15 رمضان یتیموں کا دن هے۔جانیے قرآن یتیموں کے بارے کیا کہتا ہے۔۔۔جو یتیم کو دھکے دیتا ہے وہ قیامت کے دن کا منکر ہے۔الماعون۔
…….
اسلام دین امن ہے۔جو دوسوں کے حقوق کا سب سے بڑا حامی اور داعی هے۔اسلام نے آگے بڑھ کر یتیموں کےحقوق متعین کیے اور بتایا که ان سے حسن سلوک کا اجر کیا هے؟نبی کریم ﷺ چونکه خود بن باپ کے پروان چڑھے۔۔اس لیے جانتے تھےکہ یتیم کا دکھ کیا ہوتا ہے۔۔یہی وجہ تھی آپ ﷺ ساری عمر یتیموں کے والی رهے۔۔۔همیشه آگے بڑھ کر ان یتیموں کو سهارا دیا۔۔انکے قوانین متعین کیے۔۔۔
……….
رمضان احساس کا مهینه هے۔افطاریاں کروانے سے بات نهیں بنے گی۔۔آپ اس ملک کے شهری هیں جس کا دنیا میں سٹریٹ چلڈرن کے حوالے سے تیسرا نمبر هے۔ اور یہ گلیوں میں پھرنے والے بچے کون هو سکتے هیں۔۔۔جی ہاں ان بچوں کے سر په نا سائباں هے اور نا پاؤں تلے زمین۔۔۔کون باپ ہوگا جو اپنے جگر کے ٹکڑوں کو زمانے کی بے رحم موجوں کے حوالے کر دے۔۔۔
…….
یہ بن باپ کے بچے آپ کی نظر التفات کے منتظر هیں عرف عام میں جن کو یتیم کها جاتا هے۔زندگی کی کڑی دھوپ میں سائباں ان کا بھی اتنا ہی حق هے جتنا آپ کا۔۔
راقمہ لاہور شہر میں سٹریٹ چلڈرن کا ایک سکول کھولنے کا تجربہ رکھتی ہے۔۔اس سکول میں ان بچوں کو لایا جاتا تھا جن کا کوئی پرسان حال نا تھا۔۔ان بچوں میں جھگی والے بچے بھی تھے اور عام گھروں میں رهنے وبلے بھی۔۔کچھ حقائق جو سامنے آۓ ان میں سے ایک۔۔
حکومت ان جھگی میں بسنے والوں کی شناختی کارڑ نهیں بناتی۔ کس زیادتی ہے۔حکومت تو ان کی بھی وارث هوتی جن کا کوئی وارث نهیں ہوتا۔۔پھر ان یتیموں سے ایسا سلوک کیوں؟یتیموں کے اس دن پر میری حکومت سے استدعا هے که وه ان مسکینوں پر نظرثانی کرے۔۔۔
407