192

کہانی ” جھیل کا راز”

تحریر شئیر کریں

پھولوں سے لدی حسین و جمیل وادی میں نیلگوں جھیل بہتی تھی جس کے کنارے خوشبو بکھیرتے ڈھیروں پھول اگتے تھے۔یہاں ہرنوں کا ایک چھوٹا سا قبیلہ آباد تھا۔ ان میں نرگس نامی ایک ننھی ہرنی سب سے زیادہ پرتجسس اور نڈر تھی۔
نرگس اکثر اپنے قبیلے سے دور جا کر جھیل کے کنارے بیٹھتی، پانی میں اپنا عکس دیکھتی اور سوچتی،
“آخر اس جھیل کے بیچوں بیچ جو چھوٹا سا جزیرہ ہے، وہاں کون رہتا ہے؟”
سب ہرن اسے منع کرتے،
“وہاں مت جانا، نرگس! ہمارے بڑے کہتے ہیں کہ وہاں کوئی جادو چھپا ہے۔”
مگر نرگس کے دل میں سوال تھے، اور سوال ہمیشہ ہمت کو جگاتے ہیں۔
ایک رات جب چاند پورے جوبن پر تھا اور پوری وادی چاندنی میں ڈوبی ہوئی تھی، نرگس دبے پاوں جھیل کے کنارے اتری۔ اس نے اپنے پاؤں پانی میں ڈالے اور اچانک جھیل کے بیچوں بیچ سے ایک چھوٹا سا کشتی نما پھول نمودار ہوا۔ نرگس ڈری نہیں، وہ پھول کی کشتی پر سوار ہو گئی۔ لمحوں میں وہ جزیرے تک پہنچ گئی۔
جزیرے پر ایک زخمی ہنس بیٹھا تھا جس کا پر زخمی تھا۔ وہ بول بھی نہیں پا رہا تھا۔ نرگس نے اپنے منہ سے صاف پتے اٹھائے، پانی پلایا اور اپنے نرم نرم بالوں سے اس کے زخم پر پھونک ماری۔
ہنس کی آنکھوں میں چمک آئی۔
”نرگس! تم وہ پہلی ہو جس نے اس جگہ خوف کی جگہ ہمدردی سے قدم رکھا۔ تم نے میری زندگی بچا کر ایک پرانی پیش گوئی کو سچ کر دیا۔“
نرگس حیران تھی۔ ہنس نے اپنی چونچ سے جھیل میں ایک دائرہ کھینچا۔”دیکھو!“
جھیل کا پانی ہلکا سا چمکا اور پھر وادی کے ہر درخت، ہر پرندے اور ہرن کے بدن سے ایک ایک ہلکی روشنی نکل کر آسمان کی طرف اڑنے لگی۔
”یہ تمہاری نیکی کی روشنی ہے، نرگس! اب یہ وادی ہمیشہ کے لیے روشن رہے گی۔“
نرگس واپس آئی تو سب ہرن حیرت زدہ تھے۔ سب نے اس کی ہمت کو داد دی، اور اب ہر چھوٹا ہرن اپنے دل میں جانتا تھا کہ سچی بہادری طاقت میں نہیں، بلکہ ہمدردی اور سچائی کے ساتھ قدم اٹھانے میں ہے۔
بچو! ہم کتنے ہی چھوٹے ہوں، اگر دل بڑا ہو، نیت سچی ہو، تو ہم بھی کسی کی زندگی بدل سکتے ہیں۔ اور یاد رکھو ! کبھی کبھی سب سے بڑی نیکی، خوف پر قابو پانے میں ہوتی ہے۔

کہانی ” جھیل کا راز”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں