410

گھرداری سے عاری عورت

تحریر شئیر کریں

گھرداری سے عاری عورت جدید دور کی پہچان بنتی جارہی ہے۔ایسا کیوں؟

سلائی کڑھائی اور نت نئی گھر کی آرائشء اشیاء سویٹر بننے سے لے کر سلائی تک سب کچھ گھروں میں ہوا کرتا تھا۔ہماری دادیاں نانیاں اور امیاں ان چیزوں میں ماہر ہوا کرتیں تھیں۔پھر نا جانے کیسی ہوا چلی ،کیبل آئی پھر انٹرنیٹ اور موبائل نے ہر ہنر اور سلیقہ اچک لیا۔اور بس ایک چیز رہ گئ وہ ہے سکرین سکرین اور سکرین۔۔۔

سکرین ایک ایڈکشن کی طرح نوجوان نسل میں سرایت کر چکی ہے۔تھوڑی دیر کے لیے موبائل ہاتھ میں نا ہو تو نشہ ٹوٹنے لگتا ہے۔اس سکرین کے آنے سے بچیوں کے اندر سے گھر داری کا شوق ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ڈگری کی تلاش میں نکلنے والی بنت حوا کو بخیہ لگانا تک نہیں آتا،حالانکہ یہ عملی زندگی کے وہ کام ہیں جو ہر لڑکی کو آنے چاہیے۔سلائی کڑھائی اور سویٹر بننا یہ وہ کام ہیں جو تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشتے ہیں اور طریقہ سلیقہ سکھانے کے ساتھ ساتھ فوکس کی صلاحیت بھی پیدا کرتے ہیں۔سکرین نے بچوں کو جم کر بیٹھنا تو سکھا دیا مگر کسی ایک جگہ دماغ لگا کر یکسوئی سے کام کرنا نہیں سکھایا۔۔۔یکسوئی سے تخلیقی صلاحیتیں پروان چڑھتیں اور انسان آگے سے آگے بڑھتا اور ترقی کرتا ہے۔دماغ کے کام کرنے کی رفتار بھی بڑھتی۔بدلتے مناظر نے یہ ارتکاز یہ یکسوئی اور فوکس چھین لیا ہے اب بچوں کو کہتے سنیں گے کہ کام میں ہمارا دل نہیں لگتا۔۔۔وہ ٹھیک کہتے ہیں۔قوت یکسوئی سے محرومی نے ان کو ایسا بنا دیا ہے۔ان کو یہ سارے کام فضول اور وقت کا ضیاع لگتے ہیں۔

یوٹیوب نے بہت ساری حقیقتوں سے پردہ اٹھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔جہاں یہ۔سمجھا جاتا تھا کہ یہ کام نانیوں دادیوں کے تھے جب انہی کاموں کو انگریز عورتیں مہارت اور نفاست سے کرتی دکھائی دیتی ہیں۔تو اندازہ ہوتا ہے ہنر اور نفاست صرف مشرقی عورتوں تک محدود نہیں مغربی عورت آج بھی ان مہارتوں سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔جبکہ ہمارے ہاں چار جماعتیں کیا پڑھ جاتیں خود کو ہر چیز سے بری الذمہ سمجھنا شروع کر دیتیں ہیں۔یہ ایک غلط ٹرینڈ ہے اس کو بدلنے کی ضرورت ہے۔گھر داری عورت کی شان ہے۔اسے کام کرنا سکھانا بھی ایک تعلیم ہے۔یہ تعلیم سے الگ نہیں ہے۔بس سکھانے والا ہونا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں