اب اپنے آخری سانس لے رہے ہیں۔وقت کو پر لگنا دلیل ہے اس بات کی کہ وہ بھی اپنا چکر پورا کرنے کے در پہ ہے۔کرونا وائرس نے اگرچہ لوگوں کو جگایا ہے مگر روح ابھی تک سو رہی ہے۔آنکھیں کھلی ہیں مگر آنکھوں کا کھلنا درد کی دوا کہاں۔۔۔درد تو روح میں ہے وہی جاگے گی تو بات بنے گی۔کاش کرونا وائرس انسانوں کی بیداری کا سبب بن جاۓ۔اگر ایسا ہو گیا تو سانسوں کا حق ادا ہو جاۓ گا۔

یہ بھی پڑھیے

متعدی بیماریاں اور نبی کریم ﷺ کا طرزعمل

یاد آیا کرونا سے احتیاط ہی واحد علاج ہے مگر پاکستانی تب تک یہ کام نہیں کریں گے جب تک بھگت نا لیں۔یقین کریں ہم وہ قوم ہیں جو سر پہ کھا کر بھی عقل سیکھ لیں تو بڑی بات ہے۔جن لوگوں کی سانسیں چل رہی ہیں وہ شکر ادا کریں کہ مہلت باقی ہے۔روح کو بیدار کریں اس امت کو بڑے پیمانے پر روح کی بیداری کا کام کرنا ہے۔جاگے گے تو بڑے بڑے برج الٹیں گے نئیں تو وقت کسی اور کے پلڑے میں یہ ذمہ داری ڈال دے گا۔جاگو اس سے پہلے کہ دیر ہو جاۓ۔کرونا ،بیداری اور ہم وہ موضوع ہے جس پہ لکھنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں