227

 کیا وہ لیلتہ القدر تھی؟

تحریر شئیر کریں

افسانہ

رات اپنی پوری تاریکی کے ساتھ زمین پر اتر چکی تھی۔ چاند آسمان پر موجود تھا، مگر اس کی روشنی دھندلی لگ رہی تھی، جیسے اسے بھی کسی ادھورے سوال کا جواب درکار ہو۔ ستارے بےحس نظر آ رہے تھے، ہوا ساکت تھی، اور اس خاموشی میں ہادیہ کی سسکیاں گونج رہی تھیں۔

جائے نماز پر بیٹھی، آنکھیں بھیگی ہوئی، ہاتھ اٹھے ہوئے، ہادیہ مسلسل دعا مانگ رہی تھی۔ آج 23ویں کی رات تھی… *لیلتہ القدر ہو سکتی ہے

یہی رات تھی جس میں تقدیریں بدلتی تھیں، گناہ معاف ہوتے تھے، اور رحمتیں نازل ہوتی تھیں۔ لیکن کیا واقعی؟

یہ سوال چند دنوں سے اس کے دل میں ہلچل مچا رہا تھا۔

زندگی مشکل تھی۔ ہادیہ ہمیشہ دنیاوی پریشانیوں میں گھری رہتی تھی۔ کبھی مالی مسائل، کبھی رشتوں کے اتار چڑھاؤ، کبھی مستقبل کی غیر یقینی صورتحال… کبھی لگتا تھا جیسے پوری دنیا اس کے خلاف ہو۔ راتوں کو کروٹیں بدلنا، دن بھر پریشان رہنا، دل میں انجانے خدشات لیے جینا… سب کچھ جیسے معمول بن چکا تھا۔ “اگر زندگی ایسی ہی رہی تو کیا ہوگا؟” یہ سوال ہر رات اسے سونے نہیں دیتا تھا۔

پھر ایک دن، ایک عجیب اتفاق ہوا۔

ہادیہ کو اپنے کمرے کی الماری میں ایک پرانی تفسیر ملی۔ گرد سے اٹی ہوئی، جیسے برسوں سے کسی کا انتظار کر رہی ہو۔ بے دلی سے ہی سہی، اس نے اسے کھولا اور پڑھنا شروع کیا۔

جیسے جیسے وہ پڑھتی گئی، قرآن کے الفاظ اس کے دل پر چوٹ لگانے لگے۔

“پھر سوچو، جب ہم ان سب کو اس دن جمع کریں گے، جس میں کوئی شک نہیں!”

“اور اس دن جہنم کو لایا جائے گا!”

ہوا جیسے رک گئی۔ سانس جیسے اٹک گئی۔

یہ سب حقیقت ہے؟

قرآن نے جو منظر کھینچا تھا، وہ خوفناک تھا… لرزا دینے والا!

قبر کی تنگی؟ قبر کا عذاب؟ جہنم کی آگ؟

وہ پڑھتی گئی، اور الفاظ اس کے اندر اترتے گئے۔ وہ جو روزی، نوکری، رشتوں، عزت، مستقبل کی فکریں کرتی تھی، سب کچھ بے معنی لگنے لگا۔

اصل مسئلہ تو کچھ اور تھا!

یہ سب وقتی تھا۔ اصل مسئلہ وہ تھا جو مرنے کے بعد شروع ہونا تھا!

“اگر میزان میں میرا پلڑا ہلکا رہا تو؟”

“اگر قبر میرے لیے جہنم کی کھڑکی بن گئی تو؟”

“اگر قیامت کے دن میرا نام نیک لوگوں میں نہ آیا تو؟”

ہاتھ سے تفسیر چھوٹ گئی۔ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ “میں کہاں کھڑی ہوں؟”

اسی خوف نے ہادیہ کو 27ویں رات جائے نماز پر لا بٹھایا تھا۔

وہ سجدے میں گر گئی۔ کپکپاتے ہونٹوں سے صرف ایک دعا نکلی:

“یا اللہ! معاف کر دے… جہنم سے بچا لے… قبر کے عذاب سے نجات دے دے… آمین!”

آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔

اب اسے نہ نوکری کی فکر تھی، نہ رشتوں کی پیچیدگیوں کا غم، نہ دنیاوی عزت کا سوال… اب صرف ایک سوال تھا: اللہ راضی ہے یا نہیں؟

رات بیت رہی تھی۔ کمرے میں سکون تھا، مگر دل میں طوفان۔

پھر اذانِ فجر کی صدا گونجی۔

ہادیہ نے آنکھیں کھولیں۔ جیسے کسی خواب سے جاگی ہو۔

وہ اٹھی، وضو کیا، اور ایک نئے عزم کے ساتھ جائے نماز پر کھڑی ہو گئی۔

دنیا کی فکریں ختم ہو چکی تھیں، اب ایک ہی فکر باقی تھی—اللہ کی رضا، آخرت کی کامیابی۔

اب صرف ایک دروازہ باقی تھا… آخری دروازہ۔

وہ جائے نماز پر کھڑی ہو کر سوچنے لگی، کیا واقعی آج لیلتہ القدر تھی؟ کہا جاتا ہے کہ یہ رات سکون والی ہوتی ہے، ہوا نرم چلتی ہے، دل کو ایک عجیب سی راحت محسوس ہوتی ہے، اور کتے نہیں بھونکتے… ہادیہ نے غور کیا، واقعی آج سب کچھ ویسا ہی تھا۔ لیکن اگر یہ وہ رات تھی، تو کیا واقعی اس کی تقدیر بدل گئی؟ کیا اس کے گناہ معاف ہو چکے؟ یا یہ بس ایک لمحاتی کیفیت تھی جو صبح ہوتے ہی ختم ہو جائے گی؟
کیا وہ لیلتہ القدر تھی؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں