تحریر :روبینہ شاہین
متعدی بیماریاں اور نبی کریم ﷺ کا طر ز عمل
متعدی کا مطلب ہے ایسی بیماریاں جو ایک مریض سے دوسرے کو لگتییں هیں.مثلا ٹی بی،خسره وغیره اور آج کل کرونا وائرس جیسی نئی بیماری۔جہاں تک میڈیکل سائنس کا کہنا ہے اس کے مطابق تو پرہیز ہی واحد حل هے۔جبکہ اسلامی تعلیمات میں ان بیماریوں کے حوالے سے بڑی جامع تعلیمات ملتیں هیں۔اسلام کا مزاج صرف دنیاوی فائدے کا حصول نهیں بلکه اس کا ایک بڑا مقصد آخروی فلاح بھی هے۔لہذا نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ سے ہمیں بڑے جامع اور واضح احکامات ملتے هیں۔قران مجید میں شفا کے لیے ایک بڑی مشهںور آیت هے حضرت ابراهیم ؑ کے الفاظ جو قرآن میں وارد هوۓ واذا مرضت فھو یشفین ” اور جب میں بیمار هوتا هوں وهی مجھے شفا دیتا هے” اسی طرح حضرت ایوب ؑ کی دعا وا نی مسنی الضر و انت الرحم الراحمین “اور مجھے تکلیف پهنچی هے اور تو ارحم الراحمین هے “
ان دو آیتوں میں بیماری اور شفا کو منجانب الله بیان کیا گیا هے۔نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکه کا مفهوم هے۔”بیماری متعدی نہیں هوتی (بغیر الله کی اجازت سے)بوشگونی الو اورماه صفر کے توہمات کی کوئی حقیقت نهیں۔اور کوڑھ کے مریض سے ایسے بھاگو جس طرح تم شیر سے بھاگتے هو”اس حدیث کے پهلے حصے لا عدوی یعنی کوئی بیماری متعدی نہیں هوتی سے لگتا هے که متعدی بیماری کی نفی کی جارهی هے جبکه کوڑھ کے مریض سے اس طرح بھاگو جس طرح شیرسے بھاگتے هو سے پتا چلتا ہے کہ بیماری متعدی ہو سکتی ہے۔جس کی علماۓ حق نے یه تطبیق کی هے که بیماری متعدی هو سکتی هے لیکن یه تب تک متعدی نهیں بن سکتی جب تک الله نا چا هے اسکی تائید اس حدیث سے بھی هوتی هے آپ ﷺ کے پاس اونٹ لایا گیا جو خارش زده تھا آپ ﷺ نے پوچھا اسے کیا ہوا بتایا گیا کہ اسے کسی اونٹ سے خارش لگ گی هے آپ ﷺ نے پوچھا تو جسے سب سے پہلے لگی وہ کہاں سے لگی تھی۔
درج بالا آیات میں بیماری اور شفا کو الله کی طرف منسوب کیا گیا هے۔جو ظاهر کرتا هے که الله کے اذن کے بغیر کچھ هونے والا نهیں۔۔ایک رواہت ملتی هے جس میں آپ ﷺ نے کوڑھ کے مریض سے بیعت لیتے وقت هاتھ نهیں ملایا۔آج کل ڈاکڑ رتھ فاو جن کی ساری عمر پاکستان میں کوڑھی کے مریضوں کا علاج کرتے گزری کے بارے میں کها جاتا هے که اس انگریز عورت نے تو پرهیز نهیں کیا۔اور کوڑھ کی بیماری اس عورت کو چھوا تک نهیں تو اس کاجواب یه هے که نبی کا عمل حجت هوتا هے۔اور ہمیں وهی کرنا جو همارے نبی نے بتایا۔پرہیز ہی بہتر طرز عمل هے مگر بیماری اپنے اندر کوئی معنی نہیں رکھتی جب تک الله نا چا هے۔ایسا ہوتا تو ڈاکٹرز کا تو زنده رهنا ناممکن هوتا۔ڈاکڑ رتھ فاو نے اپنے طرز عمل سے میڈیکل سائنس کو غلط ثابت کیا۔لیکن همیں بھروسه الله په کرنا هے اور احتیاط بھی کرنی هے جیسا که آپ ﷺ کا فرمان ہے جس علاقے میں طاون پھیل جاۓ اس سے باہر مت نکلو اور جو باہر والے ہیں اس علاقے میں داخل مت هوں۔بہت خوبصورت بات جس کا اطلاق چین نے بھی کیا کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ ہمیں کرونا وائرس سے نہیں ڈرنا بلکه الله سے ڈرنا هے ۔پرہیز بھی کرنا مگر بھروسسہ اللہ کی ذات پر کرنا هے ۔وبائی امراض کے بارے میں روایت هے که جو کوئی اللہ په بھروسه کرتے هوے صبر کے ساتھ گھر میں قیام کرتا هے اور اس حالت میں وه فوت هو جاتا هے تو اسکی موت
شهادت کی موت هے۔