193

گوشت نہ آیا

تحریر شئیر کریں

گوشت نہ آیا

عید الاضحی کا دوسرا دن تھا۔ محلے کے بچے اپنے ہاتھوں میں پلاسٹک کی تھیلیاں لٹکائے ایک دوسرے کو گوشت دکھا رہے تھے۔

“میرے ابو نے دو بکرے کیے تھے!”
“ہمارے ہاں بیل تھا، اتنا بڑا کہ دروازے سے مشکل سے نکلا!”
“ہم نے پانچ گھروں میں گوشت بانٹا!”

ماہم چپ چاپ کھڑی سنتی رہی، نظریں جھکی ہوئی، دل بھاری۔

“تمہارے ہاں کتنا گوشت آیا، ماہم؟”

وہ چونکی، پھر دھیرے سے بولی:
“ابو بیمار ہیں، امی کے سلائی کے پیسے سے دو وقت کی روٹی مشکل سے پوری ہوتی ہے… بقرہ عید آئی، بس گزر گئی۔”

بچے خاموش ہو گئے۔ چند لمحوں بعد ایک بچی نے اپنی تھیلی اس کے ہاتھ میں تھمائی،
“یہ لے، میری امی نے کہا تھا زیادہ ہو جائے تو بانٹ دینا۔”

پھر دوسری تھیلی، پھر تیسری…

ماہم کے خالی ہاتھ آج خوشی سے بھر گئے تھے۔

ختم شد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں